نئی دہلی، 10 اگست (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے مظاہرے کے دوران پولیس کارروائی پر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھ کر کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان پر کارروائی کی گئی ہے جس پر حکومت کا جواب ضروری ہے مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری محترمہ پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلباء کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔ انگریزی روزنامہ دی ہندو میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلباء کے خلاف طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے تعلق سے سوال پوچھ رہے طلباء پر پیلٹ گن، کیلوں والی لاٹھیوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹے ہوئے ہیں اور طلباء کی یہ تحریک ان کے لیے تنبیہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی امیج تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بنایا نہیں جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی اہلکار کو ان کے اعمال کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو بغیر سزا کے نہیں جانے دے گی۔ مسٹر کھرگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کے فاصلے پر طلباء کے خلاف ظالمانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں دو ہی امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلباء کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی پوری طرح نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں، وزیر داخلہ کے طور پر اس واقعے کی ذمہ داری ان کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلباء زخمی ہوئے اور نابالغ طلباء کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔
انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلباء کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی طرف سے دی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض چوک نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے اس پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلباء کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جوابدہی طے ہونے تک اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔








