جموں کے دریاؤں میں پانی خطرے کی سطح سے اوپر‘دور رہنے کی اپیل
ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۲ جولائی:
کشمیر بھر میں مسلسل بارشوں کے باوجود محکمہ فلڈ کنٹرول و آبپاشی (آئی اینڈ ایف سی) نے واضح کیا ہے کہ عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ دریائے جہلم اہم پیمائشی مقامات پر اب بھی وارننگ اور خطرے کی سطح سے کافی نیچے بہہ رہا ہے۔
سرینگر اور وادی کے دوسرے مقامات پر آج دن بھر ہلکی سے درمیانی درجے کی بارشیں ہو ئیں ۔
ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ رم منشی باغ میں دریائے جہلم کی سطح۷ء۹۱ فٹ جبکہ سنگم میں۵ء۵۴فٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ رم منشی باغ میں وارننگ لیول۱۸ فٹ اور خطرے کی سطح۲۱ فٹ ہے، جبکہ سنگم میں وارننگ لیول۲۱ فٹ اور خطرے کی سطح۲۵ فٹ مقرر ہے، جس سے واضح ہے کہ اس وقت دریائے جہلم سیلابی حد سے کافی نیچے بہہ رہا ہے۔
افسر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور پانی کی سطح اور سیلاب سے متعلق تازہ ترین معلومات کے لیے کشمیر فلڈ واچ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔
دریں اثنا، مسلسل بارشوں کے باعث جموں میں دریائے چناب اکھنور کے مقام پر، دریائے توی اور خطے کے دیگر دریاؤں میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے اوپر پہنچ گئی، جس کے بعد انتظامیہ نے حفاظتی مشورے جاری کیے ہیں۔
تازہ ترین فلڈ مانیٹرنگ اعداد و شمار کے مطابق اکھنور میں دریائے چناب شام۵ بجے خطرے کے نشان تک پہنچ گیا، جہاں پانی کی سطح۳۵ء۸ فٹ ریکارڈ کی گئی، جو الرٹ لیول۳۲ء۰ فٹ سے تین درجے زیادہ ہے، جبکہ انخلا کی سطح۴۲ء۰فٹ مقرر کی گئی ہے۔حکام نے بتایا کہ پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے اور تمام متعلقہ ایجنسیاں صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ادھر ماہر موسمیات سونم لوٹس نے کہا کہ جموں و کشمیر میں آج(بدھ) بھی موسمی صورتحال انتہائی نازک رہے گی، اس لیے عوام کو مکمل احتیاط برتنی چاہیے اور انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔انہوں نے تاہم امید ظاہر کی کہ کل سے موسم میں بہتری آنے کا امکان ہے۔
لوٹس نے کہا کہ موجودہ بارشوں کا سلسلہ ایک فعال مانسون نظام اور بحیرۂ عرب سے آنے والی نمی کے امتزاج کا نتیجہ ہے، جس کے باعث جموں و کشمیر کے کئی علاقوں میں غیر معمولی بارشیں ہوئیں۔ تاہم سری نگر اور جنوبی کشمیر کے بعض علاقوں میں دیگر علاقوں کے مقابلے میں نسبتاً کم بارش ریکارڈ کی گئی۔
ماہر موسمیات نے کہا کہ مسلسل بارشوں کے باعث زمین پہلے ہی مکمل طور پر سیراب ہو چکی ہے اور اب اس میں مزید پانی جذب کرنے کی صلاحیت بہت کم رہ گئی ہے، جس کی وجہ سے مختلف علاقوں میں اچانک سیلاب (فلیش فلڈ) کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔
لوٹس نے عوام سے اپیل کی کہ موسم میں بہتری آنے تک غیر ضروری سفر، خصوصاً حساس علاقوں کی جانب، سے گریز کریں اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل جاری رکھیں۔
دوسری جانب ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی) انیل کمار سنگھ نے آج ادھم پور سے چنینی تک قومی شاہراہ این ایچ۴۴کے لینڈ سلائیڈ سے متاثرہ حصوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔
دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے حالیہ لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والے نقصانات، ملبہ ہٹانے اور شاہراہ کی بحالی کے جاری کاموں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
سنگھ نے این ایچ اے آئی کو ہدایت دی کہ شاہراہ کی جلد بحالی کے لیے کام میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ ٹریفک جلد از جلد بحال ہو اور عوام کو درپیش مشکلات کم کی جا سکیں۔ انہوں نے ٹولڈی پل کے منصوبے کا بھی معائنہ کیا اور اس کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
انہوں نے ٹریفک پولیس اور این ایچ اے آئی کو باہمی تال میل کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ این ایچ۴۴پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھی جائے، جبکہ لینڈ سلائیڈ سے متاثرہ تمام مقامات سے ملبہ فوری طور پر ہٹا کر مسافروں کی سلامتی اور سہولت کو یقینی بنایا جائے۔
۔۔۔۔۔










