جموں؍۱۳ ؍اگست
جموں پولیس نے ’چینی مانجھے‘ کی سپلائی اور فروخت کے خلاف ایک بڑا آپریشن شروع کیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ مانجھےانسانوں، پرندوں اور جانوروں کے لیے جان لیوا ہیں۔ اب تک، جموں شہر کے مختلف علاقوں میں دوپہیہ گاڑی چلاتے وقت چینی مانجھے کی وجہ سے تقریباً۱۱؍افراد شدید زخمی ہو چکے ہیں۔ پولیس نے سپلائی کرنے والوں اور بیچنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے بازاروں میں چھاپے مارے ہیں اور۲۸؍ اگست کو آنے والے راکھی (رکشا بندھن) کے تہوار سے پہلے چینی مانجھے اور نائلون کے دھاگے کو ضبط کر لیا۔ قابلِ ذکر ہے کہ جموں میں راکھی اور جنم اشٹمی کے موقع پر پتنگ اڑانے کی روایت ہے۔
ایک سینئر پولیس افسر نے کہا’’ہم نے بیچنے والوں کے خلاف سخت مہم شروع کی ہے اور بازاروں سے چینی مانجھے اور نائلون کے دھاگے ضبط کیے ہیں‘‘۔ افسر نے کہا’’تھوڑے سے منافع کے لیے آپ کسی کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ چینی مانجھے جان لیوا ہوتے ہیں اور اس کے استعمال سے کئی لوگوں کی جان خطرے میں پڑ رہی ہے‘‘۔
انہوں نے کہا’’ہم بیداری پھیلا رہے ہیں اور لوگوں سے اپیل بھی کی ہے کہ اگر انہیں اس کی فروخت کے بارے میں کوئی معلومات ہو، تو وہ پولیس کو بتائیں۔ شناخت ظاہر کیے بغیر مجرموں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ چینی مانجھے کے استعمال سے ہونے والے نقصان کے بارے میں لوگوں کو بیدار کرنے کے لیے پورے جموں میں پوسٹر اور بینر لگائے جا رہے ہیں۔
افسر نے کہا’’جموں ضلع انتظامیہ نے اس بارے میں پہلے ہی ایک ایڈوائزری جاری کی ہے اور پولیس بھی اس کی فروخت روکنے کے لیے قانون کے مطابق کئی اقدامات کر رہی ہے‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور اس کاروبار میں ملوث کچھ بیچنے والوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا’’ہم نے تمام دکانداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ چینی مانجھے نہ بیچیں اور اگر کوئی پھر بھی اس میں ملوث پایا گیا، تو اسے بخشا نہیں جائے گا‘‘۔ انہوں نے کہا’’بیچنے والوں اور سپلائی کرنے والوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ہم نے رہنما خطوط کی خلاف ورزی کرنے پر ایف آئی آر درج کی ہیں اور کچھ دکانداروں کو گرفتار بھی کیا ہے‘‘۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
(ایجنسیاں)










