نئی دہلی، 10 اگست (یواین آئی) احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی کے معاملے پر وزیر داخلہ کے جواب کے مطالبے پر اڑے اپوزیشن ارکان نے پیر کو راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا، جس کے باعث ایوان کی کارروائی 12 بجے تک ملتوی کرنی پڑی اور وقفۂ صفر کی کارروائی مکمل نہیں ہو سکی۔
اپوزیشن ارکان کے ہنگامے کے باعث مانسون اجلاس میں اب تک ایک بھی دن وقفۂ صفر کی کارروائی پُرسکون اور ہموار طریقے سے نہیں چل سکی ہے۔ اس اجلاس کا یہ آخری ہفتہ ہے اور مقررہ پروگرام کے مطابق اب اجلاس کے صرف تین دن باقی رہ گئے ہیں، لیکن اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعطل ختم نہیں ہو سکا ہے۔ اپوزیشن وزیر داخلہ کے جواب پر بضد ہے، جبکہ حکومت اس پر رضامند نہیں ہے۔
چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے قانون سازی سے متعلق دستاویزات ایوان کے میز پر رکھے جانے کے بعد جیسے ہی کارروائی شروع کی، اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر زور زور سے بولنے لگے۔ چیئرمین نے ارکان سے پرسکون رہنے اور اپنی نشستوں پر واپس جانے کی اپیل کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ارکان کے نام پکار کر انہیں عوامی اہمیت کے معاملات ایوان میں پیش کرنے کا موقع دیا۔
کچھ ارکان نے ہنگامے کے درمیان اپنی بات رکھنے کی کوشش کی، لیکن شور شرابے کے باعث ان کی آواز سنائی نہیں دی۔
اپوزیشن ارکان چیئرمین کی نشست کے قریب حکومت مخالف نعرے بازی کرنے لگے، جس سے ایوان میں بدنظمی کی صورت حال پیدا ہوتے دیکھ کر چیئرمین نے کارروائی 12 بجے تک ملتوی کر دی








