نئی دہلی، 26 اگست (یو این آئی) لوک سبھا سکریٹریٹ نے دل بدل مخالف قانون کے تحت نااہلی کی عرضیوں پر ترنمول کانگریس کے 20 باغی اراکینِ پارلیمنٹ کو باضابطہ نوٹس جاری کیے ہیں ذرائع کے مطابق سکریٹریٹ نے اراکینِ پارلیمنٹ سے سات دنوں کے اندر جواب طلب کیا ہے 25 اگست کو جاری کیے گئے یہ نوٹس ترنمول کانگریس اور اس کے لوک سبھا اراکینِ پارلیمنٹ کے باغی دھڑے کے درمیان جاری سیاسی و قانونی تنازع میں کافی اہم ہیں ۔ باغی اراکینِ پارلیمنٹ پارٹی سے الگ ہو کر برسرِ اقتدار قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) سے جڑ گئے ہیں۔
یہ پیش رفت ترنمول کانگریس کے لیڈر اور پارٹی کے جنرل سکریٹری ابھشیک بنرجی کی عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔ مسٹر بنرجی نے باغی اراکینِ پارلیمنٹ کے خلاف 18 جون کو دی گئی نااہلی کی عرضیوں پر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی جانب سے ہو رہی تاخیر اور سستی کو چیلنج کیا تھا۔
لوک سبھا سکریٹریٹ کے نوٹس کے مطابق، اراکینِ پارلیمنٹ سے ‘لوک سبھا رکن (دل بدل کی بنیاد پر نااہلی) ضابطہ، 1985’ کے ضابطہ 7(3) کے تحت اپنی بات رکھنے کےلیئے کہا گیا ہے۔ یہ نوٹس اسی ضابطہ کے ضابطہ چھ کے تحت شروع ہوئی کارروائی میں جاری کیے گئے ہیں۔
نوٹس میں کہا گیا ہے، "لوک سبھا اسپیکر کے غور و خوض کے لیے، اس خط کے ملنے کے سات دنوں کے اندر متعلقہ ضابطہ 7(3) کے تحت عرضی پر اپنی بات رکھیں ۔”
مسٹر بنرجی کی عرضیوں میں نامزد اراکینِ پارلیمنٹ کو یہ نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں ترنمول کے سینئر لیڈر سدیپ بندوپادھیائے اور کاکولی گھوش دستی دار کے ساتھ ساتھ سابق کرکٹر سے سیاست داں بنے یوسف پٹھان اور دیگر شامل ہیں۔
تنازع کا بنیادی نقطہ باغی اراکینِ پارلیمنٹ کا وہ دعویٰ ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ تریپورہ کی ‘نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا’ (این سی پی آئی) سے جڑے ایک الگ پارلیمانی دھڑے میں قانونی طور پر شامل ہو گئے ہیں اور این ڈی اے کے ساتھ آ گئے ہیں۔ وہیں، ترنمول کانگریس نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اراکینِ پارلیمنٹ نے رضاکارانہ طور پر پارٹی کی رکنیت چھوڑ دی ہے، اس لیے آئین کے دسویں شیڈول کے تحت وہ نااہل ٹھہرتے ہیں۔
دسواں شیڈول (دل بدل مخالف قانون) طے شدہ حالات میں قانون سازوں اور اراکینِ پارلیمنٹ کو نااہل ٹھہرانے کا احاطہ کرتا ہے۔ اس میں وہ صورت حال بھی شامل ہے، جب کوئی رکن اس سیاسی جماعت کی رکنیت رضاکارانہ طور پر چھوڑ دیتا ہے، جس کے ٹکٹ پر وہ انتخاب جیتا تھا۔ اس میں انضمام سے جڑے ضابطے بھی ہیں، جن کے تحت آئینی شرائط کو پورا کرنے پر انضمام کو نااہلی سے تحفظ ملتا ہے۔ اس لیے اسپیکر کے سامنے چل رہی اس کارروائی میں بنیادی سوال یہی رہے گا کہ باغی اراکینِ پارلیمنٹ کا یہ نیا اتحاد قانونی طور پر درست انضمام ہے یا ترنمول سے دل بدل۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نوٹس جاری کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اراکینِ پارلیمنٹ کو دل بدل کرنےوالا یا نااہل مان لیا گیا ہے۔ یہ ایک طریقہ کار ہے، جو عرضیوں پر فیصلہ کرنے سے پہلے اراکینِ پارلیمنٹ کو اسپیکر کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا موقع دیتا ہے۔
یہ نئی پیش رفت اس لیے بے حد اہم ہے، کیونکہ دسویں شیڈول کے تحت نااہلی کے معاملات پر فیصلہ کرنے کی اسپیکر کی طاقت عدالتی جانچ کے دائرے میں آتی رہی ہے، خاص طور پر تب جب عرضیوں کو نمٹانے میں تاخیر کے الزامات لگتے ہیں۔
مسٹر بنرجی نے سپریم کورٹ کا رخ کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ 20 اراکینِ پارلیمنٹ کے خلاف دی گئی نااہلی کی عرضیوں پر طے شدہ وقت میں کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ عدالت کی مداخلت نے اس مسئلے اور عرضیوں کو نمٹانے میں اسپیکر کی آئینی و طریقہ کار کی ذمہ داری کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔
ترنمول کانگریس کی راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ ساگریکا گھوش نے ان نوٹسوں کے جاری ہونے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے اسے ادارہ جاتی تاخیر کے بعد ایک اہم قدم بتایا ہے۔
محترمہ گھوش نے ‘ایکس’ پر لکھا، "سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد بالآخر لوک سبھا اسپیکر نے 20 ‘غداروں’ کو نوٹس جاری کر دیا۔ آئین کی کھلی خلاف ورزی کے لیے ان 20 غداروں کو نااہل قرار دیا جانا چاہیے۔”
ترنمول کانگریس مسلسل یہ دلیل دے رہی ہے کہ باغی اراکینِ پارلیمنٹ کا یہ قدم اس پارٹی کو کھلم کھلا چھوڑنا ہے، جس کے انتخابی نشان پر انہوں نے انتخاب لڑا اور کامیابی حاصل کی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ کسی دوسری سیاسی تنظیم کے ساتھ جڑ جانے یا انضمام کا دعویٰ کر دینے سے ہی دل بدل مخالف ضابطے ختم نہیں ہو جاتے۔ دوسری طرف، باغی اراکینِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ ان کی سیاسی تبدیلی کی قانونی بنیاد ہے اور این سی پی آئی نیز این ڈی اے کے ساتھ ان کے لگاؤ کو دسویں شیڈول کے انضمام کے ضوابط کے تحت دیکھا جانا چاہیے۔
اس تنازع کا اثر لوک سبھا میں سیاسی توازن اور عددی طاقت پر بھی پڑے گا۔ اگر یہ 20 اراکینِ پارلیمنٹ نااہل قرار دیے جاتے ہیں تو ترنمول کی رکنیت کی تعداد اور ایوان کے طاقت کے توازن پر اثر پڑ سکتا ہے۔ واقعی نتائج تاہم اسپیکر کے حتمی فیصلے اور ممکنہ عدالتی کارروائی پر منحصر ہوں گے۔
فی الحال، اگلا قدم یہی ہے کہ 20 باغی اراکینِ پارلیمنٹ لوک سبھا سکریٹریٹ کی طرف سے دی گئی سات دنوں کی مہلت کے اندر اپنا جواب داخل کریں۔ نااہلی کی عرضیوں پر فیصلہ کرنے سے پہلے اسپیکر ان جوابات کا مطالعہ کریں گے۔ اس پوری کارروائی پر باریک بینی سے نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف 20 اراکینِ پارلیمنٹ کے مستقبل سے جڑی ہے، بلکہ دل بدل مخالف قانون کی تشریح، انضمام کے ضابطے کے دائرے اور دل بدل کے دعووں پر فیصلہ کرنے میں لوک سبھا اسپیکر کے آئینی کردار سے بھی جڑی ہے۔






