سرینگر/
اپنی پارٹی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے کارکنوں نے پیر کے روز سرینگر میں الگ الگ احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے بجلی کے نرخوں میں ۶ء۸۳ فیصد اضافے کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
اپنی پارٹی کے کارکنوں نے پریس کالونی میں احتجاج کیا، جبکہ پی ڈی پی کارکنوں نے سرینگر میں پارٹی ہیڈکوارٹرز کے باہر مظاہرہ کیا۔
مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے بلند کرتے ہوئے بجلی کے نرخوں میں اضافے کو عام صارفین پر اضافی بوجھ قرار دیا۔
یہ احتجاج مشترکہ بجلی ریگولیٹری کمیشن (جے ای آر سی) کی جانب سے جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں اوسطاً ۶ء۸۳ فیصد اضافے کی منظوری کے بعد کیا گیا ہے۔ نظرثانی شدہ نرخ یکم ستمبر سے نافذ ہوں گے۔
ایک احتجاجی نے کہا کہ بار بار بجلی کے مسائل کا سامنا کرنے کے باوجود لوگ پہلے ہی بھاری بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں۔
ایک موامی خبر رساںکے مطابق، انہوں نے کہا، ’’لوگوں کو راحت دینے کے بجائے حکومت نے بجلی کے نرخ بڑھا دیے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ واپس لیا جائے۔‘‘
ایک اور احتجاجی نے کہا کہ نرخوں میں اضافہ براہِ راست عام خاندانوں کو متاثر کرے گا۔
انہوں نے کہا، ’’یہ اضافہ عام خاندانوں پر براہِ راست اثر ڈالے گا۔ ہم پہلے ہی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث مشکلات سے دوچار ہیں اور بجلی کے بلوں میں اضافہ ہماری مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔ حکومت کو فوری طور پر نرخوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لینا چاہیے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک )









