سرینگر؍۱۲؍اگست
جموں و کشمیر میں مرکزی وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیار کی معاونت سے چلنے والے مراکز میں منشیات کی لت میں مبتلا۴۶ہزار۴۹۱؍افراد کا مالی سال۲۰۲۵۔۲۶ کے دوران علاج کیا گیا، جو گزشتہ پانچ برسوں میں ایک سال کے دوران علاج پانے والے افراد کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ اعداد و شمار بدھ کے روز راجیہ سبھا میں پیش کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق۲۰۲۱۔۲۲ میں صرف۵ہزار۳۸۲؍افراد کا علاج کیا گیا تھا، جبکہ۲۰۲۲۔۲۳ میں یہ تعداد بڑھ کر۲۷ہزار۸۴۳ ہوگئی‘۲۰۲۳۔۲۴ میں۴۰ہزار۵۴۶؍اور۲۰۲۴۔۲۴ میں ۳۶ہزار۵۸۸ ہوگئی۔
یہ اعداد و شمار راجیہ سبھا میں منشیات کے استعمال کے پھیلاؤ، علاج کی سہولیات اور جموں و کشمیر میں منشیات کی روک تھام اور بازآبادکاری کی خدمات کو مضبوط بنانے کے اقدامات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں پیش کیے گئے۔
۲۰۲۵۔۲۶کے دوران سب سے زیادہ۹ہزار۹۶۰؍افراد کا علاج جموں میں کیا گیا، اس کے بعد سری نگر میں۶ہزار۲۰۴، بانڈی پورہ میں۵ہزار۷۶۹‘ کولگام میں۵ہزار۷۶۵؍اور راجوری میں۵ہزار۵۶۱؍افراد کا علاج ہوا۔ کپواڑہ میں۴ہزار۵۳۰‘ پلوامہ میں۳ہزار۴۳۳ جبکہ بڈگام میں۲ہزار۶۹۳؍افراد نے علاج حاصل کیا۔
مرکزی حکومت نے بتایا کہ۲۰۱۸ میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کے نیشنل ڈرگ ڈیپینڈنس ٹریٹمنٹ سینٹر کے ذریعے کیے گئے ملک گیر سروے میں جموں و کشمیر میں تقریباً۵ء۴ لاکھ افراد کے افیون کے عادی ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔۱۰ سے۷۵ سال کی عمر کے افراد میں افیون کے استعمال کی شرح۴ء۹۱ فیصد بتائی گئی تھی۔
سروے کے مطابق جموں و کشمیر میں تقریباً۳ء۹ لاکھ افراد شراب،۱ء۴ لاکھ افراد بھنگ،۱ء۷ لاکھ افراد سکون آور ادویات اور۱ء۳۵ لاکھ افراد نشہ آور اشیا کو سونگھ کر استعمال کرنے والے تھے۔
اس وقت وزارت جموں و کشمیر میں ایک انٹیگریٹڈ ری ہیبلی ٹیشن سینٹر فار ایڈکٹس، تین آؤٹ ریچ اینڈ ڈراپ اِن سینٹرز، دو کمیونٹی بیسڈ پیئر لیڈ انٹروینشن پروگرام، چھ ضلعی منشیات چھڑاؤ مراکز اور۲۱ ایڈکشن ٹریٹمنٹ فیسلٹیز کی معاونت کر رہی ہے۔
حکومت نے بتایا کہ ان مراکز کو نیشنل ایکشن پلان فار ڈرگ ڈیمانڈ ریڈکشن کے تحت مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے، جس کے ذریعے منشیات کے استعمال کی روک تھام، بیداری، علاج، بازآبادکاری اور صلاحیت سازی کے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
مرکزی حکومت کی جانب سے۱۴۴۴۶ نمبر پر منشیات سے نجات کی ہیلپ لائن بھی چلائی جارہی ہے، جس پر ملک بھر سے اب تک۴ء۶ لاکھ سے زیادہ کالز موصول ہوچکی ہیں، جن میں جموں و کشمیر سے آنے والی۱۱۰۰۰ سے زیادہ کالز بھی شامل ہیں۔
حکومت نے بتایا کہ نشا مکت بھارت ابھیان کے تحت جموں و کشمیر میں اب تک۱ء۲۰ کروڑ سے زیادہ افراد کو منشیات کے مضر اثرات کے بارے میں آگاہ کیا جاچکا ہے، جن میں۶۹ء۱۴ لاکھ سے زیادہ نوجوان اور۵۱ء۲۰لاکھ خواتین شامل ہیں۔اس مہم کے تحت جموں و کشمیر میں۸۵۶۵’نشا مکتی متروں‘ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
حکومت کے مطابق یہ مہم قومی سطح پر۲۰۲۰ میں شروع کی گئی تھی اور۲۰۲۳ میں تمام اضلاع تک توسیع دی گئی۔ اس کا مرکز بیداری اور عوامی رابطہ کاری ہے، جس کے تحت اسکولوں، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور یونیورسٹی کیمپس کے علاوہ معاشرے کی سطح پر بھی مختلف اقدامات کیے جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)









