کپواہ میں خاتون جاں بحق‘کئی رہائشی مکانات زیر آب
(ندائے مشرق خبر)
سرینگر؍۳؍اگست
شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ میں پیر کے روز بادل پھٹنے کے بعد آنے والے اچانک سیلاب میں ایک خاتون جاں بحق ہوگئیں، جبکہ اننت ناگ، شوپیان اور کرگل کے مختلف علاقوں میں بھی شدید بارش اور بادل پھٹنے کے واقعات نے معمولاتِ زندگی متاثر کر دیے۔
کئی مقامات پر ریسکیو کارروائیاں عمل میں لائی گئیں اور درجنوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
پولیس کے مطابق جاں بحق خاتون کی شناخت نسیمہ بیگم زوجہ محمد ایوب، ساکن ورنو کے طور پر ہوئی ہے، جو لولاب کے ہملی علاقے میں اچانک آنے والے سیلابی ریلے کی زد میں آ گئی تھیں۔ تلاش کے بعد ان کی لاش برآمد کر لی گئی۔
جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے پہلگام کے بٹہ کوٹ علاقے میں بھی بادل پھٹنے سے اچانک سیلاب آگیا، جس سے مقامی آبادی اور سیاحوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
حکام کے مطابق سیلابی پانی کے باعث ایشمقام پہلگام سڑک لنگنئی پل کے مقام پر بند ہوگئی، جبکہ لنگنئی بٹہ کوٹ کا پل تیز پانی کے بہاؤ سے جزوی طور پر تباہ ہوگیا۔
ادھر شوپیان کے بالائی علاقوں میں بادل پھٹنے کے بعد زاوورہ، بدرہامہ اور کیجرسندہ میں اچانک سیلاب آگیا۔ ریاستی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی ٹیم نے اسکولی بچوں اور عملے سمیت تقریباً۸۰؍افراد کو بحفاظت محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
حکام کے مطابق شوپیان میں اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے، جبکہ نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔
دریں اثنا، شدید بارش کے باعث پہلگام کے ننوان بیس کیمپ میں بھی نقصان پہنچا، جہاں عقب کی کنکریٹ دیوار گرنے سے پانی کیمپ میں داخل ہوگیا اور متعدد خیمے متاثر ہوئے۔ تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں اور حکام کے مطابق صورتحال قابو میں ہے۔
انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں تعینات کر دی ہیں، جبکہ عوام اور مسافروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ صورتحال معمول پر آنے تک حساس اور خطرناک مقامات پر جانے سے گریز کریں۔
دریں اثنا،شدید بارش اور بادل پھٹنے کے نتیجے میں کرگل خطے کے مختلف علاقوں میں اچانک سیلابی ریلے آ گئے، جس سے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، سڑکوں کا رابطہ منقطع ہو گیا اور فوج، پولیس و سول انتظامیہ کو بڑے پیمانے پر امدادی اور بچاؤ کارروائیاں شروع کرنی پڑیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اتوار کی شام کرگل ضلع کے ہارڈاس اور تمیل دیہات میں موسلا دھار بارش کے باعث اچانک سیلابی ریلے آ گئے، جن سے رہائشی علاقے زیر آب آگئے جبکہ سڑکوں اور دیگر عوامی بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
مقامی انتظامیہ اور ہنگامی خدمات کے اہلکار فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچے، جہاں نقصان کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ امدادی کارروائیاں بھی شروع کی گئیں۔
فوج کے مطابق ’’فاریور اِن آپریشنز‘‘ ڈویژن کے اہلکاروں نے ہارڈاس کے گنڈ علاقے میں بادل پھٹنے کے فوراً بعد امدادی اور بچاؤ مہم شروع کی۔ سیلابی ریلوں کے باعث سڑکوں کا رابطہ منقطع ہو گیا تھا اور متعدد مقامی باشندے مختلف مقامات پر پھنس گئے تھے۔
فوجی جوانوں نے متاثرہ دیہاتیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا، ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور خراب موسمی حالات کے باوجود پینے کا پانی، ضروری اشیائے خورد و نوش اور تیار کھانا بھی تقسیم کیا۔
ایک اور متاثرہ علاقے میں فوج نے سول انتظامیہ کے اشتراک سے ملبہ ہٹانے، سڑکوں کی بحالی، پانی اور بجلی کی فراہمی بحال کرنے کے لیے بھی کارروائیاں انجام دیں تاکہ امدادی سرگرمیوں میں آسانی ہو سکے۔
ادھر پولیس کے مطابق ہفتے کے روز منی مرگ کے قریب مینا-۲ علاقے میں بادل پھٹنے سے اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے، جس سے تقریباً ۲۰ افراد پر مشتمل بکر وال خاندانوں کی چار عارضی رہائش گاہیں متاثر ہوئیں۔
منی مرگ پولیس چوکی کے اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو بحفاظت قریبی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔
پولیس نے بتایا کہ سیلابی ریلے میں ایک کار بھی بہہ گئی، تاہم اس میں سوار تمام افراد محفوظ رہے اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
حکام کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ اور سڑک پر ملبہ جمع ہونے کے باعث دراس۔سرینگر قومی شاہراہ پر ٹریفک کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا، جبکہ شاہراہ کی بحالی کا کام جاری ہے۔
پولیس نے مسافروں، سیاحوں اور مقامی باشندوں کو مشورہ دیا ہے کہ موسم بہتر ہونے تک طغیانی والے نالوں، آبی گزرگاہوں اور سیلاب کے خطرے والے مقامات کو عبور کرنے سے گریز کریں۔
دریں اثنا، دراس کے ڈپٹی کمشنر امتیاز کاچو نے متایین اور پنڈراس دیہات کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صورتحال کا جائزہ لیا، ترقیاتی ضروریات کا معائنہ کیا اور مقامی لوگوں سے ملاقات کرکے ان کے مسائل سنے۔










