بیروت، 22 اگست (یو این آئی) عالمی بینک نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع کے باعث لبنان کی معیشت میں اس سال 6.4 فیصد سکڑاؤ متوقع ہے، جس سے ملک میں جاری معاشی بحالی کا عمل ایک بار پھر شدید بحران کا شکار ہوگیا ہے۔
عالمی بینک کی سمر 2026 لبنان اکنامک مانیٹر رپورٹ کے مطابق لبنان کی معیشت نے 2019 کے مالیاتی بحران کے بعد 2025 میں 4.2 فیصد حقیقی جی ڈی پی نمو حاصل کی تھی، جو اس عرصے کی بلند ترین شرح تھی، تاہم مارچ 2026 میں تنازع میں اضافے نے اس بحالی کو شدید متاثر کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنازع کے نتیجے میں رہائشی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو مزید نقصان پہنچا، آبادی کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی، سپلائی چین متاثر ہوئی جبکہ سیاحت اور ملکی طلب میں بھی نمایاں کمی آئی۔
عالمی بینک کے مطابق 2026 میں حقیقی جی ڈی پی میں 6.4 فیصد کمی متوقع ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں سیاحت کا بحران، کمزور کھپت، سپلائی چین میں رکاوٹیں، بڑھتا ہوا عدم تحفظ اور طویل عرصے تک جاری رہنے والی نقل مکانی شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لبنان میں صارفین کی قیمتوں پر بھی دوبارہ دباؤ بڑھ رہا ہے اور مہنگائی کی شرح 17.5 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ عالمی بینک نے اس کی وجہ سپلائی میں رکاوٹوں، شپنگ کے بڑھتے اخراجات اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو قرار دیا۔
عالمی بینک کے مشرق وسطیٰ کے شعبے کی ڈویژن ڈائریکٹر دالیہ خلیفہ نے کہا کہ بینکاری شعبے میں اصلاحات، مالیاتی انتظام اور دیگر ضروری اقدامات کو آگے بڑھانا اعتماد بحال کرنے، معاشی استحکام کے تحفظ اور تعمیر نو و بحالی کے لیے درکار مالی وسائل حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
لبنانی پارلیمنٹ نے حال ہی میں بینکوں سے متعلق قانون میں اہم ترامیم منظور کی ہیں، جن کا مقصد ناکام مالیاتی اداروں کی تنظیم نو اور ملک کے وسیع تر مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی قانون سازی میں ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے لبنان کی جانب سے بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مطابق قوانین بنانے کی سمت میں اہم قدم قرار دیا ہے۔
آئی ایم ایف نے بتایا کہ وہ آئندہ ماہ بیروت میں لبنانی حکام کے ساتھ تکنیکی مذاکرات دوبارہ شروع کرے گا تاکہ مزید معاشی اور ساختی اصلاحات کا جائزہ لیا جا سکے۔
سابق لبنانی وزیر معیشت و تجارت الین حکیم نے کہا کہ خطے میں موجودہ افراتفری کے باوجود لبنان میں معاشی استحکام ممکن ہے، تاہم قلیل مدت میں یہ استحکام صرف معاشی عوامل پر نہیں بلکہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر بھی منحصر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد معاشی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہونے کی توقع ہے، خصوصاً نجی شعبے اور انفرادی کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے۔










