سرینگر/۱۵ ؍اگست
سرینگر کا تاریخی لال چوک ہفتہ کے روز اُس وقت جشن کے رنگ میں ڈوب گیا جب سیکڑوں سیاحوں نے معروف گھنٹہ گھر کے سامنے بھارت کا۸۰ واں یومِ آزادی منایا۔
جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر کے اس معروف چوراہے پر بڑی تعداد میں سیاح جمع ہوئے۔ کبھی علیحدگی پسند بیانیے کی علامت سمجھے جانے والے لال چوک کو آج ترنگوں سے سجا دیا گیا تھا۔
ممبئی سے پہلی بار کشمیر آنے والی سیاح نیٹرا گُرجَر نے کہا کہ یہاں آنا ان کے لیے درست فیصلہ ثابت ہوا۔انہوں نے پی ٹی آئی ویڈیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ میری پہلی بار کشمیر آمد ہے۔ ہم سات دن سے کشمیر میں ہیں۔ لال چوک بھی ہمارا یہاں پہلا دورہ ہے۔ اور اگر آپ دیکھیں تو یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ہم کہیں یومِ آزادی منا رہے ہیں۔‘‘
گُرجَر نے بتایا کہ ان کے خاندان کی خواہش تھی کہ وہ لال چوک کے ماحول کا خود مشاہدہ کریں اور وہ یہاں آکر مایوس نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا، ’’کشمیر پہلے کے مقابلے میں بہت بدل گیا ہے۔ یہاں آنے سے پہلے ہمیں بھی خوف محسوس ہوتا تھا۔ لیکن یہاں آنے کے بعد ہمارا سارا خوف ختم ہوگیا۔ یہ محفوظ ہے، اچھا ہے اور بنیادی ڈھانچہ بھی بہت بہتر ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو بھی آگئے۔
پونے سے تعلق رکھنے والی ایک اور سیاح عائشہ شیخ نے کہا کہ لال چوک آنا ان کے لیے ایک خواب کی تعبیر ہے۔انہوں نے کہا، ’’لال چوک آنا، جہاں پنڈت جواہر لال نہرو نے قومی پرچم لہرایا تھا، ہمارے لیے ایک خواب تھا۔ جب ہم کشمیر آئیں تو لال چوک ضرور آنا چاہیے۔‘‘
شیخ نے کہا کہ ذرائع ابلاغ میں یہ قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں کہ کشمیر محفوظ نہیں ہے۔انہوں نے کہا، ’’لیکن ہمیں یہاں ایسا کچھ محسوس نہیں ہوا۔ یہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ یہاں کے لوگ بھی بہت اچھے ہیں، مقامی باشندے اچھے ہیں، فوج بھی بہت تعاون کرتی ہے۔ یہاں آنے والے سیاحوں کے لیے کشمیر مکمل طور پر محفوظ ہے۔‘‘
جب فضا ’’وندے ماترم‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھی تو شیخ نے کہا کہ انہیں اس لمحے پر بے حد فخر محسوس ہوا۔انہوں نے کہا، ’’وندے ماترم دل کی گہرائیوں سے نکلتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ میرا ملک ہے، یہ میری قوم ہے اور یہی میرا فخر ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہم بھارتی ہیں، بھارتی ہی رہیں گے اور بھارت ہی میں دفن ہوں گے۔ اس لیے ہمیں پاکستانی بھی نہیں کہا جانا چاہیے۔ ہم بھارتی ہیں اور ہمیں فخر سے کہنا چاہیے کہ ہم بھارتی ہیں۔‘‘
شیخ نے اصرار کیا کہ آج کی نسل تقسیم پر یقین نہیں رکھتی اور ہندو مسلم مسئلہ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔انہوں نے کہا، ’’سب بھارتی ہیں، یہاں اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ کشمیر مکمل طور پر محفوظ ہے۔‘‘
حکام نے بھی لوگوں کو یومِ آزادی منانے کے لیے وسیع انتظامات کیے تھے، جن میں سیلفی پوائنٹس بھی قائم کیے گئے تھے۔
ایک بچہ خوشی سے اسکیٹنگ کرتا ہوا نظر آیا جبکہ اس کے ایک ہاتھ میں ترنگا تھا۔
احمد آباد، گجرات سے تعلق رکھنے والے سیاح سورج بھٹ بھی اس منظر کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔
وادی کا چوتھی مرتبہ دورہ کرنے والے بھٹ نے کہا، ’’یہاں لوگوں کی بڑی بھیڑ ہے۔ یہ دیکھ کر اچھا لگ رہا ہے۔ یہاں کا ماحول توانائی اور جوش و خروش سے بھرپور ہے اور لال چوک میں موجود ہونا اچھا محسوس ہو رہا ہے۔‘‘
گجرات سے تعلق رکھنے والے ارون ہریانی نے اپنے چہرے اور جسم پر زعفرانی، سفید اور سبز رنگوں کی پینٹنگ کر رکھی تھی۔ وہ کلاک ٹاور کے نیچے کھڑے تھے اور چار سال قبل شروع کی گئی اپنی روایت کو برقرار رکھے ہوئے تھے۔
انہوں نے بتایا، ’’میں سنا کرتا تھا کہ یہاں ترنگا لہرانا ایک چیلنج سمجھا جاتا تھا اور علاقے میں کشیدگی بڑھ جاتی تھی۔ اس لیے میں نے سوچا کہ مجھے خود یہاں آنا چاہیے، ترنگا لہرانا چاہیے اور امن و بھائی چارے کا پیغام دینا چاہیے۔‘‘
ہریانی نے بتایا کہ جب وہ۲۰۲۲ میں وادی آئے تھے تو یہاں تقریباً کرفیو جیسا ماحول تھا۔انہوں نے کہا، ’’لیکن جب میں۲۰۲۳ میں یہاں آیا تو لوگ صبح چھ بجے سے رات تقریباً۱۱ بجے تک لال چوک میں موجود رہے۔ انہوں نے جشن منایا اور رقص کیا۔ ایک موقع پر کسی شخص نے مجھے اپنے کندھوں پر اٹھا لیا اور میرے ساتھ رقص کیا۔ اس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ بھائی چارے کا ایک بہت مثبت پیغام یہاں سے گیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سے وہ ہر سال لال چوک آتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)









