آئی ڈبلیو ٹی معطل رہے گی، تاہم انسانی بنیادوں پر ضرورت پڑنے پر سیلابی اعداد و شمار فراہم کیے جائیں گے:وزارت خارجہ
ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۴ جولائی
بھارت نے پاکستانی ذرائع ابلاغ کی ان خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ بھارت جان بوجھ کر پاکستان میں سیلابی صورتحال پیدا کر رہا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو بے بنیاد، حقائق کے منافی اور پاکستان کے اپنے سرکاری ریکارڈ سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دریائے چناب میں پانی کی سطح میں حالیہ اضافہ۲۰ سے۲۳ جولائی۲۰۲۶ کے دوران جموں اور ملحقہ آبی ذخائر میں ہونے والی شدید مون سون بارشوں کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کے فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن، لاہور نے بھی۲۲ جولائی۲۰۲۶ کو جاری اپنی فلڈ ایڈوائزری میں واضح طور پر کہا تھا کہ دریائے چناب میں سیلابی کیفیت بالائی علاقوں میں ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے اور مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ کچھ عرصہ بلند رہنے کے بعد بارشوں میں کمی کے ساتھ بتدریج کم ہو جائے گا۔
بھارت نے کہا کہ دریاؤں میں پانی کی سطح میں اضافہ ایک فطری ہائیڈرولوجیکل عمل ہے، جو مون سون کی شدید بارشوں کے باعث رونما ہوا، نہ کہ بھارت کی کسی دانستہ کارروائی کا نتیجہ۔
بیان میں کہا گیا کہ موسم کی وجہ سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کو بھارت کی جانب سے کسی مداخلت کے طور پر پیش کرنا نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ تکنیکی اعتبار سے بھی ناقابلِ قبول ہے، جبکہ پاکستان کے اپنے سرکاری سیلابی انتباہات بھی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
بھارت نے سیلاب سے متعلق بروقت انتباہ نہ دینے کے الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس عرصے کے دوران دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ اس حد تک غیر معمولی نہیں تھا کہ خصوصی سیلابی وارننگ جاری کی جاتی۔ وزارت خارجہ کے مطابق پانی کا بہاؤ بالائی علاقوں میں مون سون کے معمول کے مطابق تھا، جس کی تصدیق پاکستان کے اپنے فلڈ فورکاسٹنگ اداروں نے بھی کی ہے۔ اس لیے یہ دعویٰ کہ بھارت نے دانستہ طور پر سیلاب سے متعلق معلومات روکے رکھیں، حقائق پر مبنی نہیں ہے۔
تاہم بھارت نے کہا کہ گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی اگر غیر معمولی سیلابی صورتحال پیدا ہوئی تو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سفارتی ذرائع کے ذریعے پاکستان کے ساتھ ہائی فلڈ ڈیٹا کا تبادلہ کیا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹرز ٹریٹی) کے بارے میں بھارت کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا ہے اور یہ معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک پاکستان سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کو قابلِ اعتماد اور ناقابلِ واپسی انداز میں ترک نہیں کرتا۔
دوسری جانب چین سے متعلق سوال کے جواب میں وزارت خارجہ نے کہا کہ خارجہ امور کے وزیر (ای اے ایم) نے واضح کیا ہے کہ خودمختاری کے معاملے میں اعتراض اٹھانے کا حق بھارت کو حاصل ہے کیونکہ بھارت کبھی بھی چین کی خودمختاری کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ اس کے برعکس چین۱۹۶۳ سے جموں و کشمیر اور لداخ کے بھارتی علاقوں پر غیر قانونی قبضہ کیے ہوئے ہے، جس پر بھارت مسلسل اعتراض کرتا رہا ہے۔ وزارت نے یہ بھی کہا کہ چین کی جانب سے جموں و کشمیر کے بھارتی علاقوں میں جاری منصوبوں پر بھی بھارت کو سخت اعتراض ہے۔
بیان میں یوکرین کے شہر اوڈیسا کی بندرگاہ میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کا بھی ذکر کیا گیا۔ وزارت خارجہ نے بتایا کہ بھارت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میری ٹائم ایڈمنسٹریشن سے موصولہ معلومات کے مطابق ایم وی گولڈن لیو نامی گنی بساؤ کے پرچم بردار تجارتی جہاز نے۱۹ جولائی۲۰۲۶ کو روانگی سے قبل اناج بطور مال برداری لوڈ کیا تھا۔
بھارت نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ تجارتی بحری جہازوں اور ملاحوں کو کسی بھی صورت نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ بیان کے مطابق وزیر خارجہ نے یہ مؤقف مشرقی ایشیا سمٹ اور آسیان ریجنل فورم کے اجلاسوں میں بھی واضح کیا تھا اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کے دوران بھی اس کا اعادہ کیا۔
۔۔۔۔۔










