اگر مغربی ایشیا جیسی موجودہ صورتحال۲۰۱۴ سے پہلے پیدا ہوتی تو ہندوستانی ریلوے مکمل طور پر مفلوج ہو جاتی:وزیر اعظم مودی
’لیکن یہ۲۰۱۴ والا بھارت نہیں ہے‘ مودی پہلے سے سوچتا ہے اور مسائل کے حل کو عملی جامہ بھی پہناتا ہے‘
جند (ہریانہ)؍۱۷ جولائی
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے باوجود بھارت کی ترقی کی رفتار برقرار رہی، کیونکہ گزشتہ بارہ برسوں میں ہندوستانی ریلوے کے تقریباً۹۹ فیصد نیٹ ورک کی برق کاری مکمل کر لی گئی ہے۔
ہریانہ کے جند میں بھارت کی پہلی ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین کو جند سے سونی پت کے لیے روانہ کرنے کے بعد عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کانگریس کی قیادت والی سابقہ یو پی اے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر مغربی ایشیا جیسی موجودہ صورتحال۲۰۱۴ سے پہلے پیدا ہوتی تو ہندوستانی ریلوے مکمل طور پر مفلوج ہو جاتی، کیونکہ اس وقت بیشتر ٹرینیں ڈیزل پر چلتی تھیں۔
مودی نے کہا کہ مغربی ایشیا میں گزشتہ کئی ماہ سے جنگ جاری ہے اور آبنائے ہرمز سمیت پورا خطہ کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، جہاں سے بھارت کو پٹرول، ڈیزل، ایل پی جی اور کسانوں کے لیے کھاد کی بڑی مقدار درآمد ہوتی ہے۔انہوں نے کہا’’سوچیے اگر یہی صورتحال۲۰۱۴ سے پہلے پیش آتی تو کیا ہوتا؟ اس وقت ملک کے بیشتر حصوں میں ٹرینیں صرف ڈیزل سے چلتی تھیں۔ اگر ڈیزل کی سپلائی متاثر ہوتی تو ریلوے کا پورا نظام رک جاتا اور ملک کو سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑتا‘‘۔
وزیر اعظم نے کہا ’’لیکن یہ۲۰۱۴ والا بھارت نہیں ہے۔ مودی پہلے سے سوچتا ہے اور مسائل کے حل کو عملی جامہ بھی پہناتا ہے‘‘۔
مودی نے بتایا کہ ہندوستانی ریلوے میں برق کاری کا عمل۱۹۲۵ میں شروع ہوا تھا، مگر اس کے بعد تقریباً۹۰ برسوں میں صرف۳۰ فیصد ریلوے نیٹ ورک ہی برقی بنایا جا سکا، جبکہ باقی۷۰ فیصد حصہ ڈیزل پر منحصر تھا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اگر اسی رفتار سے کام جاری رہتا تو پورے ریلوے نیٹ ورک کی برق کاری مکمل ہونے میں مزید تقریباً۲۰۰سال لگ جاتے اور بھارتی ریلوے شاید کبھی بھی ڈیزل سے مکمل طور پر نجات حاصل نہ کر پاتی۔مودی نے کہا کہ گزشتہ۱۲ برسوں میں ان کی حکومت نے ریلوے نیٹ ورک کے تقریباً۹۹فیصد حصے کی برق کاری مکمل کر دی ہے، جبکہ ہریانہ میں ریلوے نیٹ ورک سو فیصد برقی ہو چکا ہے۔
مودی نے کہا کہ اسی وجہ سے مغربی ایشیا میں جنگ اور تیل کی سپلائی کے بحران کے باوجود نہ صرف بھارتی ریلوے کی خدمات متاثر نہیں ہوئیں بلکہ ملک کی ترقی بھی بلا تعطل جاری رہی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین بھارت میں گرین موبلٹی کی سمت ایک بڑی پیش رفت ہے اور یہ ماحول دوست نقل و حمل کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔
مودی نے اپنے حالیہ انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان دوروں کے دوران کئی اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے، تاہم ایک اہم موضوع جسے زیادہ توجہ نہیں ملی، وہ کھیلوں کے شعبے میں تعاون تھا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی حکومتوں کے ساتھ کھیلوں کی صنعت، کھلاڑیوں کی تربیت اور دیگر متعلقہ شعبوں میں تعاون پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے، جس سے خصوصاً ہریانہ کے نوجوان کھلاڑیوں کو مستقبل میں نمایاں فائدہ پہنچے گا۔
مودی نے کہا کہ آج بھارت میں کھیلوں کو فٹنس اور روزگار کے ایک بڑے ذریعہ کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ حکومت نے نئی’کھیلو بھارت پالیسی‘ متعارف کرائی ہے، جبکہ کھیلو انڈیا مہم اور ٹارگٹ اولمپک پوڈیم اسکیم کے ذریعے کھلاڑیوں کو بے مثال مالی اور تکنیکی تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اگرچہ آج کا پروگرام ہائیڈروجن ٹرین اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ہے، تاہم وہ نوجوانوں سے بھی کہنا چاہتے ہیں کہ بھارت۲۰۳۰کے دولتِ مشترکہ کھیلوں (کامن ویلتھ گیمز) کی میزبانی کرے گا، جبکہ۲۰۳۶کے اولمپکس کی میزبانی حاصل کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے۔
مودی نے نوجوان کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ مکمل محنت اور عزم کے ساتھ ابھی سے تیاری کریں اور یقین دلایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ڈبل انجن حکومت انہیں کامیابی کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔









