نئی دہلی، 10 اگست (یو این آئی) دہلی ساکر ایسوسی ایشن (ڈی ایس اے) نے یہاں خصوصی عام اجلاس میں اپنے صدر انوج گپتا کی قیادت میں آل انڈیا فٹبال فیڈریشن (اے آئی ایف ایف) کی نئی رہنما ہدایات کے مطابق نیا آئین اپنانے اور 6 ستمبر کو الیکشن کرانے کا اعلان کیا ہے، حالانکہ ایسوسی ایشن کا ایک گروپ پہلے ہی 24 اگست کو الیکشن کرانے کا بگل بجا چکا ہے۔ دونوں گروپوں کے اپنے اپنے دعوے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ انوج گپتا اور بی ایس مہرا گروپوں میں کسے اے آئی ایف ایف کا آشیرواد ملتا ہے۔ فی الحال، اتنا طے ہے کہ دہلی کی فٹبال میں گروپ بازی بازی کا پرانا دور شروع ہو گیا ہے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے پانچ دہائی پہلے دہلی کی فٹبال شرمناک گروپ بازی کا شکار ہوئی تھی۔
ایک طرف مہرا کے ساتھ ڈی ایس اے کے خزانچی لیاقت علی کو سشانت دیو، ویٹرن مگن سنگھ پٹوال، ہیم چند اور دیگر کی حمایت حاصل ہے تو نائب صدر شرافت اللہ اور اسکوڈرن لیڈر ایس کے سنگھ کھل کر ساتھ دے رہے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مہرا گروپ کا سائز کافی بڑا ہے، جبکہ انوج گپتا کی حمایت میں وہی جانے پہچانے چہرے نظر آتے ہیں، جو کہ ہمیشہ سے ان کی دریا دلی میں حصہ دار رہے ہیں۔ یعنی ایسے عہدیداران اور کلب سربراہ جو کہ ٹیموں کے انتخاب کے عمل اور آنے جانے، کھانے پینے میں حصہ داری پاتے رہے ہیں یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ انوج کی شرافت کا فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ وہیں صدر ایک بار پھر سے چار سال کا مطالبہ کررہا ہے، جو کہ اے آئی ایف ایف کی رہنما ہدایات پر منحصر ہے۔ انوج نے اپنے دور اقتدار کی کامیابیوں کی بات پر کہا کہ تمام لیگ مقابلوں کا انعقاد بڑا چیلنج تھا۔ ساتھ ہی سب جونیئر، جونیئر اور سینیئر طبقوں کی ٹیم پر لاکھوں خرچ کیے گئے، جس کے شاندار نتائج سامنے آئے۔ قابل تعریف بات یہ رہی ہے کہ انوج نے مخالف گروپ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا بلکہ انہیں ساتھ چلنے اور دہلی کی فٹبال کو آگے بڑھانے کے لیے مدعو کیا۔ ہاں، خزانچی لیاقت علی کے ذریعے ڈی ایس اے کے بینک کھاتوں کو ’فریز‘ کرنے کو غلط قدم ضرور بتایا اور کہا کہ ایسا کرنے سے ڈی ایس اے کی سرگرمیوں اور روزمرہ کے اخراجات پر روک لگانی پڑی ہے۔
انوج گپتا نے ان الزامات کو بے بنیاد بتایا، جن میں ڈی ایس اے کے خزانے کا غلط استعمال شامل ہے۔ الٹے انوج کہتے ہیں کہ دہلی کی فٹبال سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے انہوں نے اپنی سودیوا اکیڈمی کے گراؤنڈ دیے، ’فری آف کاسٹ‘۔


