نئی دہلی، 22 اگست (یو این آئی) ہندستانی بحریہ نے کوچین شپ یارڈ لمیٹڈ (سی ایس ایل)، کوچی کے ذریعے تیار کردہ تیسرے آبدوزشکن وارفیئر شیلو واٹر کرافٹ (اے ایس ڈبلیو-ایس ڈبلیو سی) ‘منگرول’ کی ڈیلیوری حاصل کر لی ہے، جو ملک کے ملکی سطح پر جنگی جہازوں کی تعمیر کے پروگرام کی سمت میں ایک اور اہم قدم ہے۔
ساحلی پانیوں میں آپریشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا منگرول لو انٹینسٹی میری ٹائم آپریشنز اور مائن وارفیئر میں مدد کے علاوہ زیرِ آب نگرانی اور آبدوز شکن جنگی مشنوں کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آج یہاں جاری ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس جہاز میں 80 فیصد سے زیادہ ملکی سازوسامان کا استعمال کیاگیا ہے، جو بحری صلاحیت کی ترقی میں داخلی دفاعی مینوفیکچرنگ کے بڑھتے ہوئے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ کرافٹ واٹر جیٹس کے ذریعے چلتا ہے اور عصری ہتھیاروں نیز سینسرز سے لیس ہے، جس میں ٹارپیڈو، انٹی سب میرین راکٹس، جدید رڈار اور سونار شامل ہیں۔ ان نظام کا مقصد کم گہرے پانی کے ماحول میں زیرِ آب خطرات کا پتہ لگانے اور ان کا جواب دینے کی اس کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔
اس جہاز کا نام گجرات کے جوناگڑھ ضلع کے ایک ساحلی قصبے اور چھوٹے بندرگاہ منگرول کے نام پر رکھا گیا ہے، جو اپنی ماہی گیری کی بندرگاہ کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ نام سابقہ آئی این ایس منگرول کی میراث کو بھی بحال کرتا ہے، جو ایک انڈین نیول مائن سویپر تھا اور جس نے 2004 تک خدمات انجام دیں۔
21 اگست کو منگرول کی ڈیلیوری، نیوی کی ملکی سطح پر جہاز سازی کی مسلسل کوششوں کو اجاگر کرتی ہے اور حکومت کی ‘آتم نربھر بھارت’ پہل کے مطابق ہے۔ اس جہاز کو ہندستان کے داخلی دفاعی صنعتی ایکو سسٹم کی وسعت پذیر صلاحیتوں کے مظہر کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔








