سرینگر میں ۲۵ کروڑ ۸۷ لاکھ روپے کی لاگت سے جدید میکانائزڈ مذبح خانے کا سنگ بنیاد رکھنا ایک اہم شہری ضرورت کی تکمیل کی جانب قدم ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آلّوچی باغ میں جس منصوبے کی بنیاد رکھی ہے، اس کی یومیہ گنجائش تقریباً پانچ ہزار بھیڑوں اور بکریوں کو سائنسی اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق ذبح کرنے کی ہوگی۔ منصوبے میں ذبح، گوشت کی صفائی، بھیڑوں کی منتقلی، ٹھنڈا کرنے، کولڈ اسٹوریج، صفائی ستھرائی، ضمنی مصنوعات کی نگرانی اور فضلے کے سائنسی انتظام سمیت متعدد جدید سہولیات شامل ہوں گی۔ بایو ڈائجیشن نظام اور ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں، جن کے ذریعے نامیاتی فضلے اور گندے پانی کو سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگانے کی کوشش کی جائے گی۔
تاہم اس منصوبے کی اصل اہمیت صرف اس کی جدید مشینری، بڑی گنجائش یا تعمیراتی لاگت میں نہیں بلکہ اس بنیادی مقصد میں ہے کہ سرینگر کے شہریوں کو ایسا گوشت دستیاب ہو جس کے بارے میں یہ اطمینان ہو کہ اسے صحت اور صفائی کے مقررہ اصولوں کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جس کی طرف گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل توجہ دلانے کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے۔
۱۹۹۰ کی دہائی سے قبل کشمیر میں سرکاری مذبح خانوں کا ایک باقاعدہ نظام موجود تھا۔ بھیڑ یا بکری کو ذبح کرنے سے پہلے اس کا معائنہ کیا جاتا تھا اور طبی نقطۂ نظر سے جانچا جاتا تھا کہ جانور صحت مند ہے یا کسی بیماری میں مبتلا۔ تسلی کے بعد ہی اسے ذبح کرنے کی اجازت دی جاتی اور پھر گوشت قصابوں کے ذریعے صارفین تک پہنچتا تھا۔ یہ نظام محض ایک انتظامی کارروائی سے زیادہ صحتِ عامہ کے تحفظ کا ایک بنیادی ذریعہ تھا۔
وادی میں مسلح شورش کے آغاز کے بعد حالات نے زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کیا۔ سرکاری مذبح خانوں کا باقاعدہ نظام بھی رفتہ رفتہ ختم ہوگیا۔ اس کے نتیجے میں گوشت کی فراہمی کا عمل زیادہ تر غیر منظم ذرائع پر منحصر ہوتا گیا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ کئی رہائشی علاقوں میں قصاب اپنے گھروں یا دکانوں کے قریب ہی جانور ذبح کرتے ہیں۔ اس عمل میں نہ ہر جانور کا باقاعدہ طبی معائنہ یقینی ہے، نہ ذبح کے لیے مناسب ماحول، نہ فضلے کو ٹھکانے لگانے کا سائنسی انتظام اور نہ ہی صارف کو یہ یقین دلانے کا کوئی مؤثر طریقہ کہ اس کے سامنے فروخت کیا جانے والا گوشت انسانی استعمال کے لیے محفوظ ہے۔
یہ صورتحال صرف صفائی کا مسئلہ نہیں بلکہ براہ راست انسانی صحت کا معاملہ ہے۔ بیمار جانور کا گوشت انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح غیر صاف ماحول میں ذبح، گوشت کی نامناسب ذخیرہ کاری، آلودہ پانی کا استعمال اور جانوروں کے فضلے کو کھلے عام پھینکنا مختلف بیماریوں اور ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے مذبح خانے کا تصور محض جانور ذبح کرنے کی جگہ تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے خوراک کے پورے حفاظتی نظام کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔
اس اعتبار سے سرینگر میں جدید مذبح خانے کا قیام ایک خوش آئند فیصلہ ہے۔ اگر منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل ہوتا ہے اور اسے واقعی اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس کے لیے اسے قائم کیا جارہا ہے تو اس سے نہ صرف گوشت کی صفائی اور معیار بہتر ہوسکتا ہے بلکہ شہر میں غیر سائنسی اور غیر صحت بخش طریقے سے جانور ذبح کرنے کے رجحان پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ کیا صرف ایک مذبح خانہ سرینگر جیسے بڑے شہر کی ضروریات پوری کرسکتا ہے؟ پانچ ہزار جانور روزانہ ذبح کرنے کی گنجائش یقیناً قابل ذکر ہے، لیکن شہر کی آبادی، گوشت کی طلب اور مستقبل کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے حکومت کو ابھی سے ایک جامع منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ صرف ایک بڑے منصوبے کی تعمیر کرکے یہ توقع رکھنا کہ پورے شہر میں غیر قانونی یا غیر منظم ذبح کا سلسلہ خود بخود ختم ہوجائے گا، شاید حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ سرینگر کے مختلف حصوں میں مناسب تعداد میں باقاعدہ اور منظور شدہ مذبح خانے قائم کیے جائیں تاکہ قصابوں اور گوشت فروشوں کو قانونی اور آسان متبادل دستیاب ہو۔ اگر سرکاری سہولت شہریوں اور قصابوں کی ضرورت کے مطابق دستیاب نہ ہو تو غیر رسمی نظام کے خاتمے کی کوششیں مؤثر ثابت نہیں ہوں گی۔ یہی اصول وادی کے دوسرے اضلاع پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اننت ناگ، بارہمولہ، بڈگام، پلوامہ، کپواڑہ، بانڈی پورہ، گاندربل، کولگام، شوپیاں اور دیگر علاقوں میں بھی مقامی ضروریات کے مطابق جدید یا کم از کم سائنسی اصولوں کے تحت چلنے والے مذبح خانوں کی ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ حکومت کو نگرانی کا مضبوط نظام بھی قائم کرنا ہوگا۔ مذبح خانے کی تعمیر کافی نہیں، اس کے مؤثر آپریشن کے لیے تربیت یافتہ ویٹرنری عملہ، باقاعدہ معائنہ، صفائی کا نظام، گوشت کی ترسیل کے لیے مناسب گاڑیاں، کولڈ چین اور قصابوں کی رجسٹریشن ضروری ہوگی۔ رہائشی علاقوں میں جانور ذبح کرنے پر مؤثر پابندی اسی وقت ممکن ہے جب متبادل سہولت، نگرانی اور قانون کا نفاذ تینوں ایک ساتھ موجود ہوں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ اس پورے عمل میں قصاب برادری کو محض پابندیوں کا سامنا کرنے والا فریق نہ سمجھا جائے۔ انہیں جدید مذبح خانے کے نظام سے جوڑنے، تربیت دینے اور مناسب سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت قصابوں کے ساتھ مشاورت سے نظام تشکیل دے گی تو اس پر عمل درآمد زیادہ آسان اور دیرپا ہوگا۔
سرینگر کا نیا مذبح خانہ اس لحاظ سے ایک آغاز ہے، اختتام نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب شہر کا ہر شہری یہ اعتماد محسوس کرے کہ بازار سے خریدنے والا گوشت صحت کے بنیادی معیار پر پورا اترتا ہے۔ حکومت کو اس منصوبے کو ایک الگ تعمیراتی منصوبے کے بجائے پورے کشمیر میں محفوظ اور سائنسی گوشت کی فراہمی کے وسیع تر نظام کی پہلی کڑی بنانا چاہیے۔
امید کی جانی چاہیے کہ جدید مذبح خانہ مقررہ وقت پر مکمل ہوگا، پوری صلاحیت کے ساتھ فعال ہوگا اور اس کے ساتھ رہائشی علاقوں میں غیر سائنسی ذبح کا سلسلہ بھی مرحلہ وار ختم کیا جائے گا۔ اس کے بعد اگلا قدم واضح ہونا چاہیے: سرینگر میں مزید مناسب مراکز اور وادی کے ہر ضلع میں ضرورت کے مطابق جدید مذبح خانے۔
صحتِ عامہ کے معاملے میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔ جو گوشت ہر روز ہزاروں خاندانوں کی خوراک کا حصہ بنتا ہے، اس کی صحت، صفائی اور معیار کو محض کاروباری معاملہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری اور شہریوں کا بنیادی حق ہے۔ سرینگر میں نئے مذبح خانے کی بنیاد اسی ذمہ داری کی طرف ایک اہم قدم ہے؛ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس قدم کو ایک جامع، مؤثر اور مستقل نظام میں تبدیل کیا جائے۔





