دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی کی شرکت نے جہاں قومی سطح پر ایک سیاسی پیغام دیا، وہیں جموں و کشمیر میں اس پر ایک نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔ یہ بحث صرف اس بات تک محدود نہیں کہ ایک سیاسی رہنما کو طلبہ کے احتجاج میں شریک ہونا چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا وہ سیاسی قیادت، جس کے اپنے دورِ حکومت میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال ہوا ہو، آج طلبہ مظاہرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا اخلاقی جواز رکھتی ہے؟
یہ سوال محض سیاسی مخالفت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ایسے تلخ ماضی سے جڑا ہوا ہے جس کے زخم آج بھی کشمیر کے ہزاروں خاندانوں کے دلوں پر تازہ ہیں۔
محبوبہ مفتی نے ۲۰ جولائی کو دہلی پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے طلبہ کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کیا، لیکن اسی لمحے کشمیر میں بے شمار لوگوں کو ۲۰۱۶ء کی وہ گرمی یاد آگئی جب برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پوری وادی احتجاج کی لپیٹ میں تھی اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گنوں کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا۔ ان کارروائیوں میں ہزاروں نوجوان زخمی ہوئے،سینکڑوں کی بینائی متاثر ہوئی اور متعدد افراد ہمیشہ کے لیے جسمانی معذوری کا شکار بن گئے۔ ان زخمیوں میں خواتین اور کم عمر بچے بھی شامل تھے۔
اس پس منظر میں محبوبہ مفتی کا دہلی جا کر طلبہ کے ساتھ کھڑا ہونا ان کے ناقدین کو منافقت محسوس ہوتا ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ جب کشمیر کے نوجوان سڑکوں پر تھے، تب ریاستی طاقت کے استعمال کو نہ صرف روکا نہیں گیا بلکہ اسے حکومتی پالیسی کا حصہ بنایا گیا۔ آج اگر وہی قیادت دہلی میں پولیس کی کارروائی کو جمہوریت کے خلاف قرار دیتی ہے تو یہ سوال لازماً پیدا ہوگا کہ کیا جمہوری اقدار صرف جغرافیہ بدلنے سے تبدیل ہو جاتی ہیں؟
یہ تنقید صرف محبوبہ مفتی تک محدود نہیں رہی۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی دہلی میں طلبہ پر طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ اگرچہ وہ احتجاج میں شریک نہیں ہوئے، لیکن ان کے بیان کے بعد بھی لوگوں نے ۲۰۱۰ء کے کشمیر کو یاد کیا، جب ان کی حکومت کے دوران احتجاجی مظاہروں میں ایک سو سے زیادہ افراد جان سے گئے تھے۔ اس دور میں بھی ریاستی طاقت کے استعمال، پولیس کارروائیوں اور عوامی غصے نے کشمیر کی سیاست پر گہرے نقوش چھوڑے تھے۔ آج جب وہ مذاکرات اور تحمل کی بات کرتے ہیں تو ناقدین ان سے پوچھتے ہیں کہ یہی اصول اس وقت کیوں اختیار نہیں کیے گئے تھے؟
جموں و کشمیر کی سیاست کا شاید یہی سب سے بڑا المیہ ہے کہ یہاں اکثر اصول اقتدار کے ساتھ بدل جاتے ہیں۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے وہی اقدامات ظلم قرار دیے جاتے ہیں جنہیں اقتدار میں رہتے ہوئے ریاستی ذمہ داری اور قانون نافذ کرنے کی مجبوری کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے اندر سیاسی قیادت کے بیانات پر اعتماد مسلسل کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
اسی تناظر میں اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری کا بیان بھی خاصا اہم ہے۔ انہوں نے محبوبہ مفتی کو جنتر منتر کے احتجاج میں شرکت کا ’کوئی اخلاقی حق نہیں‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ اقتدار میں تھیں تو کشمیر کے احتجاجی نوجوانوں پر پیلٹ گنوں کا استعمال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج دہلی میں جو کچھ ہو رہا ہے، کشمیر کے لوگ گزشتہ تین دہائیوں سے اس کا سامنا کرتے آئے ہیں۔ ان کے مطابق وادی کے نوجوانوں کے جسموں نے یہ ضربیں برداشت کی ہیں اور کئی بچیاں اپنی بینائی سے محروم ہو چکی ہیں۔
اگرچہ بخاری نے محبوبہ مفتی پر سخت تنقید کی، لیکن انہوں نے دہلی کے احتجاجی طلبہ کے مطالبات کو جائز بھی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور ان کا احتجاج حق بجانب ہے۔ اس موقف میں ایک اہم نکتہ پوشیدہ ہے کہ کسی بھی احتجاج کا جائز یا ناجائز ہونا اس بات پر منحصر نہیں ہونا چاہیے کہ احتجاج کہاں ہو رہا ہے یا کون کر رہا ہے، بلکہ اس بات پر ہونا چاہیے کہ کیا اس کے مطالبات منصفانہ ہیں اور کیا ریاست کا ردعمل قانون اور انسانی حقوق کے مطابق ہے۔
البتہ اس پوری بحث کا ایک اور پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ یہ کہ جو سیاست دان آج محبوبہ مفتی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، ان میں سے کئی خود ماضی میں انہی کی حکومت کا حصہ رہ چکے ہیں۔ جب ۲۰۱۶ء میں پیلٹ گنوں اور طاقت کے استعمال پر سوال اٹھ رہے تھے، اس وقت انہی میں سے اکثر نے یا تو خاموشی اختیار کی یا حکومتی کارروائیوں کا دفاع کیا۔ اس لیے اگر آج وہ خود کو عوامی حقوق کا سب سے بڑا محافظ ثابت کرنے کی کوشش کریں تو ان کی اپنی سیاسی ساکھ بھی سوالات سے محفوظ نہیں رہتی۔
یہی وجہ ہے کہ مسئلہ کسی ایک سیاسی جماعت یا ایک رہنما کا نہیں بلکہ پوری سیاسی قیادت کے طرزِ عمل کا ہے۔ کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مختلف حکومتیں آئیں، مختلف جماعتیں اقتدار میں رہیں، مگر احتجاج سے نمٹنے کے لیے طاقت کے استعمال کی روایت تقریباً ہر دور میں برقرار رہی۔ فرق صرف اتنا رہا کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے ہر جماعت نے انہی اقدامات کو غیر جمہوری قرار دیا جن کا اقتدار میں رہتے ہوئے خود سہارا لیا۔
جمہوریت کی اصل روح یہی ہے کہ احتجاج کو ریاست کا دشمن نہیں بلکہ ایک عوامی اظہار سمجھا جائے۔ اگر احتجاج پرامن ہو تو ریاست کی پہلی ترجیح بات چیت، مفاہمت اور اعتماد سازی ہونی چاہیے، نہ کہ طاقت کا مظاہرہ۔ طاقت وقتی طور پر سڑکیں خالی کرا سکتی ہے، لیکن دلوں میں پیدا ہونے والی بے اعتمادی کو ختم نہیں کر سکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی مسائل کا مستقل حل ہمیشہ مذاکرات، انصاف اور عوامی اعتماد سے ہی ممکن ہوا ہے۔
اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ دہلی کے طلبہ ہوں یا کشمیر کے نوجوان، دونوں کا بنیادی مطالبہ انصاف اور شفافیت ہے۔ اگر ایک جگہ پولیس تشدد قابلِ مذمت ہے تو دوسری جگہ بھی ہونا چاہیے۔ اگر ایک طالب علم کی آنکھ میں لگنے والا پیلٹ افسوسناک ہے تو کشمیر کے ان سیکڑوں نوجوانوں کی بینائی بھی اسی قدر قیمتی تھی جو گزشتہ برسوں میں متاثر ہوئی۔ انسانی حقوق کی کوئی جغرافیائی تقسیم نہیں ہوتی اور نہ ہی انصاف کے الگ الگ پیمانے ہو سکتے ہیں۔
سیاسی قیادت کے لیے سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ وہ اقتدار اور اپوزیشن دونوں میں ایک ہی اصول پر قائم رہے۔ اگر سیاست صرف حالات کے مطابق بیانات بدلنے کا نام بن جائے تو عوام کا اعتماد ہمیشہ مجروح ہوتا رہے گا۔ کشمیر کے عوام نے گزشتہ تین دہائیوں میں بہت کچھ دیکھا اور برداشت کیا ہے۔ وہ صرف بیانات نہیں بلکہ کردار میں تسلسل دیکھنا چاہتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ماضی کی غلطیوں کا دیانت داری سے اعتراف کریں، احتجاج سے نمٹنے کے لیے طاقت کے بجائے مکالمے کو ترجیح دینے کا عہد کریں اور انسانی حقوق کے معاملے میں دوہرے معیار ترک کریں۔ جو اصول دہلی کے لیے درست ہیں، وہی سری نگر، پلوامہ، شوپیاں اور سوپور کے لیے بھی ہونے چاہئیں۔
کیونکہ جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب انصاف، قانون اور انسانی وقار کا معیار ہر شہری، ہر علاقے اور ہر حکومت کے لیے یکساں ہو۔ اگر سیاست دان یہ سبق سیکھنے میں کامیاب ہو جائیں تو شاید آنے والی نسلوں کو وہ تلخ تجربات دوبارہ نہ دیکھنے پڑیں جنہوں نے کشمیر اور ملک کے دوسرے حصوں میں ہزاروں خاندانوں کو درد اور محرومی کی داستانوں میں مبتلا کر دیا۔





