یہ محض ایک عدد نہیں، ایک سماجی و معاشی المیہ ہے
جموں و کشمیر سے حج بیت اللہ کے لیے درخواستوں کی تعداد میں مسلسل کمی ایک ایسا رجحان بن چکی ہے جسے سرکاری اعداد و شمار کا حصہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ رواں سال حج ۲۰۲۷ کے لیے صرف۴ہزار۶۹۱ درخواستیں موصول ہوئی ہیں جبکہ جموں و کشمیر کے لیے متوقع کوٹہ تقریباً۸۰۰۰ عازمین کا ہے۔ یعنی تین ہزار سے زائد نشستیں خالی رہ جانے کا امکان ہے۔ یہ صورت حال نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ اس حقیقت کی عکاس بھی ہے کہ معاشرے میں کچھ بنیادی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ یہ کمی صرف حج کے رجحان میں کمی نہیں بلکہ عوام کی معاشی قوت، سماجی ترجیحات اور مجموعی اقتصادی صورتحال کی ایک واضح تصویر پیش کر رہی ہے۔
اگر گزشتہ چند برسوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو یہ رجحان مزید واضح ہو جاتا ہے۔ ۲۰۲۳ میں جموں و کشمیر سے تقریباً چودہ ہزار پانچ سو درخواستیں موصول ہوئی تھیں جبکہ کوٹہ بارہ ہزار تھا اور قرعہ اندازی کے ذریعے انتخاب کرنا پڑا تھا۔ اس کے برعکس ۲۰۲۴ میں درخواستیں سات ہزار آٹھ سو رہ گئیں، ۲۰۲۵ میں یہ تعداد تقریباً چار ہزار تین سو تک سمٹ گئی، ۲۰۲۶ میں صرف چار ہزار سات سو سے کچھ زائد افراد حج پر روانہ ہوئے اور اب ۲۰۲۷ میں بھی درخواستوں کی تعداد پانچ ہزار سے کم ہے۔ یہ مسلسل گراوٹ اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک گہرے معاشی بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔
حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں شامل ہے، تاہم اس کی ادائیگی صرف ان مسلمانوں پر فرض ہے جو مالی اور جسمانی استطاعت رکھتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی معاشرے میں حج کے خواہش مند افراد کی تعداد کم ہونے لگے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ لوگوں کے مذہبی جذبات کمزور ہو گئے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کی مالی استطاعت متاثر ہوئی ہے۔ جموں و کشمیر میں بھی یہی صورتحال دکھائی دے رہی ہے۔ ہزاروں ایسے افراد موجود ہیں جن کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش بیت اللہ کی زیارت ہے، مگر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی مشکلات نے ان کے اس خواب کو مؤخر کر دیا ہے۔
آج ایک عازم حج کو تقریباً چار لاکھ چالیس ہزار روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ متوسط طبقے یا کم آمدنی والے خاندان کے لیے یہ رقم جمع کرنا آسان نہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں روزگار کے مواقع محدود ہوئے ہیں، تجارت متعدد وجوہات کی بنا پر متاثر ہوئی ہے، سیب، دستکاری، سیاحت اور دیگر روایتی شعبے بھی مطلوبہ استحکام حاصل نہیں کر سکے جبکہ مہنگائی نے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں اکثر خاندان اپنے محدود وسائل بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ، رہائش اور روزمرہ ضروریات پر خرچ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ حج جیسی عظیم عبادت کی خواہش دل میں باقی رہتی ہے مگر مالی مجبوری راستہ روک لیتی ہے۔
جموں و کشمیر کے عازمین کو ایک اور مسئلے کا سامنا بھی ہے۔ سرینگر سے براہ راست حج پروازوں کے فضائی کرایے ملک کے کئی دوسرے حصوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ سرینگر ہوائی اڈے کی نوعیت اور بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کی محدود رسائی ہے، جس کے باعث مقابلے کا ماحول پیدا نہیں ہو پاتا اور فضائی کرایے بلند رہتے ہیں۔ اگر ایک ہی سفر پر لاکھوں روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا تو ظاہر ہے کہ بہت سے لوگ درخواست دینے سے پہلے ہی پیچھے ہٹ جائیں گے۔
۲۰۱۸ میں حج سبسڈی کے خاتمے کے بعد بھی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ اس فیصلے کے اپنے دلائل تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے بعد حج کی ادائیگی مکمل طور پر مارکیٹ ریٹ کے تابع ہو گئی۔ دوسری طرف سعودی ریال کی قدر میں اضافہ، سعودی عرب میں ٹیکسوں اور سروس چارجز میں اضافہ، رہائش اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے مجموعی لاگت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس کے اثرات صرف جموں و کشمیر تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر مرتب ہوئے ہیں، تاہم جن علاقوں کی معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہو، وہاں یہ اثرات کہیں زیادہ شدید محسوس ہوتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں عمرہ کی طرف رجحان نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عمرہ نسبتاً کم خرچ عبادت ہے اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے میں مکمل ہو جاتا ہے۔ بہت سے لوگ برسوں تک حج کے لیے رقم جمع کرنے کے بجائے عمرہ کی سعادت حاصل کرنا بہتر سمجھتے ہیں۔ اگرچہ عمرہ اور حج کی شرعی حیثیت الگ الگ ہے، لیکن معاشی مجبوریوں نے لوگوں کو نسبتاً کم خرچ متبادل اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
یہ صورتحال حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے بھی لمحۂ فکر ہے۔ اگر جموں و کشمیر کو ہر سال ہزاروں نشستیں مل رہی ہیں مگر ان میں سے بڑی تعداد خالی رہنے لگے تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کوٹہ ضائع ہو رہا ہے بلکہ اس سے یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ اس خطے کے عوام کی معاشی قوت مسلسل کمزور ہو رہی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو صرف مذہبی معاملہ سمجھنے کے بجائے معاشی اشاریے کے طور پر بھی دیکھے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سرینگر سے حج پروازوں کے اخراجات کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، فضائی کمپنیوں کے درمیان مقابلے کا ماحول پیدا کیا جائے، ممکن ہو تو خصوصی رعایتوں یا سبسڈی کی نئی صورتیں تلاش کی جائیں اور ایسے مالیاتی ماڈلز متعارف کرائے جائیں جن کے ذریعے متوسط طبقہ آسان اقساط میں حج کے اخراجات جمع کر سکے۔ اسی کے ساتھ جموں و کشمیر کی مجموعی معیشت کو مضبوط بنانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور عوام کی قوتِ خرید میں اضافہ کرنا بھی ناگزیر ہے، کیونکہ معاشی خوشحالی ہی مذہبی فرائض کی ادائیگی میں آسانی پیدا کرتی ہے۔
حج درخواستوں میں مسلسل کمی کو کسی ایک وجہ سے جوڑ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ مہنگائی، بے روزگاری، معاشی جمود، بڑھتے ہوئے سفری اخراجات، کرنسی کی صورتحال اور بدلتی معاشی ترجیحات کا مجموعی نتیجہ ہے۔ اس رجحان کو سنجیدگی سے سمجھنے اور اس کے اسباب کا تدارک کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ آنے والے برسوں میں یہ تعداد مزید کم ہو سکتی ہے۔
جموں و کشمیر کے عوام ہمیشہ مذہبی وابستگی، روحانی اقدار اور مقدس مقامات سے محبت کے لیے جانے جاتے رہے ہیں۔ اس لیے یہ تصور کرنا درست نہیں ہوگا کہ حج کی خواہش کم ہو گئی ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ خواہش آج بھی زندہ ہے، مگر استطاعت کمزور پڑ گئی ہے۔ یہی اس پوری صورتحال کا سب سے بڑا المیہ اور سب سے اہم پیغام ہے۔ اگر عوام کی معاشی حالت بہتر ہوگی تو یقیناً بیت اللہ کی طرف بڑھنے والے قدم بھی دوبارہ اسی جوش و جذبے کے ساتھ بڑھیں گے جس کا مظاہرہ چند برس قبل دیکھنے کو ملا تھا۔





