واشنگٹن، 21 اگست (یو این آئی) امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے جمعرات کو کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں ایک ’’نئے مرحلے‘‘ میں داخل ہوچکا ہے، جس میں معاشی دباؤ واشنگٹن کے مقاصد حاصل کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ بن گیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر پابندیاں مزید سخت کردی ہیں اور سفارتی کوششیں بدستور تعطل کا شکار ہیں۔
وانس نے دی کلی ٹریوس اینڈ بک سیکسٹن شو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’’اب ہم ایک طرح سے نئے مرحلے میں ہیں، جہاں ہمارے پاس سب سے مؤثر ذریعہ وہ معاشی دباؤ ہے جو ہم ان پر ڈال سکتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہم یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔‘‘
وانس نے کہا کہ واشنگٹن امریکی صارفین پر توانائی کی بلند قیمتوں کا دباؤ کم کرنے کے لیے تیل اور گیس کی سپلائی بھی بڑھانا چاہتا ہے، جبکہ اس اضافی معاشی طاقت کو ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنے پر مجبور کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔انہوں نے کہا، ’’اگر ہم اتنا تیل اور گیس فراہم کرسکیں کہ کچھ امریکیوں کو پٹرول پمپ پر اور توانائی کی قیمتوں میں کچھ ریلیف ملے،‘‘ تو اس سے ایران پر ’’بہت زیادہ معاشی دباؤ‘‘ بھی پڑے گا اور اس کے فیصلوں پر اثر پڑے گا۔
وانس نے تسلیم کیا کہ اس حکمت عملی میں ’’ایک نازک توازن‘‘ برقرار رکھنا ہوگا، کیونکہ ایران جوابی کارروائی کے طور پر امریکہ پر بھی معاشی دباؤ ڈالنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ تاہم، ان کے مطابق واشنگٹن کا خیال ہے کہ مسلسل معاشی دباؤ ایران کو اپنی جوہری صلاحیت دوبارہ بحال کرنے سے روکنے کے حتمی مقصد کی جانب بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔
وانس کا یہ بیان امریکی محکمہ خزانہ کے آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول (او ایف اے سی ) کی جانب سے ایران سے متعلق پابندیوں کی فہرست میں مزید 10 افراد کو شامل کیے جانے کے کچھ ہی دیر بعد سامنے آیا۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ واشنگٹن ایران پر ’’تاریخ کی سخت ترین پابندیاں‘‘ عائد کرے گا اور اس مہم کو امریکی اتحادیوں کے ساتھ مربوط کرنے کی کوشش کرے گا۔
بیسنٹ نے امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’معاشی دباؤ کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے تمام اتحادیوں کے پاس جائیں گے، اور یہ دنیا کی تاریخ میں سب سے بڑی مربوط معاشی تنہائی کی مہم ہوگی۔‘‘
معاشی دباؤ میں یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے خلاف مزید سخت پابندیوں کی دھمکی دی ہے، جبکہ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اس کا فوجی ردعمل زیادہ شدید ہوسکتا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ نے ٹرمپ کی جانب سے وسیع تر معاشی مہم کی دھمکی کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ان اقدامات کا حکم دینے یا انہیں نافذ کرنے والے افراد کے خلاف مقدمات چلائے جاسکتے ہیں اور انہیں سزا دی جاسکتی ہے۔










