جنوبی کشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع‘وادی بھر میں متعد او ڈبلیو جیز گرفتار
حملہ آوروں سے اس کا حساب ضرور لیا جائے گا :ایل جی سنہا /دہشت گردوں کو اس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا :وزیرا علیٰ
سری نگر؍۲۲ جولائی
جموں و کشمیر میں رواں برس پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے پہلے دہشت گرد حملے میں ایک تنہا دہشت گرد نے بدھ کے روز اننت ناگ میں امرناتھ یاترا کی سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات ایک ہیڈ کانسٹیبل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر انسدادِ دہشت گردی آپریشن شروع کرتے ہوئے درجنوں مشتبہ اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) کو حراست میں لے لیا۔
حکام کے مطابق پولیس اہلکار پر حملہ دوپہر تقریباً۱۲ بج کر۳۰ منٹ پر اننت ناگ کے لال چوک میں کیا گیا۔
آئی آر پی کی تیسری بٹالین کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین، جو امرناتھ یاترا کی سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات تھے، گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال، اننت ناگ منتقل کیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے انہیں اسپتال پہنچنے پر مردہ قرار دے دیا۔
لشکرِ طیبہ کے ذیلی تنظیم دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔
پولیس اہلکار کی ہلاکت کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کا محاصرہ کر لیا اور حملہ آور کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا۔
ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) نلین پربھات نے جائے وقوعہ کا دورہ کر کے صورتحال کا خود جائزہ لیا۔سکیورٹی فورسز نے جنوبی کشمیر کے چار اضلاع اننت ناگ، پلوامہ، شوپیاں اور کولگام میں دہشت گردی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی اور پولیس اہلکار کی ہلاکت کے چند ہی گھنٹوں کے اندر درجنوں مشتبہ اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) کو حراست میں لے لیا۔
حکام نے بتایا کہ پلوامہ میں تخریبی عناصر کی نقل و حرکت روکنے کے لیے مختلف مقامات پر پولیس نے موبائل چیک پوائنٹس قائم کیے۔انہوں نے کہا کہ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شفاعت نجار نے تلاشی اور چیکنگ آپریشن کی نگرانی کی، جو دہشت گرد کی جانب سے ہیڈ کانسٹیبل کو شہید کیے جانے کے فوراً بعد شروع کیا گیا۔
شوپیاں میں بھی پولیس نے ضلع بھر میں امن و امان برقرار رکھنے اور دہشت گردوں کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کو ناکام بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی آپریشن چلایا۔
حکام کے مطابق اس کارروائی کے دوران دہشت گرد نیٹ ورکس سے وابستہ درجنوں مشتبہ او جی ڈبلیوز کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا، جبکہ اننت ناگ اور ملحقہ کولگام ضلع میں بھی اسی نوعیت کی کارروائیاں کی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ چاروں اضلاع میں سینئر پولیس افسران اپنے اپنے علاقوں میں جاری آپریشنز کی براہ راست نگرانی کر رہے ہیں۔
جموں و کشمیر پولیس کے اہلکار پر رواں برس کے پہلے دہشت گرد حملے کی سیاسی رہنماؤں نے شدید مذمت کی۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پولیس اہلکار کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’بزدلانہ کارروائی‘ ہرگز ’بے سزا نہیں رہے گی‘۔
سنہا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا’’میں اس بزدلانہ حملے کی سخت مذمت کرتا ہوں۔ یہ گھناؤنا جرم ہرگز بے سزا نہیں رہے گا۔ جموں و کشمیر پولیس اور ہماری سکیورٹی فورسز میدان میں موجود ہیں اور اس حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گی‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ انہوں نے حملے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ڈی جی پی نلین پربھات سے بات کی۔انہوں نے کہا’’میں نے اننت ناگ میں دہشت گرد حملے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ڈی جی پی نلین پربھات سے بات کی۔ آئی آر پی تیسری بٹالین کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین قریشی کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں، جنہوں نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان قربان کی۔ پورا ملک اس شہید کے اہل خانہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا’’آئی آر پی تیسری بٹالین جموں و کشمیر پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین کی دورانِ ڈیوٹی شہادت پر مجھے گہرا دکھ ہوا ہے۔ ہیڈ کانسٹیبل حسین نے جنوبی کشمیر کے اننت ناگ علاقے میں ایک بزدلانہ دہشت گرد حملے میں عظیم قربانی دی۔ میں اس حملے کی غیر مشروط مذمت کرتا ہوں اور ان کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے‘‘۔
بعد ازاں بیروہ میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے وزئر اعلیٰ نے جہاں جاں بحق پولیس اہلکار کو خراج عقیدت ادا کیا وہیں یہ بھی کہا کہ اس ہلاکت سے دہشت گردوں کو کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔
سی پی آئی (ایم) کے رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون اور اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے بھی اس قتل کی شدید مذمت کی۔
حکام نے بتایا کہ دہشت گردوں کی جانب سے امن و امان کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کیلئے پوری وادی میں سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
ادھرجنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں ایک پولیس اہلکار کی دہشت گرد حملے میں ہلاکت کے بعد سکیورٹی فورسز نے پوری وادی میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے ایک ہزار سے زائد مبینہ اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) کو حراست میں لے لیا ہے۔ حکام نے منگل کو یہ معلومات فراہم کیں۔
ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ حملے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز اور جموں و کشمیر پولیس نے وادی بھر میں مشترکہ چھاپہ مار کارروائیاں شروع کیں۔
افسر نے کہا کہ ان کارروائیوں کے دوران اب تک ایک ہزار سے زائد او جی ڈبلیوز کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جبکہ اننت ناگ سمیت مختلف مقامات پر تلاشی کارروائیوں میں مزید تیزی لائی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین، جو امرناتھ یاترا کی سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات تھے، کو آج دوپہر تقریباً۱۲ بج کر۳۰ منٹ پر اننت ناگ کے لال چوک میں ایک دہشت گرد نے گولی مار کر شہید کر دیا تھا۔
حملے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے حملہ آور کی تلاش کے لیے اننت ناگ شہر کا مکمل محاصرہ کر کے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔










