پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد چھ اضلاع میں تلاشی کارروائیاں
سری نگر میں تقریباً۷۰۰ مشتبہ او جی ڈبلیوز زیرِ حراست‘۲ مکانات منہدم
ایجنسیاں
سرینگر؍۲۳جولائی
اننت ناگ میں بدھ کو دہشت گردانہ حملے میں مقامی پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل اشفاق حسین کی ہلاکت کے بعد جموں و کشمیر پولیس نے وادی کے مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر انسدادِ دہشت گردی کارروائی شروع کرتے ہوئے ایک ہزار سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔
پولیس نے وادی کے مختلف اضلاع میں مربوط تلاشی کارروائیاں شروع کیں تاکہ امرناتھ یاترا کی ڈیوٹی پر تعینات ہیڈ کانسٹیبل اشفاق حسین کو اننت ناگ کے لال چوک میں گولی مار کر ہلاک کرنے والے حملہ آور کا سراغ لگایا جا سکے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق چھ اضلاع میں دہشت گرد تنظیموں سے مبینہ طور وابستہ ایک ہزار سے زائد مشتبہ اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا، جن میں صرف سری نگر سے تقریباً۷۰۰؍افراد شامل ہیں۔تاہم خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد تقریباً۳۵۰۰ ہے۔
یہ کریک ڈاؤن ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) نلین پربھات کے حملے کے مقام کا دورہ کرنے اور صورتحال کا جائزہ لینے کے فوراً بعد شروع کیا گیا۔
حملہ آور کی شناخت اور دہشت گرد تنظیموں کی مبینہ معاونت کرنے والے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے مقصد سے اننت ناگ، سری نگر، بڈگام، پلوامہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں بیک وقت تلاشی اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں شروع کی گئیں۔
سری نگر پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ یہ ضلع گیر چھاپے مصدقہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر جاری تحقیقات کے سلسلے میں مارے گئے۔
ترجمان کے مطابق’’مربوط کارروائیوں کے دوران تقریباً۷۰۰ مشتبہ او جی ڈبلیوز کو قانونی ضابطوں کے مطابق پوچھ گچھ اور تصدیق کے لیے حراست میں لیا گیا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد دہشت گرد تنظیموں کو لاجسٹک، مالی، مواصلاتی، نقل و حمل، پناہ گاہ اور دیگر سہولتیں فراہم کرنے والے نیٹ ورک کی نشاندہی اور اس کا خاتمہ کرنا ہے۔
پلوامہ میں پولیس نے تخریبی عناصر کی نقل و حرکت روکنے کے لیے مختلف مقامات پر موبائل ناکے قائم کیے، جہاں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شفاعت نذیر نے تلاشی اور چیکنگ کارروائیوں کی نگرانی کی۔
شوپیاں میں امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی تخریبی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے پولیس نے وسیع پیمانے پر سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں انجام دیں۔
بڈگام میں بھی پولیس نے ضلع بھر میں احتیاطی چھاپے مار کر۲۰۰ سے زائد مشتبہ افراد، جن میں مبینہ او جی ڈبلیوز، شرپسند عناصر اور منشیات سے متعلق جرائم میں ملوث افراد شامل ہیں، کو پوچھ گچھ اور تصدیق کے لیے حراست میں لیا۔
دو مکانات منہدم
دریں اثنا، حکام نے اننت ناگ حملے کے چند گھنٹوں بعد مبینہ طور پر لشکرِ طیبہ سے وابستہ دو سرگرم جنگجوؤں کے مکانات منہدم کر دیے۔حکام نے ان کی شناخت عادل ٹھوکر اور ہارون رشید گنائی کے طور پر کی ہے۔ دونوں کے مکانات بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب منہدم کیے گئے۔
یہ کارروائی اننت ناگ کے لال چوک میں ایک مسلح حملہ آور کے ہاتھوں ہیڈ کانسٹیبل اشفاق حسین کی ہلاکت کے بعد عمل میں لائی گئی۔
قابلِ ذکر ہے کہ ماضی میں بھی کشمیر میں سرگرم دہشت گردوں کے مکانات منہدم کیے جاتے رہے ہیں، تاہم گزشتہ تقریباً ایک سال کے دوران عسکری سرگرمیوں میں کمی آنے کے بعد اس نوعیت کی کارروائیوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی تھی۔
اس دوران پوری وادی کشمیر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کشمیر بھر میں سیکورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے، جبکہ نگرانی کا نظام مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ فورسز نے مختلف مقامات پر ناکوں کی تعداد اور چیکنگ میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ تلاشی کارروائیاں بھی تیز کر دی ہیں۔ یہ اطلاع خبر رساں ایجنسی کے این او نے دی ہے۔
دریں اثنا، سرینگر سی آر پی ایف سیکٹر نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ اننت ناگ میں دہشت گردانہ حملے کے بعد کشمیر بھر میں سیکورٹی کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ امن و قانون کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے سیکورٹی فورسز نے نگرانی میں اضافہ، ناکوں کو مزید مضبوط اور تلاشی کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ چوکس رہیں اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
ادھر، جیسا کہ پہلے بھی اطلاع دی گئی تھی، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا آج سرینگر کے لوک بھون میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں سیکورٹی صورتحال اور امرناتھ یاترا کے انتظامات کا جائزہ لیاگیا۔
واضح رہے کہ ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین بدھ کی دوپہر اننت ناگ کے لال چوک علاقے میں دہشت گردوں کی فائرنگ کا نشانہ بنے تھے۔ انہیں انتہائی قریب سے گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔










