پی او جے کے میں جاری احتجاج اسلام آباد کا گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ’منظم استحصال اور انتظامی جبر‘ کا براہِ راست نتیجہ
مقامی آبادی کے جائز مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے پاکستان نے سخت پولیس کارروائی کا راستہ اختیار کیا ہے:دہلی
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۱۴ جولائی
بھارت نے منگل کو پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) میں جاری احتجاجی مظاہروں کو اسلام آباد کی جانب سے گزشتہ کئی دہائیوں سے مبینہ طور پر جاری ’منظم استحصال اور انتظامی جبر‘ کا براہِ راست نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو وہاں ہونے والی ’سنگین خلاف ورزیوں‘پر پاکستان کا احتساب کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ ماہ سے مہنگائی، انتظامی بے حسی، سیاسی امتیاز اور اقلیتوں پر مبینہ مظالم کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس کی سخت کارروائیوں میں متعدد مظاہرین ہلاک جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ نئی دہلی کو توقع ہے کہ عالمی برادری پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں ہونے والی ’سنگین زیادتیوں اور بداعمالیوں‘ پر پاکستان کو مکمل طور پر جوابدہ ٹھہرائے گی۔
جیسوال نے کہا’’پی او جے کے میں جاری احتجاج پاکستان کی جانب سے اپنے غیر قانونی اور جبری قبضے والے علاقوں میں دہائیوں سے جاری منظم استحصال، بنیادی حقوق سے محرومی اور انتظامی جبر کا براہِ راست نتیجہ ہے‘‘۔
ترجمان نے الزام عائد کیا کہ مقامی آبادی کے جائز مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے پاکستانی ریاست نے سخت پولیس کارروائی کا راستہ اختیار کیا ہے، جس میں بے بس خواتین اور بچوں پر بھی تشدد کیا گیا، خوراک اور ادویات سمیت ضروری اشیاء کی فراہمی روکی گئی، انٹرنیٹ خدمات معطل کی گئیں اور نہتے شہریوں کے خلاف مہلک طاقت کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا’’ہم توقع کرتے ہیں کہ عالمی برادری ان سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بداعمالیوں پر پاکستان کو مکمل طور پر جوابدہ ٹھہرائے گی‘‘۔انہوں نے یہ بیان ایک صحافی کے سوال کے جواب میں دیا۔
جیسوال نے کہا کہ جنوبی بحیرۂ چین کے مسئلے پربھارت کا مؤقف پہلے سے واضح ہے۔انہوں نے کہا ’’ بھارت آزادانہ بحری آمدورفت، فضائی پروازوں، سمندر کے دیگر قانونی استعمال اور بین الاقوامی قانون، بالخصوص اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے مطابق بلا رکاوٹ تجارتی سرگرمیوں کی اہمیت پر زور دیتا ہے‘‘۔
ترجمان نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ سمندری تنازعات کو پرامن ذرائع سے اور یو این سی ایل او ایس کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔
جیسوال نے یہ بھی کہا کہ دس برس قبل ثالثی ٹریبونل کی جانب سے سنایا گیا فیصلہ ایک اہم سنگِ میل ہے اور متعلقہ فریقوں کے درمیان تنازعات کے پرامن حل کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں جہاز کے عملے میں شامل ایک انڈین شہری ہلاک اور۱۰ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
جیسوال کے مطابق دو آئل ٹینکرز ’ال بہیہ‘ اور ’مومباسا‘ کو رات کے وقت عمان کے ساحل کے قریب ایرانی کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ان دونوں جہازوں پر مجموعی طور پر۴۶؍ افراد موجود تھے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ ’ال بہیہ پر سوار۱۲ ؍انڈین شہریوں میں سے ایک حملے میں ہلاک ہو گیا جبکہ ایک زخمی ہوا۔بیان کے مطابق مومباسا پر۱۸؍ انڈین شہری سوار تھے، جن میں سے نو افراد زخمی ہوئے، جبکہ ان میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
جیسوال نے کہا ہے کہ انھوں نے ایرانی ناظم الامور کو طلب کر کے ان حملوں کے خلاف ’سخت احتجاج‘ ریکارڈ کرایا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم ان حملوں اور سمندری راستوں سے گزرنے والے افراد کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز جیسے بین الاقوامی آبی راستوں میں آزاد اور محفوظ جہاز رانی کو متاثر کرنے والے پرتشدد اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہیں۔‘









