تہران، 22 اگست (یو این آئی) ایران نے اپنی نئی فوجی صلاحیتوں کو خفیہ رکھنے اور دشمن کے خلاف حیرت کا عنصر برقرار رکھنے کے لیے فوجی سازوسامان کی سرعام نمائش اور رونمائی سے گریز شروع کر دیا ہے۔
ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان رضا طلائی نیک نے کہا کہ گزشتہ اور رواں سال دفاعی صنعت کے دن کے موقع پر فوجی نمائش منعقد نہ کرنے اور ہتھیاروں کی رونمائی میں بڑی حد تک کمی کرنے کی ایک اہم وجہ دشمن کو حیران کرنا اور دفاعی معلومات و رازوں کا تحفظ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا، "دشمن کو حیران کرنا اور دفاعی معلومات اور رازوں کا تحفظ” اس پالیسی کی بنیادی وجوہات میں شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایرانی فوجی کمانڈروں کو بیلسٹک اور کروز میزائلوں، ڈرونز، فضائی دفاعی نظام اور دیگر ہتھیاروں میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں مسلسل بریفنگ دی جا رہی ہے، تاہم وزارت دفاع نے ان صلاحیتوں سے متعلق عوامی سطح پر جاری کی جانے والی معلومات میں نمایاں کمی کر دی ہے۔
طلائی نیک نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایران میں ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی مجموعی پیداوار دوگنی ہو گئی ہے، جبکہ جنگ کے دوران درکار بعض اسٹریٹجک ہتھیاروں کی پیداوار میں تین گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ تہران آئندہ مجموعی ہتھیاروں کی پیداوار کو تین گنا کرنے کا ہدف رکھتا ہے، جبکہ بعض اقسام کے ہتھیاروں کی پیداوار میں چار سے پانچ گنا تک اضافہ کیا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق ایران جنگ کے میدان میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کو تقریباً اسی رفتار سے دوبارہ تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس رفتار سے وہ استعمال ہو رہے ہیں۔ ان کے بقول اس حکمت عملی میں موجودہ ذخائر کے ساتھ ساتھ مسلسل پیداوار جاری رکھنا شامل ہے۔
طلائی نیک نے ایرانی دفاعی صنعت کو مسلح افواج، جامعات، تحقیقی اداروں اور ہزاروں نجی و علم پر مبنی کمپنیوں پر مشتمل ایک وسیع اور منتشر نیٹ ورک قرار دیا۔
ان کے مطابق ملک کے دفاعی شعبے میں استعمال ہونے والے تقریباً دو تہائی پرزے، نظام اور خام مال اسی وسیع نیٹ ورک کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران دفاعی شعبے کے ساتھ تعاون کرنے والی نجی کمپنیوں کی تعداد تقریباً 8,000 سے بڑھ کر 9,300 سے زیادہ ہوگئی ہے، جبکہ تعاون کے حجم میں تقریباً 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض ایرانی ساختہ ہتھیاروں کی قیمت اسی نوعیت کے غیر ملکی نظاموں کے مقابلے میں دسواں سے بیسواں حصہ تک ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ہتھیاروں یا غیر ملکی نظاموں کا تقابل کیا گیا ہے۔










