سرینگر/ ۲۰ ؍اگست
وفاقی دارالحکومت نئی دہلی میں واقع پاکستانی ہائی کمیشن کی عمارت کے باہر بنے کچھ عارضی ڈھانچوں کو تجاوزات قرار دے کر گِرا دیا گیا ہے۔
دو خبر رساں اداروں ’پریس ٹرسٹ آف انڈیا‘ اور ’اے این آئی‘ کے مطابق متعلقہ انڈین حکام نے پاکستانی ہائی کمیشن کے ویزا سیکشن کے باہر موجود تجاوزات کو گِرایا گیا ہے۔
میڈیا نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ اسلام آباد میں بھی پاکستانی حکام نے انڈین ہائی کمیشن کے باہر سے تجاوزات ہٹائی تھیں۔
اُدھر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے سینئر اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اُردو کو تصدیق کی ہے کہ گذشتہ دنوں ڈپلومیٹک انکلیو میں تجاوزات ہٹانے کی کارروائی کی گئی تھی جس دوران انڈین ہائی کمیشن، مصری سفارتخانے اور اقوام متحدہ کے فوڈ آفس کے باہر سے تجاوزات کو ہٹا دیا گیا ہے۔
تاحال اس حوالے سے پاکستان اور انڈیا کی وزارت خارجہ کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
’اے این آئی‘ کی رپورٹ کے مطابق دلی میں حکام نے ٹریفک بولارڈز اور دیگر ایسی رکاوٹیں ہٹائی ہیں جو پاکستان کے سفارتی کمپاؤنڈ کے باہر نصب تھیں۔
اسی طرح پاکستانی ہائی کمیشن آنے والے وزیٹرز کے لیے بنائے گئے ڈھانچے بھی ہٹائے گئے ہیں۔ تجاوزات کے خلاف ہونے والے اس آپریشن سے متعلق ’اے این آئی‘ نے کچھ ویڈیوز بھی جاری کی ہیں۔
جبکہ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ جو ڈھانچے گرائے گئے ہیں وہ پاکستانی ہائی کمیشن کو مختص کی گئی زمین کے باہر بنائے گئے تھے۔
ایجنسی نے ہائی کمیشن کے باہر کی ایک تصویر شائع کی ہے جس میں ٹِن کی چادریں، لوہے کی ریلنگ اور لکڑی کے کچھ ڈھانچے اور دیگر ملبے کو زمین پر پڑا دکھایا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق یہ کارروائی پاکستانی ہائی کمیشن کے ویزا سیکشن کے احاطے کی جانب کی گئی ہے۔
’اس طرف کئی کھڑکیاں بنی ہوئی ہیں۔ ان کھڑکیوں پر ویزا درخواستیں جمع کی جاتی تھیں۔ لوگوں کو قطار میں کھڑا کرنے کے لیے ریلنگ لگائی گئی تھی اور اوپر ٹِن کا شیڈ تھا۔ اب یہ سبھی گرا دی گئی ہیں۔ جب دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر تھے، ان دنوں یہاں ویزا لینے والوں کی بھیڑ جمع رہتی تھی۔‘
اے این آئی نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انڈین حکام نے ایسا اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن کے باہر موجود پارکنگ پول ہٹانے کے جواب میں کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔ (ویب ڈیسک )










