(ایجنسیا)
سرینگر؍۳؍ اگست
انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کشمیر زون وی کے بردی نے آئندہ تقریبات کے پیش نظر اور وادی میں موجودہ سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے آج پولیس کنٹرول روم (پی سی آر) کشمیر کے کانفرنس ہال میں ایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وادی بھر میں سیکورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس کے آغاز میں شریک افسران نے اپنے اپنے اضلاع اور دائرہ اختیار میں موجود سیکورٹی صورتحال کے بارے میں آئی جی پی کشمیر کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں حالیہ سیکورٹی پیش رفت، درپیش نئے چیلنجز اور ان سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے اختیار کیے گئے اقدامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
مسلسل تیاری اور مستعدی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے تمام افسران کو ہدایت دی کہ وہ موجودہ سیکورٹی انتظامات کا مسلسل جائزہ لیتے ہوئے انہیں مزید مضبوط بنائیں اور انسدادِ شورش کی مؤثر حکمت عملی وضع کریں۔ انہوں نے امن و امان کی مؤثر برقراری کے لیے تمام سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان قریبی اور مربوط تال میل کو ناگزیر قرار دیا۔
آئی جی پی نے وادی بھر میں قومی شاہراہوں، ریلوے لائنوں اور ریلوے اسٹیشنوں کی سیکورٹی کا بھی جائزہ لیا اور افسران کو ہدایت دی کہ حساس مقامات اور بین الاضلاعی سرحدوں پر متحرک ناکے قائم کیے جائیں، سیکورٹی تعیناتی مزید مضبوط بنائی جائے اور بالخصوص رات کے اوقات میں پیدل گشت میں اضافہ کیا جائے۔
وی کے بردی نے اہم تنصیبات اور دیگر حساس طبقات کی حفاظت کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے افسران کو ہدایت دی کہ وہ تمام ضروری احتیاطی اقدامات اختیار کریں، علاقوں پر مؤثر کنٹرول کو مزید مستحکم بنائیں اور حساس مقامات پر کڑی نگرانی برقرار رکھیں تاکہ امن و امان میں خلل ڈالنے یا شہریوں کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔
بردی نے ضلعی پولیس سربراہان کو ہدایت دی کہ وہ ملک دشمن اور سماج دشمن عناصر پر کڑی نظر رکھیں، انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں میں اضافہ کریں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مسلسل نگرانی یقینی بنائیں تاکہ گمراہ کن معلومات، افواہوں اور شرانگیز مواد کی تشہیر کو روکا جا سکے، جو عوامی امن، سلامتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کر سکتا ہے۔
اجلاس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ وادی بھر میں امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے سیکورٹی نگرانی مزید سخت، مختلف ایجنسیوں کے درمیان تال میل کو مضبوط اور حفاظتی اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔










