منگل, اکتوبر 20, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

 دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کا این سی احتجاج سی جے پی مظاہرے کی نذر

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-07-21
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
 دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کا این سی احتجاج سی جے پی مظاہرے کی نذر
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

اتحادی جماعتوں کی بھی سرد مہری‘پی ڈی پی، پی سی اور دیگر مخالفین کی کڑی تنقید؛ ناقص منصوبہ بندی، کمزور حکمت عملی پر بھی سوالات

(ندائے مشرق ویب ڈیسک )

متعلقہ

’ایل جی کی واپسی پرکابینہ میں توسیع ہوگی‘

دسویں جماعت کے امتحانات شروع‘۹۷ہزار سے زائد طلبہ شریک

سرینگر؍۲۰جولائی

جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے نیشنل کانفرنس نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے روز نئی دہلی میں احتجاج کا اہتمام کیا، تاہم یہ مظاہرہ نہ صرف دیگر احتجاجی سرگرمیوں خاص کر کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی) کے مظاہروں کے باعث پس منظر میں چلا گیا بلکہ’ انڈیا اتحاد‘ کی جماعتوں کی جانب سے بھی اسے خاطر خواہ حمایت حاصل نہ ہو سکی۔

انڈئن ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق نیشنل کانفرنس نے اس امید کے ساتھ قومی دارالحکومت میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا تھا کہ اس سے قومی سطح پر زیادہ توجہ حاصل ہوگی، میڈیا میں وسیع کوریج ملے گی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی حمایت بھی حاصل ہوگی۔ پارٹی نے اپنے مطالبے کو صرف ریاستی درجے کی بحالی تک محدود رکھا، کیونکہ اس مطالبے کو مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے پہلے ہی وسیع حمایت حاصل رہی ہے اور اسے نسبتاً قابلِ قبول سیاسی نعرہ سمجھا جاتا ہے۔

تاہم پیر کے روز نیشنل کانفرنس سیاسی طور پر تنہا دکھائی دی۔ احتجاج میں پارٹی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، دیگر نیشنل کانفرنس رہنما اور جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے چند رہنما ہی شریک ہوئے۔

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا’’ہمیں جنتر منتر پہنچنے سے روکا گیا اور اپنے جائز حق کے لیے پُرامن احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، لیکن ہماری آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ریاستی درجے، ہمارے حقوق، ہماری عزت اور ہم سے چھینی گئی ہر چیز کی بحالی کی جدوجہد کا محض آغاز ہے‘‘۔

وزیر اعلیٰ نے دہلی پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹوں کے قریب بیٹھے اپنی تصاویر بھی شیئر کیں۔ایک اور پوسٹ میں عمر عبداللہ نے آٹو رکشہ میں سفر کرتے ہوئے اپنی ویڈیو شیئر کی اور لکھا’’جنتر منتر سے میری پیدل روانگی ایک اور جلوس کی شکل اختیار کرنے والی تھی، اس لیے ہم نے دستیاب پہلی سواری، یعنی آٹو رکشہ، کا انتخاب کیا‘‘۔

رپورٹ کے مطابق اپوزیشن پارٹی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رکن اسمبلی وحید پرہ نے احتجاج کے مقام کے انتخاب پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا’’دہلی میں احتجاج کرنے کا فیصلہ غلط تھا۔ سب سے طاقتور احتجاج کشمیر میں، اپنے ہی لوگوں کے درمیان ہونا چاہیے تھا‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج میں ناقص انتظامات دیکھنے میں آئے۔’’یہ ایک سیلفی شو تھا، سنجیدگی کہیں نظر نہیں آئی۔ نوجوانوں کے احتجاج سے اس کا موازنہ کیجیے، دونوں کے مناظر میں زمین آسمان کا فرق تھا‘‘۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے پیر کے روز دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے پر برسرِ اقتدار نیشنل کانفرنس کے احتجاج کو ’بے رنگ، جان بوجھ کر مدھم رکھا گیا اور کمزور انداز کا احتجاج‘ قرار دیا۔

التجا مفتی نے کہا’’ذرا تصور کیجیے کہ کسی بے ترتیب دہلی کلب میں منعقد ہونے والے ایک روزہ، بے رنگ اور جان بوجھ کر کمزور رکھے گئے احتجاج، جس میں آرٹیکل۳۷۰ کا سرے سے کوئی ذکر تک نہ ہو، کے بجائے جنتر منتر پر ایسا احتجاج ہوتا جہاں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے حق میں نعرے گونج رہے ہوتے‘‘۔

پی ڈی پی لیڈر نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ جموں و کشمیر کی منتخب حکومت آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی جیسے ’غیر قانونی اور عوام کو اختیارات سے محروم کرنے والے اقدام‘ کو معمول کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اگرچہ احتجاج میں جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق اور وقار سے متعلق بینرز بھی اٹھائے گئے تھے، تاہم نیشنل کانفرنس اپنے مقامی سیاسی حریفوں کو اس احتجاج میں شامل کرنے میں ناکام رہی۔ مبصرین کے مطابق احتجاج کو صرف ریاستی درجے کی بحالی تک محدود رکھنے اور خصوصی حیثیت سمیت دیگر آئینی ضمانتوں کا ذکر نہ کرنے سے حمایت کا دائرہ مزید وسیع نہیں ہو سکا۔

ادھر جموں و کشمیر اسمبلی میں خصوصی حیثیت اور ریاستی درجے سے متعلق اپوزیشن کی قراردادوں کو پیش کرنے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے نے بھی مخالف جماعتوں کو یہ کہنے کا موقع دیا کہ نیشنل کانفرنس ان بنیادی معاملات پر منتخب انداز میں سیاست کر رہی ہے۔

پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون نے بھی نیشنل کانفرنس کی حکمت عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسی قراردادیں سب سے پہلے جموں و کشمیر اسمبلی میں منظور ہونی چاہئیں اور ان میں آرٹیکل۳۷۰؍اور آرٹیکل۳۵-اے کی بحالی جیسے بنیادی مطالبات بھی شامل ہونے چاہئیں۔

لون نے کہا’’اسمبلی کے اندر موجود آئینی راستے اختیار کیے بغیر براہِ راست دہلی جانا دراصل اس پورے عمل میں جموں و کشمیر کے عوام کے کردار کو کمزور کرتا ہے‘‘۔

رپورٹ کے مطابق نیشنل کانفرنس کے اندر بھی بعض رہنماؤں نے اس اہم احتجاج سے قبل مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔پارٹی کے ایک سابق رکن اسمبلی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا’’یہ درست ہے کہ دوسرے احتجاج کا اعلان ہمارے بعد ہوا، لیکن ہم اپنی حکمت عملی میں تبدیلی نہیں لا سکے۔ اگر مناسب منصوبہ بندی کی جاتی تو دہلی میں چند ہزار افراد کو باآسانی جمع کیا جا سکتا تھا، مگر اس حوالے سے کوئی تیاری نہیں کی گئی‘‘۔

سری نگر کے سابق میئر جنید عظیم مٹو نے بھی سوشل میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے لکھا’’نیم دلانہ، غیر منصوبہ بند اور ادھورا احتجاج کشمیر کے وقار اور حقوق کی بحالی کے مقصد کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ایک ایسی جماعت جس کی حکومت ہو، چالیس سے زیادہ اراکین اسمبلی اور پانچ ارکان پارلیمان ہوں، کیا وہ دہلی میں پانچ ہزار افراد بھی جمع نہیں کر سکتی تھی؟‘‘

متو نے مزید لکھا’’یہ افسوسناک ہے کہ ایک اور احتجاج نے ایک منتخب وزیر اعلیٰ، ارکان پارلیمان اور اراکین اسمبلی کے احتجاج کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ جب نہ تیاری تھی اور نہ سنجیدگی، تو پھر احتجاج کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟‘‘

اپنی ایک اور پوسٹ میں انہوں نے کہا’’جموں و کشمیر کے عوام کو اس ناقص احتجاج کے ذریعے شرمندہ کیوں کیا گیا، جو احتجاج سے زیادہ نیشنل کانفرنس کی دہلی سیر معلوم ہو رہا تھا۔ یہ انتہائی مایوس کن، افسوسناک اور شرمندگی کا باعث ہے۔‘‘

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

Next Post

جموں کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

ریاستی درجے کی متوقع حمایت نہ  ملنے پر فاروق انڈیا بلاک سے مایوس
اہم ترین

’ایل جی کی واپسی پرکابینہ میں توسیع ہوگی‘

2026-10-20
برفباری:۳۰؍اور ۳۱ جنوری کے امتحانات ملتوی
اہم ترین

دسویں جماعت کے امتحانات شروع‘۹۷ہزار سے زائد طلبہ شریک

2026-10-20
شاہراہ کی بندش کے دوران   باغبانی کی پیداوار کی بلا رکاوٹ   ترسیل یقینی بنائی جائے:محبوبہ
اہم ترین

محبوبہ کی وزیر داخلہ سے جموں کشمیر کے فنکاروں کیلئے خصوصی فنڈز مختص کرنے کی اپیل

2026-10-20
ایل اے ایچ ڈی سی کے قانونی ڈھانچے میں ترمیم پر اعتراض
اہم ترین

ایل اے ایچ ڈی سی کے قانونی ڈھانچے میں ترمیم پر اعتراض

2026-10-20
پی او جے کے بھی بھارت کا ناقابلِ تنسیخ حصہ:وزارت خارجہ
اہم ترین

بھارت نے جموں و کشمیر سے متعلق او آئی سی کی قرارداد مسترد کر دی

2026-10-20
نوجوان کی پولیس تھانے میں موت‘عدالت کی پولیس اہلکار کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت
اہم ترین

بانڈی پورہ میں 6500 روپے رشوت کیس: پوسٹل اسسٹنٹ کے خلاف چارج شیٹ دائر

2026-10-20
پلوامہ کے لاپتہ سبکدوش سرکاری ملازم کی لاش چوبیس روز بعد بر آمد
اہم ترین

گھر میں بیٹے کو لٹکتا دیکھ کر ماں نے کھڑکی سے چھلانگ لگا دی

2026-10-20
کپوارہ میں سرکاری ملازم منشیات فروش نکلا‘ گرفتار، براؤن شوگر بر آمد
اہم ترین

کشتواڑ میں ایس پی او کے  قتل کے الزام میں باپ بیٹا گرفتار

2026-10-20
Next Post
جموں کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی

جموں کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.