نئی دہلی، 22 اگست (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ‘وندے ماترم. کے پہلے دو بند گانے کی کانگریس پارٹی کی تجویز کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قومی گیت کو فرقہ وارانہ دباؤ، سیاسی ترغیب یا تنگ نظر ووٹ بینک کی سیاست کے ماتحت کرنے کی ہر کوشش کی مخالفت کرے گی۔ بی جے پی نے کہا ہے کہ کسی پارٹی کی کوئی تجویز آئینی فیصلے یا پارلیمنٹ کے قانون سے اوپر نہیں ہو سکتی۔
بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین نے ہفتہ کے روز ایک بیان میں بتایا کہ پارٹی نے "آج 22 اگست 2026 کو وندے ماترم کے احترام اور اس کی تاریخی وراثت کی حفاظت کے سلسلے میں ایک اہم قرار داد منظور کی۔” انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی 19 اگست 2026 کو کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اس فیصلے کی شدید مذمت اور واضح الفاظ میں مخالفت کرتی ہے جس میں اہم اپوزیشن پارٹی نے 1937 میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی اس تجویز کو دوبارہ منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پروگراموں میں ‘وندے ماترم کے صرف پہلے دو بند تک محدود رکھا جائے گا۔
مسٹر نبین نے کہا کہ "بی جے پی وندے ماترم کوہندستان کا قومی گیت ، بھارت ماتا کے تئیں عقیدت کا اظہار، تحریکِ آزادی کا منتر اورہندستان کے قومی شعور کا نہ مٹنے والا نشان مانتی ہے۔” اس کے لیے بی جے پی نے 10 نکات پر مشتمل عزم کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی 19 اگست 2026 کو کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ذریعہ 1937 کے انداز کو دہراتے ہوئے وندے ماترم کے پہلے دو بند تک محدود کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت اور واضح مخالفت کرے گی۔ بی جے پی مکمل وندے ماترم کے احترام، وقار، میراث اور قومی حیثیت کی حفاظت کرے گی، اسے ہندستان کا قومی گیت ، قومی شعور کا لازوال نشان اور جدوجہدِ آزادی کی شاندار میراث مانے گی۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی 1950 میں آئین ساز اسمبلی کے اعلان نیز 2026 میں پارلیمنٹ کے ذریعہ قومی ترانے کو جن گن من کے مساوی قانونی تحفظ فراہم کیے جانے سے قائم شدہ صورتحال کی مضبوطی سے توثیق کرے گی۔ بی جے پی قومی گیت کو فرقہ وارانہ دباؤ، سیاسی خوشنودی کے حصول یا تنگ نظر ووٹ بینک کی سیاست کے ماتحت کرنے کی ہر کوشش کی مخالفت کرے گی۔ پارٹی کانگریس کو یاد دلائے گی کہ اس کی ورکنگ کمیٹی کی کوئی بھی تجویز ہندستان کے آئینی اداروں اور پارلیمنٹ کے بنائے گئے قوانین سے اوپر نہیں ہو سکتی۔ 1937 کا سیاسی سمجھوتہ 1950 کے آئینی فیصلے اور 2026 میں پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون سے اوپر نہیں رکھا جا سکتا۔
بی جے پی نے یہ بھی عزم کیا ہے کہ وہ عوام کے سامنے اس تاریخی اور سیاسی پس منظر کو اجاگر کرے گی، جس میں وندے ماترم کے گیت کو محدود کیا گیا تھا، جس میں مسلم لیگ کے اعتراضات نیز بعد میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ اور علیحدگی پسند مانگوں کی سیاست شامل تھی۔
پارٹی مہاتما گاندھی کے اس تاریخی قول کو عوام تک پہنچائے گی، جس میں انہوں نے وندے ماترم کو "سامراجیت مخالف نعرہ” اور "پاکیزہ ترین قومی جذبے” سے جڑا ہوا بتایا تھا۔ بی جے پی کارکنوں کے ذریعے ملک گیر مہم چلائے گی، جس کے تحت وندے ماترم کی تاریخ، معنی، قومی اہمیت اور شاندار میراث ہندستان کے ہر کونے تک پہنچائی جائے گی۔
پارٹی کی جانب سے خصوصاً نئی نسل کے درمیان بیداری کی مہم چلائی جائے گی، تاکہ چھ بند پر مشتمل مکمل قومی ترانے اور اس کی تاریخ کو بھولنے نہ دیا جائے اور آنے والی نسلیں سمجھ سکیں کہ وندے ماترم کے ساتھ ہندستان کی آزادی، جدوجہد، قربانی اور قوم کی بیداری کی کتنی گہری یادیں جڑی ہوئی ہیں۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ سیاسی سہولت یا خوشنودی کے لیے وندے ماترم کے احترام اور میراث سے کسی بھی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
پارٹی نے کہا کہ یہ صرف کسی سیاسی پارٹی سے جڑا موضوع نہیں ہے۔ یہ ہندستان کے احترام اور ان بے شمار حب الوطنوں کی میراث کا سوال ہے، جنہوں نے وطن کی آزادی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔
پارٹی اہل وطن سے اپیل کرتی ہے کہ وہ یاد رکھیں – وندے ماترم کے الفاظ کبھی اتنے طاقتور تھے کہ ایک سلطنت ان سے خوفزدہ ہو اٹھی تھی۔ انگریزوں نے انہیں دبانے کی کوشش اس لیے کی کیونکہ ان الفاظ نے مزاحمت کا شعور بیدار کیا تھا۔ نسل در نسل ہندستانیوں نے انہیں آزادی، قربانی اور قومی وقار کے منتر کے طور پر اپنایا۔
مسٹر نبین نے کہا ہے کہ اس میراث کو آج کی ووٹ بینک کی سیاست کے حساب کتاب میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ 1947 میں ہندستان کی آزادی کا نعرہ ‘وندے ماترم’ تھا، اور وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں 2047 کے ‘وکست بھارت’ کا عظیم نعرہ بھی ‘وندے ماترم’ ہی ہوگا۔








