اتحادی جماعتوں کی بھی سرد مہری‘پی ڈی پی، پی سی اور دیگر مخالفین کی کڑی تنقید؛ ناقص منصوبہ بندی، کمزور حکمت عملی پر بھی سوالات
(ندائے مشرق ویب ڈیسک )
سرینگر؍۲۰جولائی
جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے نیشنل کانفرنس نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے روز نئی دہلی میں احتجاج کا اہتمام کیا، تاہم یہ مظاہرہ نہ صرف دیگر احتجاجی سرگرمیوں خاص کر کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی) کے مظاہروں کے باعث پس منظر میں چلا گیا بلکہ’ انڈیا اتحاد‘ کی جماعتوں کی جانب سے بھی اسے خاطر خواہ حمایت حاصل نہ ہو سکی۔
انڈئن ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق نیشنل کانفرنس نے اس امید کے ساتھ قومی دارالحکومت میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا تھا کہ اس سے قومی سطح پر زیادہ توجہ حاصل ہوگی، میڈیا میں وسیع کوریج ملے گی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی حمایت بھی حاصل ہوگی۔ پارٹی نے اپنے مطالبے کو صرف ریاستی درجے کی بحالی تک محدود رکھا، کیونکہ اس مطالبے کو مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے پہلے ہی وسیع حمایت حاصل رہی ہے اور اسے نسبتاً قابلِ قبول سیاسی نعرہ سمجھا جاتا ہے۔
تاہم پیر کے روز نیشنل کانفرنس سیاسی طور پر تنہا دکھائی دی۔ احتجاج میں پارٹی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، دیگر نیشنل کانفرنس رہنما اور جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے چند رہنما ہی شریک ہوئے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا’’ہمیں جنتر منتر پہنچنے سے روکا گیا اور اپنے جائز حق کے لیے پُرامن احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، لیکن ہماری آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ریاستی درجے، ہمارے حقوق، ہماری عزت اور ہم سے چھینی گئی ہر چیز کی بحالی کی جدوجہد کا محض آغاز ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے دہلی پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹوں کے قریب بیٹھے اپنی تصاویر بھی شیئر کیں۔ایک اور پوسٹ میں عمر عبداللہ نے آٹو رکشہ میں سفر کرتے ہوئے اپنی ویڈیو شیئر کی اور لکھا’’جنتر منتر سے میری پیدل روانگی ایک اور جلوس کی شکل اختیار کرنے والی تھی، اس لیے ہم نے دستیاب پہلی سواری، یعنی آٹو رکشہ، کا انتخاب کیا‘‘۔
رپورٹ کے مطابق اپوزیشن پارٹی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رکن اسمبلی وحید پرہ نے احتجاج کے مقام کے انتخاب پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا’’دہلی میں احتجاج کرنے کا فیصلہ غلط تھا۔ سب سے طاقتور احتجاج کشمیر میں، اپنے ہی لوگوں کے درمیان ہونا چاہیے تھا‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج میں ناقص انتظامات دیکھنے میں آئے۔’’یہ ایک سیلفی شو تھا، سنجیدگی کہیں نظر نہیں آئی۔ نوجوانوں کے احتجاج سے اس کا موازنہ کیجیے، دونوں کے مناظر میں زمین آسمان کا فرق تھا‘‘۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے پیر کے روز دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے پر برسرِ اقتدار نیشنل کانفرنس کے احتجاج کو ’بے رنگ، جان بوجھ کر مدھم رکھا گیا اور کمزور انداز کا احتجاج‘ قرار دیا۔
التجا مفتی نے کہا’’ذرا تصور کیجیے کہ کسی بے ترتیب دہلی کلب میں منعقد ہونے والے ایک روزہ، بے رنگ اور جان بوجھ کر کمزور رکھے گئے احتجاج، جس میں آرٹیکل۳۷۰ کا سرے سے کوئی ذکر تک نہ ہو، کے بجائے جنتر منتر پر ایسا احتجاج ہوتا جہاں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے حق میں نعرے گونج رہے ہوتے‘‘۔
پی ڈی پی لیڈر نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ جموں و کشمیر کی منتخب حکومت آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی جیسے ’غیر قانونی اور عوام کو اختیارات سے محروم کرنے والے اقدام‘ کو معمول کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اگرچہ احتجاج میں جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق اور وقار سے متعلق بینرز بھی اٹھائے گئے تھے، تاہم نیشنل کانفرنس اپنے مقامی سیاسی حریفوں کو اس احتجاج میں شامل کرنے میں ناکام رہی۔ مبصرین کے مطابق احتجاج کو صرف ریاستی درجے کی بحالی تک محدود رکھنے اور خصوصی حیثیت سمیت دیگر آئینی ضمانتوں کا ذکر نہ کرنے سے حمایت کا دائرہ مزید وسیع نہیں ہو سکا۔
ادھر جموں و کشمیر اسمبلی میں خصوصی حیثیت اور ریاستی درجے سے متعلق اپوزیشن کی قراردادوں کو پیش کرنے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے نے بھی مخالف جماعتوں کو یہ کہنے کا موقع دیا کہ نیشنل کانفرنس ان بنیادی معاملات پر منتخب انداز میں سیاست کر رہی ہے۔
پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون نے بھی نیشنل کانفرنس کی حکمت عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسی قراردادیں سب سے پہلے جموں و کشمیر اسمبلی میں منظور ہونی چاہئیں اور ان میں آرٹیکل۳۷۰؍اور آرٹیکل۳۵-اے کی بحالی جیسے بنیادی مطالبات بھی شامل ہونے چاہئیں۔
لون نے کہا’’اسمبلی کے اندر موجود آئینی راستے اختیار کیے بغیر براہِ راست دہلی جانا دراصل اس پورے عمل میں جموں و کشمیر کے عوام کے کردار کو کمزور کرتا ہے‘‘۔
رپورٹ کے مطابق نیشنل کانفرنس کے اندر بھی بعض رہنماؤں نے اس اہم احتجاج سے قبل مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔پارٹی کے ایک سابق رکن اسمبلی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا’’یہ درست ہے کہ دوسرے احتجاج کا اعلان ہمارے بعد ہوا، لیکن ہم اپنی حکمت عملی میں تبدیلی نہیں لا سکے۔ اگر مناسب منصوبہ بندی کی جاتی تو دہلی میں چند ہزار افراد کو باآسانی جمع کیا جا سکتا تھا، مگر اس حوالے سے کوئی تیاری نہیں کی گئی‘‘۔
سری نگر کے سابق میئر جنید عظیم مٹو نے بھی سوشل میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے لکھا’’نیم دلانہ، غیر منصوبہ بند اور ادھورا احتجاج کشمیر کے وقار اور حقوق کی بحالی کے مقصد کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ایک ایسی جماعت جس کی حکومت ہو، چالیس سے زیادہ اراکین اسمبلی اور پانچ ارکان پارلیمان ہوں، کیا وہ دہلی میں پانچ ہزار افراد بھی جمع نہیں کر سکتی تھی؟‘‘
متو نے مزید لکھا’’یہ افسوسناک ہے کہ ایک اور احتجاج نے ایک منتخب وزیر اعلیٰ، ارکان پارلیمان اور اراکین اسمبلی کے احتجاج کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ جب نہ تیاری تھی اور نہ سنجیدگی، تو پھر احتجاج کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟‘‘
اپنی ایک اور پوسٹ میں انہوں نے کہا’’جموں و کشمیر کے عوام کو اس ناقص احتجاج کے ذریعے شرمندہ کیوں کیا گیا، جو احتجاج سے زیادہ نیشنل کانفرنس کی دہلی سیر معلوم ہو رہا تھا۔ یہ انتہائی مایوس کن، افسوسناک اور شرمندگی کا باعث ہے۔‘‘










