ایجنسیاں
جموں؍۱۷ جولائی
جموں کی پرنسپل سیشنز کورٹ نے سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر مبینہ قاتلانہ حملے کے مقدمے میں گرفتار ملزم کمل سنگھ کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ الزامات کی سنگینی، امن و امان پر ممکنہ اثرات اور ملزم کی جانب سے دوبارہ اسی نوعیت کے جرم کے ارتکاب کے خدشے کے پیش نظر اسے ضمانت دینا مناسب نہیں ہوگا۔
پرنسپل سیشنز جج آر این واتل نے۱۷ جولائی کو یہ فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کی درخواست مسترد کر دی۔ یہ مقدمہ پولیس اسٹیشن گنگیال، جموں میں درج ایک ایف آئی آر کے تحت بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی متعلقہ دفعات اور اسلحہ قانون کی ایک دفعہ (بعد میں دفعہ۳۰ کے طور پر درج) کے تحت قائم کیا گیا ہے۔
ملزم کمل سنگھ کی جانب سے ایڈووکیٹ پرنس کھنہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کا مؤکل بے قصور ہے، عمر رسیدہ ہے اور اعصابی و نفسیاتی بیماریوں سمیت متعدد طبی عوارض میں مبتلا ہے۔ دفاع نے کہا کہ ملزم کا ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا بلکہ وہ شادی کی تقریب کے دوران صرف ان کے ساتھ تصویر کھنچوانا چاہتا تھا۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ تفتیش تقریباً مکمل ہو چکی ہے، اس لیے طبی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ضمانت دی جائے۔
سرکاری وکیل ہیمانشو پرکاش نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم عوامی شخصیت کے قتل کی مبینہ اور سیاسی محرکات پر مبنی سنگین کوشش کا معاملہ ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس مرحلے پر ضمانت دینے سے عوام کا نظامِ انصاف پر اعتماد مجروح ہو سکتا ہے، گواہوں میں خوف پیدا ہو سکتا ہے اور اس طرح کے جرائم کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔
استغاثہ کے مطابق دورانِ تفتیش ملزم نے مبینہ طور پر یہ بھی کہا کہ اگر اسے دوبارہ موقع ملا تو وہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو قتل کرنے کی کوشش کرے گا، اور اس نے اپنے مبینہ فعل پر کسی قسم کی ندامت کا اظہار بھی نہیں کیا۔
استغاثہ کے مطابق یہ واقعہ۱۱ مارچ۲۰۲۶ کو جموں کے گریٹر کیلاش علاقے میں واقع رائل پارک میں ایک شادی کی تقریب کے دوران پیش آیا، جہاں ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری بھی موجود تھے۔ تفتیشی حکام کے مطابق کمل سنگھ نے ڈاکٹر عبداللہ کو قتل کرنے کی نیت سے ریوالور سے فائر کیا، تاہم گولی اپنے ہدف کو نہیں لگ سکی۔
پولیس نے تفتیش کے دوران مبینہ واردات میں استعمال ہونے والا ریوالور، زندہ کارتوس، خالی خول اور دیگر شواہد برآمد کیے، جبکہ بعد ازاں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے معاملے کی تفصیلی تحقیقات کیں۔
استغاثہ نے عدالت کے سامنے فرانزک اور دستاویزی شواہد بھی پیش کیے، جن میں ملزم کی مبینہ ہاتھ سے لکھی گئی تحریریں شامل تھیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق ان تحریروں سے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے خلاف طویل عرصے سے موجود ناراضی اور نفرت کا اظہار ہوتا ہے، جس کی وجہ کشمیری پنڈتوں کی ہجرت اور شورش کے دوران املاک کے نقصان سے متعلق معاملات بتائی گئی۔ تحقیقات کے مطابق فرانزک جانچ میں یہ تحریریں ملزم کی ہی ثابت ہوئی ہیں۔
اپنے تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ عوامی شخصیات پر حملے جیسے جرائم صرف کسی ایک فرد کے خلاف نہیں ہوتے بلکہ ان کے دور رس اثرات عوامی امن، جمہوری استحکام اور قانون کی حکمرانی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ایسے مقدمات میں فرد کی آزادی اور معاشرے کے مفاد کے درمیان توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ استغاثہ کے ریکارڈ میں پیشگی منصوبہ بندی، اسلحہ کی برآمدگی، مبینہ محرکات اور ملزم کے ایسے بیانات کا ابتدائی ثبوت موجود ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ رہائی کی صورت میں وہ دوبارہ اسی نوعیت کا جرم کر سکتا ہے۔ ان حالات میں عوامی سلامتی اور نظامِ انصاف کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
ملزم کی ذہنی بیماری اور طبی حالت سے متعلق دفاع کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ایسا کوئی قابلِ اعتماد طبی ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے ثابت ہو کہ ملزم ایسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے جو ضمانت دینے کا جواز فراہم کرے۔ عدالت نے مزید کہا کہ عدالتی تحویل کے دوران بھی اسے نفسیاتی علاج اور دیگر طبی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں، جبکہ قانونی طور پر ذہنی عدم توازن کا فیصلہ مقدمے کی سماعت کے دوران شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
آخر میں عدالت نے قرار دیا کہ جرم کی نوعیت، اس کے دوبارہ وقوع پذیر ہونے کا خدشہ، وسیع تر عوامی مفاد، انصاف سے فرار ہونے یا مقدمے پر اثر انداز ہونے کے امکانات، دفاع کی جانب سے پیش کی گئی وجوہات پر بھاری ہیں، لہٰذا پرنسپل سیشنز جج آر این وٹل نے ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔
عدالت نے واضح کیا کہ اس حکم میں کیے گئے تمام مشاہدات صرف ضمانت کی درخواست کے فیصلے تک محدود ہیں اور ان کا مقدمے کی اصل سماعت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔










