نئی دہلی، 24 اگست (یواین آئی) ملک کی معروف قابلِ تجدید توانائی کمپنی ٹاٹا پاور رینیوایبل انرجی لمیٹڈ (ٹی پی آر ای ایل) نے راجستھان کے بیکانیر واقع کلاسر میں اپنے 190.5 میگاواٹ کے شمسی توانائی منصوبے میں تجارتی پیداوار شروع کردی ہے۔
ٹاٹا پاور کی ذیلی کمپنی ٹی پی آر ای ایل نے پیر کو جاری ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ یہ منصوبہ 460 میگاواٹ کے فرم اینڈ ڈسپیچیبل رینیوایبل انرجی (ایف ڈی آر ای) منصوبے کا حصہ ہے۔ ایس جی وی این ایف ڈی آر ای کے پہلے مرحلے کے تحت تیار کیا گیا یہ 190.5 میگاواٹ کا منصوبہ HPPC، ASEDCL اور NPCL کی بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو بجلی فراہم کرے گا۔
ٹاٹا پاور نے اس منصوبے کو ملک کے صاف توانائی کے سفر میں ایک اور اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بڑے پیمانے پر شمسی توانائی کی پیداوار کو جدید توانائی ذخیرہ کرنے اور گرڈ سپورٹ ٹیکنالوجی کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ اس سے قابلِ اعتماد اور قابلِ تجدید توانائی کی ضرورت کے مطابق بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
منصوبے میں بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS)، ہارمونک فلٹر بینک اور اسٹیٹک VAR جنریٹر جیسی کئی جدید ٹیکنالوجیز کامیابی سے استعمال کی گئی ہیں۔ منصوبے کے لیے سوئچ یارڈ کی تعمیر صرف تین ماہ میں مکمل کی گئی، جبکہ ہارمونک فلٹر بینک بھی ایک ماہ میں تیار کرلیا گیا۔
اس منصوبے کے آغاز کے ساتھ ٹی پی آر ای ایل کی مجموعی قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت بڑھ کر 12.4 گیگاواٹ ہوگئی ہے۔ اس میں تقریباً 6.9 گیگاواٹ صلاحیت فی الحال فعال ہے، جس میں 5.6 گیگاواٹ شمسی توانائی اور 1.3 گیگاواٹ ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کی صلاحیت شامل ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 5.5 گیگاواٹ صلاحیت کے منصوبے مختلف مراحل میں زیرِ تکمیل ہیں، جن میں اگلے دو برس کے دوران مرحلہ وار بجلی کی پیداوار شروع ہونے کی توقع ہے۔










