نئی دہلی، 21 اگست (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی پیلٹ گن سے زخمی ساحل لوچب کے معاملے میں جمعہ کو ایف آئی آر درج کرانے کے مطالبے کے حق میں یہاں پارلیمنٹ اسٹریٹ میں ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) کے دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے اور وزیر داخلہ امت شاہ سے پوچھا کہ وہ انصاف کرنے سے ڈرتے کیوں ہیں۔
راہل اس سے پہلے ساحل لوچب کے ساتھ مندر مارگ پولیس اسٹیشن پہنچے اور ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا لیکن پولیس کے معاملہ درج کرنے سے انکار کے بعد وہ ڈی سی پی کے دفتر پہنچے اور وہاں بھی ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ کی۔ راہل نے کہا کہ جب تک ایف آئی آر درج نہیں ہوگی، وہ وہاں سے نہیں ہٹیں گے۔ کانگریس ذرائع کے مطابق ساحل نے 14 اگست کو اپنے وکلاء کے ساتھ دہلی پولیس کو تحریری شکایت دی تھی لیکن پولیس نے شکایت کا انویسٹی گیشن آفیسر (آئی او) نمبر اور رسید نہیں دی۔ اس کے بعد 17 اگست کو ای میل اور فون کے ذریعے بھی شکایت پر کارروائی کی مانگ کی گئی، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
راہل نے بعد میں سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر مکمل تفصیلات دیتے ہوئے لکھا، "آج ساحل لوچب کے ساتھ، ان کے ساتھ ہوئی پولیس بربریت کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے پارلیمنٹ اسٹریٹ کے ڈی سی پی دفتر پہنچا۔ جنتر منتر پر 20 جولائی کو پرامن احتجاج کر رہے ساحل پر پولیس نے پیلٹ گن سے حملہ کیا، جس سے ان کی ایک آنکھ کی بینائی خطرے میں ہے۔ پرامن احتجاج کے خلاف ایسی بربریت کوئی قانونی کارروائی نہیں، بلکہ سنگین جرم ہے۔” راہل نے الزام لگایا کہ اس بربریت کے لیے نہ وزیر داخلہ شاہ نے طلباء کو کوئی صفائی دی اور نہ وزیراعظم نریندر مودی نے ان سے معافی مانگی۔ انہوں نے امت شاہ سے سوال کیا، "انصاف سے اتنا کیوں گھبرا رہے ہیں؟”
انہوں نے کہا کہ ساحل انصاف کے لیے ایف آئی آر درج کرانا چاہتا ہے، لیکن اسے بھی نہیں کرنے دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس طرح آئین اور آئینی حقوق کو کچلا جا رہا ہے۔ راہل نے کہا، "ایف آئی آر ہوگی۔ عدالتی جانچ ہوگی اور اوپر سے نیچے تک جو بھی اس بربریت کے قصوروار ہیں، ان تمام پر کارروائی ہوگی۔ ساحل اور اس جیسے ہر متاثرہ طالب علم کو انصاف دلا کر رہیں گے۔”










