جموں؍۱۲؍ اگست
جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روز یوتھ سروسز اینڈ اسپورٹس محکمہ کی جانب سے ۱۰ جون کو مطلع کی گئی سرکاری ملازمتوں کے لیے نمایاں کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطحی اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی کے رہنماؤں نے احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کئی مستحق اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتوں سے محروم کردیا گیا ہے۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے ایک وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یدھ ویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مرہ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جموں و کشمیر بی جے پی کے ترجمان زورآور سنگھ جمّوال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
یہ وفد جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا رکن ست پال شرما اور قائد حزب اختلاف و رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملا۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایات کا ازالہ کرنے میں مبینہ ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ کھلاڑی کئی دنوں سے احتجاج کر رہے ہیں لیکن انتظامیہ نے ان کے مطالبات پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
سنگھ نے کہا، ’’ہم نے حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافی سے متعلق تمام متعلقہ دستاویزات کے ساتھ تفصیلی مکتوب لیفٹیننٹ گورنر کو پیش کیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایک غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا انتخاب کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا، ’’ہمیں ان امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں جو منتخب ہوئے ہیں، لیکن یہ جاننے کے لیے غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں کہ کیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ طور پر غور کیا گیا تھا۔‘‘
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی کے وفد کو یقین دلایا ہے کہ معاملے کا مکمل جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ بعض مستحق کھلاڑی مبینہ طور پر فہرست سے کیوں باہر رہ گئے۔
بی جے پی رہنماؤں نے اپنے خطاب میں احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایات کے ازالے میں محکمہ کھیل کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیلوں کے وزیر، جن کا تعلق جموں سے ہے، انہیں اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں سے ملاقات کرنی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا، ’’کھیلوں کے وزیر کے پاس اس معاملے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی شامل کیا جاسکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی۔‘‘
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام عائد کیا کہ انتخابی عمل نے کھلاڑیوں، بشمول معذور کھلاڑیوں، میں شدید تشویش پیدا کردی ہے اور دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے ان کی شکایات پر ردعمل کا انتظار کرتے ہوئے بعض کھلاڑی بیمار بھی پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے، اس سے انتخابی عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور اس کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔ جن کھلاڑیوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے، وہ اعزاز اور انصاف کے مستحق ہیں۔‘‘
بی جے پی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ انتخابی فہرست کا فوری جائزہ لے اور شفاف جانچ کے بعد تمام حقیقی طور پر اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
پارٹی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی خارج ہوگئے اور فہرست میں موجود کسی بھی بے ضابطگی کی نشاندہی کے لیے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی رہنماؤں نے سوال اٹھایا، ’’ایک ہی ضلع سے ۷۲ افراد اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے اتنے امیدواروں کو کیسے شامل کیا جاسکتا ہے جبکہ دیگر حقیقی صلاحیتوں کو نظر انداز کیے جانے کا الزام ہے؟‘‘ انہوں نے انتخابی معیار اور پالیسی پر عملدرآمد کو عوام کے سامنے جانچ کے لیے پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک وسیع تر مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی توقعات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
انہوں نے کہا، ’’یہ محض انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا عمل پر علاقائی جانب داری نے اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔‘‘
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام حقیقی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور اس وقت تک ان کے مسائل اٹھاتی رہے گی جب تک معاملہ حل نہیں ہوجاتا۔پارٹی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کی شکایات پر کارروائی نہ کی تو یہ معاملہ وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایجنسیاں









