ایجنسیاں
جموں؍۲۷ جولائی
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما اور جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے پیر کے روز کانگریس رہنما راہل گاندھی پر الزام عائد کیا کہ وہ مبینہ نیٹ پرچہ لیک معاملے پر جاری احتجاج سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ مرکزی حکومت طلبہ کے ساتھ معاہدے کے ذریعے ان کے مطالبات پہلے ہی تسلیم کر چکی ہے۔
شرما نے ساتھ ہی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) پر بھی شدید حملہ کرتے ہوئے، جنوبی کشمیر میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد حراست میں لیے گئے تقریباً ڈھائی ہزار افراد کی رہائی کے مطالبے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ پارٹی ’’علیحدگی پسند نظریے کو دوبارہ زندہ کرنے اور اس کے لیے جگہ بنانے‘‘ کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے پی ڈی پی پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
راہل گاندھی کی جانب سے وزیر داخلہ امت شاہ کو لکھے گئے خط پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سنیل شرما نے کہا، ’’راہل گاندھی بلاوجہ خود کو اس پورے معاملے (طلبہ احتجاج) میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس تحریک میں شامل نوجوانوں نے حکومت کے ساتھ خوش اسلوبی سے معاملات طے کیے، جس کے بعد انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا۔‘‘
شرما نے کہا، ’’خواہ وہ معاوضے کا مطالبہ ہو، ایف آئی آر واپس لینے کا، استعفوں کا یا کوئی اور معاملہ، حکومت ہند نے ان کے تمام مطالبات پر ان سے اتفاق کیا۔ اب مجھے سمجھ نہیں آتا کہ راہل گاندھی آخر چاہتے کیا ہیں۔ وہ صرف اپنے لیے سیاسی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ہر محاذ پر شکست کھانے والی کانگریس اب یہاں اپنی اہمیت ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘
اپنے خط میں راہل گاندھی نے امت شاہ سے دہلی میں پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر ’’وحشیانہ حملے‘‘ کے لیے جوابدہی کا مطالبہ کیا تھا اور سوال کیا تھا کہ کیا وہ نوجوانوں کے خلاف پیلٹ گنوں سمیت ’’مہلک طاقت‘‘ کے استعمال کی منظوری دیتے ہیں۔
شرما نے گزشتہ ہفتے جنوبی کشمیر میں ایک پولیس اہلکار کو ایک تنہا دہشت گرد کے ہاتھوں قتل کیے جانے کے بعد گرفتار کیے گئے تقریباً ڈھائی ہزار افراد کی رہائی سے متعلق محبوبہ مفتی کے مبینہ مطالبے کو ’’افسوسناک‘‘ قرار دیا۔انہوں نے سوال اٹھایا، ’’کیا پی ڈی پی ان علیحدگی پسندوں اور دہشت گردوں کو ان طلبہ کے برابر سمجھ رہی ہے جو اپنے مستقبل اور پیشہ ورانہ زندگی کے لیے جدوجہد کر رہے تھے؟‘‘
بی جے پی رہنما نے الزام لگایا کہ پی ڈی پی دراصل پتھراؤ میں ملوث افراد اور دہشت گردوں کے حامیوں کی رہائی کی وکالت کر رہی ہے۔انہوں نے کہا، ’’بدقسمتی سے میں یہ کہوں گا کہ جس سیاسی جماعت کی بنیاد ہی علیحدگی پسندی پر رکھی گئی ہو، اس کے ساتھ بھی وہی سلوک ہونا چاہیے جو جماعت اسلامی اور دیگر کالعدم حریت تنظیموں کے ساتھ کیا گیا۔‘‘
شرما نے کہا کہ علیحدگی پسند نظریے کو دوبارہ زندہ کرنے اور اسے ایک بار پھر جگہ دینے کی کوشش کے باعث پی ڈی پی پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔
دریں اثنا، بی جے پی کے ترجمان زوراور سنگھ نے حالیہ دنوں دو ایسی درسی کتابوں کے تنازع پر، جن میں مبینہ طور پر علیحدگی پسندی کی تعریف کی گئی ہے، نیشنل کانفرنس حکومت کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ اخلاقی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہی ہے۔
سنگھ نے مبینہ نیٹ پرچہ لیک معاملے میں مرکز کے طرز عمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے مرکزی وزیر تعلیم نے اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دیا تھا، حالانکہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی ایک خود مختار ادارہ ہے۔
اس کے برعکس، ان کا کہنا تھا کہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت درسی کتابوں کے تنازع کی ذمہ داری قبول کرنے میں ناکام رہی ہے۔
سنگھ نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے وزیر تعلیم سکینہ ایتو کے استعفے یا برطرفی کا مطالبہ کیا اور نیشنل کانفرنس پر اخلاقیات کے معاملے میں ’’دوہرا معیار‘‘ اپنانے کا الزام عائد کیا۔










