نئی دہلی، 29 جولائی (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی پر پیپر لیک کے خلاف ہوئے احتجاج کے مسئلے پر پارلیمنٹ میں جھوٹ بولنے اور اہل وطن کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے طالب علموں پر گولی چلائے جانے کے ان کے دعوے کی تردید کی ہے۔
بی جے پی کے قومی ترجمان سنبت پاترا نے بدھ کو پارٹی ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس میں مسٹر گاندھی پر قومی اہلیت و داخلہ ٹیسٹ (نیٹ) کے مسئلے پر ملک کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیک کے معاملے کو روکنے کے لیے لائے گئے بل پر بحث میں مسٹر گاندھی نے بھی حصہ لیا۔ اس دوران انہوں نے اپنے جھوٹ سے ملک کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، ایوان میں ہنگامہ کرنے کی کوشش کی اور غیر شائستہ الفاظ کا استعمال کیا۔
انہوں نے مسٹر گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا، "ہم سب کو جس کا شک تھا، وہی ہوا۔ مسٹر گاندھی نے جھوٹ کا پلندا دکھا کر ملک کو گمراہ کرنے اور پارلیمنٹ میں ہنگامہ کرنے کی کوشش کی۔ وہ ہمیشہ یہی کرتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ جب ان سے (مسٹر گاندھی) اپنے دعووں کو سچ ثابت کرنے کے لیے کہا گیا، تو نام نہاد نرم اور سنجیدہ زبان غائب ہو گئی۔ مسٹر گاندھی کے پاس اپنے دعووں کو ثابت کرنے کے لیے ایک بھی واقعہ یا ثبوت نہیں تھا۔ مسٹر گاندھی نے پارلیمنٹ میں طالب علموں کے تین زمرے بتائے اور انہیں طالب علم، بے وقوف اور اندھ بھکت کہا۔” انہوں نے کہا کہ ملک کے طالب علموں کو اس طرح الگ الگ زمروں میں بانٹ کر مسٹر گاندھی نے ان کی توہین کی ہے۔
انہوں نے کہا، "ہم یہ بات صاف صاف کہنا چاہتے ہیں۔ اس ملک کا ہر طالب علم سب سے پہلے ایک طالب علم ہے اور ہر طالب علم حب الوطن ہے۔ ہندوستان میں کوئی بھی طالب علم ‘احمق’ یا ‘اندھ بھکت’ نہیں ہے۔”
انہوں نے کہا، "آج مسٹر گاندھی نے پارلیمنٹ میں دعویٰ کیا کہ طالب علموں پر گولیاں چلائی گئیں۔ ہمارا کہنا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ کسی نے بھی گولی چلانے کا حکم نہیں دیا۔” مسٹر پاترا نے کہا کہ مسٹر گاندھی نے کہا کہ گولی چلانے کا فرماں وزیرِ داخلہ امت شاہ نے دیا۔ یہ بھی جھوٹ ہے، کیونکہ جب گولی چلی ہی نہیں تو فرمان کہاں سے آئے گا؟ انہوں نے کہا، "میں بتا دوں کہ جہاں بھی کہیں مارچ یا احتجاج ہوتا ہے، وہاں ایک مجسٹریٹ موجود ہوتا ہے، جو فوری فیصلہ کرتا ہے کہ وہاں طاقت کا استعمال ہونا چاہیے یا نہیں۔ یہ فیصلے ملک کے وزیرِ داخلہ نہیں دیتے۔ یہ سب باتیں اپوزیشن رہنما کو معلوم ہونی چاہئیں۔”
انہوں نے کہا، "مسٹر گاندھی نے دعویٰ کیا کہ مسٹر شاہ کے قافلے میں 30 گاڑیاں تھیں۔ آج میں راہل گاندھی کو چیلنج دیتا ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ آئیں اور انہیں گنیں۔ ہمیں دکھائیں کہ مسٹر امت شاہ کے قافلے میں 30 گاڑیاں کہاں تھیں۔” انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مرکزی وزیرِ داخلہ اپنی گاڑی کے اندر بیٹھے تھے اور کانپ رہے تھے۔ مسٹر شاہ وہ شخص ہیں جن کے سامنے دہشت گرد اور نکسلی کانپتے ہیں۔
بی جے پی ترجمان نے بتایا کہ پبلک امتحان (غلط طورطریقوں کی روک تھام ) ترمیمی بل، 2026 پر بحث میں ایوان کے 45 اراکین نے حصہ لیا۔ مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے لوک سبھا میں اس بل کو پیش کیا تھا۔
انہوں نے کہا، "گزشتہ کچھ دنوں میں ہم نے دیکھا کہ ہمارے ملک کے ہونہار طالب علم سامنے آئے اور انہوں نے تحریک چلائی۔ تحریک کے دوران ہماری پارٹی کے بڑے رہنماؤں نے طالب علموں سے بات چیت کی، حل نکلا اور تحریک ختم ہوئی اور جو بنیادی موضوع کئی سالوں سے، ہندوستان کی آزادی سے 2014 تک زیرِ التوا تھا، یعنی پیپر لیک سے کیسے بچا جائے اور امتحان کو مزید مضبوط کیسے بنایا جائے؟ جو مافیا ہیں، پیپر لیک سے پہلے انہیں کیسے کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ 2024 میں جو قانون بنا تھا، اس قانون میں ترمیم کر کے اس کو اور سخت بنانے کا طریقہٴ کار ایوان میں شروع ہوا۔”
مسٹر پاترا نے کہا، "ڈاکٹر سنگھ پوری بحث میں موجود رہے اور آج جواب بھی دیا۔ ووٹنگ کے ذریعے آج سے یہ بل لوک سبھا سے منظور ہو گیا۔ اس کے لیے میں آپ سبھی کو مبارکباد دیتا ہوں۔ میں اس کے لیے وزیراعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔”









