سرینگر/۲۴؍اگست
جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے سیب کے کاشتکار ریاض احمد خان اس وقت اپنے گزشتہ سال قائم کیے گئے ہائی ڈینسٹی باغ سے پہلی بار گالا قسم کے سیب کی فصل اتارنے میں مصروف ہیں۔ ملک بھر کی فروٹ منڈیوں میں گالا سیب کی مضبوط قیمتوں نے انہیں اچھی آمدنی کی امید دلائی ہے، تاہم سری نگرجموں قومی شاہراہ پر بارشوں کے باعث بار بار پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے انہیں تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔
ریاض نے کہا، ’’میری سیب کی فصل تیار ہے۔ میں گالا شناگا کی کٹائی پہلے ہی کر چکا ہوں اور اب گالا میما کی کٹائی شروع کر دی ہے۔ لیکن مجھے فکر ہے کہ آیا میں اپنی کھیپ بروقت دہلی پہنچا سکوں گا، کیونکہ لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر وجوہات کی بنا پر شاہراہ اکثر بند ہو جاتی ہے۔‘‘
ان کی تشویش پوری صنعت میں پائی جانے والی بے چینی کی عکاس ہے۔ گزشتہ سال سرینگر جموں قومی شاہراہ کی طویل بندشوں سے کشمیر کی سیب کی صنعت کو اندازاً۲ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
ابتدائی اقسام، بالخصوص گالا سیب، کے علاوہ آلو بخارے اور دیگر جلد خراب ہونے والے پھلوں کی کٹائی شروع ہونے کے ساتھ ہی مختلف فروٹ گروورز ایسوسی ایشنوں، سوپور فروٹ منڈی اور کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) نے پھلوں سے لدے ٹرکوں کی محفوظ اور بروقت نقل و حرکت یقینی بنانے کے لیے ایک مخصوص ’’گرین کوریڈور‘‘ کے مطالبے میں شدت پیدا کر دی ہے۔
سوپور فروٹ منڈی کے صدر فیاض احمد ملک، جو بھارت کی سب سے بڑی تھوک فروٹ منڈیوں میں سے ایک ہے، نے کہا کہ مخصوص کوریڈور اور پھلوں سے لدے ٹرکوں کے لیے مقررہ اوقات کا مطالبہ طویل عرصے سے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’حالیہ دنوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہ کی بندش کے علاوہ یک طرفہ ٹریفک بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ حکام کو چاہیے کہ روزانہ مقررہ اوقات میں پھلوں سے لدے ٹرکوں کو چلنے کی اجازت دی جائے تاکہ پیداوار بروقت ملک بھر کی منڈیوں تک پہنچ سکے۔‘‘
فیاض نے بتایا ’’جیسے جیسے کٹائی کا موسم زور پکڑ رہا ہے، سوپور فروٹ منڈی سے روزانہ۷۰ سے۸۰ٹرک روانہ ہو رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت وادی سے روزانہ۴۰۰سے۵۰۰ٹرک تازہ پھل لے کر روانہ ہو رہے ہیں اور کٹائی کا موسم عروج پر پہنچنے کے ساتھ یہ تعداد مزید بڑھنے کی توقع ہے۔
تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کے سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل فیض احمد بٹ نے کہا کہ ٹرکوں کی بڑی تعداد کو مخصوص اوقات یا ترجیحی گزرگاہ کے ذریعے مؤثر انداز میں منظم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’گرین کوریڈور ٹریفک کے ہموار انتظام کو یقینی بنائے گا اور ان غیر ضروری تاخیر سے بچائے گا جو تازہ پھلوں کے معیار اور ان کی مارکیٹ ویلیو کو براہ راست متاثر کرتی ہیں۔‘‘
سیب کی صنعت کشمیر میں لاکھوں خاندانوں کا ذریعہ معاش ہے اور جموں و کشمیر کی معیشت میں سالانہ تقریباً۱۲ہزارکروڑ روپے کا حصہ ڈالتی ہے۔ تقریباً پوری فصل قومی شاہراہ کے ذریعے ملک بھر کی تھوک منڈیوں تک پہنچائی جاتی ہے۔
اس لیے سڑک کا بلا تعطل رابطہ پھلوں کے معیار کو برقرار رکھنے، بروقت منڈیوں تک پہنچانے، قیمتوں میں مسابقت برقرار رکھنے اور کاشتکاروں کی آمدنی کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہے۔ صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ مختصر تاخیر بھی انتہائی جلد خراب ہونے والی ابتدائی اقسام کی مارکیٹ ویلیو میں نمایاں کمی کا سبب بن سکتی ہے، سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے، مال برداری کے اخراجات بڑھا سکتی ہے، لوڈنگ اور اَن لوڈنگ کے اخراجات میں اضافہ کر سکتی ہے، ایندھن اور مزدوری کے اخراجات بڑھا سکتی ہے، کاشتکاروں اور تاجروں کو ادائیگیوں میں تاخیر کا باعث بن سکتی ہے اور کشمیر کی پیداوار پر خریداروں کے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
کے سی سی آئی نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کٹائی کے پورے موسم کے دوران سرینگر جموں قومہ شاہراہ پر پھلوں سے لدے ٹرکوں کو ترجیحی گزرگاہ فراہم کی جائے۔
چیمبر نے ٹریفک پولیس، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی)، بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او)، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ باغبانی کے درمیان قریبی تال میل پر بھی زور دیا ہے تاکہ سڑکوں پر پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جا سکے، موسم سے متعلق رکاوٹوں کے بعد ٹریفک کی فوری بحالی یقینی بنائی جا سکے اور کاشتکاروں، تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کے لیے باقاعدگی سے حقیقی وقت کی ٹریفک اطلاعات جاری کی جا سکیں۔
فیاض اور فیض دونوں نے تاریخی مغل روڈ کو، جو وادی کشمیر کے شوپیاں کو جموں کے پونچھ سے ملاتی ہے، ایک قابل عمل متبادل قرار دینے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیب کی زیادہ تر کھیپیں۱۲ ٹائر اور۱۶ ٹائر والے ٹرکوں کے ذریعے منتقل ہوتی ہیں، جبکہ مغل روڈ چھوٹی گاڑیوں کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
ان کے مطابق قومی شاہراہ ہی کشمیر سے باہر باغبانی کی پیداوار کی ترسیل کے لیے واحد عملی اور معاشی طور پر قابل عمل زمینی راستہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)









