واشنگٹن، 19اگست (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہندوستان کے انتخابی نظام کو امریکہ کے لیے ایک بہترین نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں ووٹنگ کے لیے فوٹو شناختی دستاویز کا استعمال کیا جاتا ہے اور ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے پر انحصار محدود ہے۔ انہوں نے کانگریس سے ووٹنگ کے قوانین سخت کرنے کے لیے قانون سازی کی اپنی اپیل ایک بار پھر دہرائی۔
ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد ہندوستان کا انتخابی نظام امریکہ میں ووٹر تک رسائی، انتخابی سلامتی اور ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے استعمال سے متعلق جاری متنازع بحث کا حصہ بن گیا ہے۔
سیو امریکہ ایکٹ سینیٹ میں تعطل کا شکار ہے، جبکہ ٹرمپ اور ان کے ریپبلکن اتحادی 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹنگ کے قوانین سخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ہندوستان کے 2024 کے عام انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 64 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ افراد نے ووٹ دیا اور ایک فیصد سے بھی کم ووٹ ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے امریکی حکام سے سوال کیا تھا کہ امریکہ میں لازمی فوٹو شناخت کے بغیر انتخابات کیسے کرائے جا سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے لکھا، ’’اس ماہ کے آغاز میں ہندوستان کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ہماری انتظامیہ سے پوچھا—آپ امریکہ میں درست فوٹو شناخت کے بغیر انتخابات کیسے کرا سکتے ہیں؟‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہندوستان کے گزشتہ انتخابات میں 646,000,000 ووٹرز تھے! ایک فیصد سے بھی کم نے ڈاک کے ذریعے ووٹ دیا اور ہر ووٹر کے لیے درست فوٹو شناختی دستاویز لازمی تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہمیں اب سیو امریکہ ایکٹ منظور کرنا ہوگا۔‘‘
ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ان کی انتظامیہ Safeguard American Voter Eligibility (SAVE) Act کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت ووٹر رجسٹریشن کے لیے شہریت کا دستاویزی ثبوت پیش کرنا اور وفاقی انتخابات میں ملک گیر ووٹر شناختی نظام نافذ کرنا ضروری ہوگا۔










