نئی دہلی، 22اگست (یو این آئی) جنتر منتر پر مظاہرے کے دوران زخمی ہوئے طالب علم ساحل کی شکایت پر دہلی پولیس نے جمعہ کو ایف آئی آر درج کر لی، تاہم پولیس نے مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا ہے۔
ساحل کا الزام ہے کہ 20 جولائی کو مظاہرے کے دوران پیلٹ گن کے چھروں کی زد میں آنے سے اس کی آنکھ کی بینائی چلی گئی۔ اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے کے مطالبے کو لے کر کانگریس رہنما راہل گاندھی جمعہ کو دوپہر تقریباً 12.30 بجے سنسد مارگ تھانے پہنچے۔ انہوں نے پولیس افسران سے ساحل کی شکایت پر مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ مطالبے پر فوری کارروائی نہ ہونے پر راہل گاندھی نے نئی دہلی کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس سے ملاقات کی۔ بات چیت کا کوئی نتیجہ نہ نکلنے کے بعد وہ تھانے کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ ایف آئی آر درج ہونے تک وہ وہاں سے نہیں ہٹیں گے۔
مسٹر گاندھی کے دھرنے کے بعد شام تقریباً 6 بجے دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج کی۔
دہلی پولیس نے ایف آئی آر میں نامعلوم ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 118 اور 125 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ دفعہ 118 خطرناک ہتھیار یا ذریعے سے جان بوجھ کر چوٹ پہنچانے سے متعلق ہے، جبکہ دفعہ 125 ایسے لاپروائی یا عجلت بھرے فعل سے متعلق ہے، جس سے کسی شخص کی جان یا ذاتی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
پولیس اب معاملے کی جانچ کے ذریعے واقعے کے ذمہ دار افراد کی شناخت کرنے کی کوشش کرے گی









