مفرور مجرموں کی واپسی کو قومی ترجیح قرار دیا گیا؛ ریڈ کارنر نوٹس، ’بھارت پول‘، آپریشن ترشول اور نئے قوانین کو کامیابی کا سبب بتایا گیا
ندائے مشرق ویب ڈسیک
نئی دہلی/ ۴ ؍اگست
وزارتِ داخلہ (ایم ایچ اے) نے منگل کو کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی رہنمائی میں ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۶ء کے درمیان ۳۶ ممالک سے ۲۷۴ مفرور مجرموں کو بھارت واپس لایا گیا۔
پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق حکومت نے کہا کہ مفرور مجرموں کی حوالگی کو ’’قومی ترجیح‘‘ بنایا گیا، جب کہ سابقہ حکومتوں میں، حکومت کے مطابق، ایسے معاملات کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھانے کے لیے سیاسی عزم کا فقدان تھا۔
وزارتِ داخلہ نے کہا کہ بھارت نے مفرور ملزمان کا سراغ لگانے اور انہیں وطن واپس لانے کے لیے انٹیلی جنس پر مبنی، مربوط اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ نظام تیار کیا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ حکمت عملی تین ستونوں پر مبنی ہے، جن میں عالمی کارروائیاں، مختلف اداروں کے درمیان مضبوط تال میل اور مؤثر سفارتی حکمت عملی شامل ہیں۔
وزارت نے کہا کہ مفرور مجرموں کا مسئلہ ملک کی خودمختاری، معاشی استحکام، امن و قانون اور قومی سلامتی سے براہِ راست وابستہ ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ امت شاہ کی رہنمائی میں قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات کی مدد سے مفرور ملزمان کو بھارت واپس لانے کی مہم ’’مشن موڈ‘‘ میں چلائی گئی۔
بیان کے مطابق حکومت نے ۲۰۱۹ء میں این آئی اے (ترمیمی) قانون اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون (یو اے پی اے) میں ترمیم کی، جبکہ بعد ازاں ۲۰۲۴ء میں تین نئے فوجداری قوانین نافذ کیے گئے۔ پہلی مرتبہ بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعات ۳۵۵ اور ۳۵۶ کے تحت ایسے ملزمان کے خلاف، جو ملک سے باہر موجود ہوں، ان کی غیر موجودگی میں مقدمے کی کارروائی کی قانونی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔
وزارتِ داخلہ نے جنوری ۲۰۲۵ء میں ’’بھارت پول‘‘ کے آغاز کا بھی ذکر کیا اور اسے ایک ایسا پلیٹ فارم قرار دیا جو مرکزی اور ریاستی ایجنسیوں کی ۱۴۰۰ سے زائد اکائیوں کو انٹرپول سے جوڑتا ہے، تاکہ معلومات کا تبادلہ تیز رفتار طریقے سے ممکن ہو سکے۔ وزارت کے مطابق بعض معاملات میں معلومات کے تبادلے کا وقت کم ہو کر ۳ سے ۱۰ دن رہ گیا ہے۔
حکومت نے مزید بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران مفرور ملزمان کے خلاف ۴۰۱ ریڈ کارنر نوٹس جاری کیے گئے۔ بیان میں کہا گیا کہ بیرونِ ملک روپوش مفروروں کا سراغ لگانے کے لیے ’’آپریشن ترشول‘‘ کے تحت سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، نگرانی کے جدید ذرائع اور ڈیجیٹل شناخت کے تجزیے سے کام لیا گیا، حتیٰ کہ ایسے معاملات میں بھی جہاں ملزمان نے اپنی شناخت تبدیل کر لی تھی۔
وزارت نے یہ بھی کہا کہ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے) پر سختی سے عمل درآمد کے نتیجے میں ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۶ء کے درمیان مفرور ملزمان کے ۱۷ ہزار ۸۷۴ کروڑ روپے مالیت کے اثاثے ضبط کیے گئے، جبکہ اسی عرصے کے دوران ۱۸ ہزار ۷۶۲ کروڑ روپے بطور واپسی وصول کیے گئے، جن میں ایسے معاشی مجرموں سے منسلک رقوم بھی شامل ہیں جو ملک سے فرار ہو گئے تھے۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری سال وار اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۱۹ء سے جولائی ۲۰۲۶ء تک مجموعی طور پر ۲۷۴ مفرور ملزمان کو بھارت واپس لایا گیا۔ ان میں قتل، منظم جرائم، جنسی جرائم، دہشت گردی، منشیات، مالیاتی دھوکہ دہی، انسانی اسمگلنگ، سائبر جرائم اور دیگر سنگین مقدمات میں مطلوب ملزمان شامل ہیں۔
وزارت نے کہا کہ مفرور ملزمان کی واپسی میں بھارت کی کامیابی بہتر قانونی تیاری، مسلسل سفارتی کوششوں اور مختلف ایجنسیوں کے درمیان قریبی تال میل کا نتیجہ ہے۔ ان ایجنسیوں میں انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، سی بی آئی، ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (را)، این آئی اے، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، وزارتِ خارجہ، نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی)، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف جی ایس ٹی انٹیلی جنس (ڈی جی جی آئی) اور مختلف ریاستوں کی پولیس فورسز شامل ہیں۔
وزارت کے مطابق یہ ’’پوری حکومت‘‘ کے نقطۂ نظر پر مبنی حکمت عملی ہے، جس کا مقصد بروقت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا اور قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔










