دو اضلاع میں پائلٹ پروجیکٹ شروع ہوگا:ایل جی سنہا
سری نگر؍۱۴جولائی
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج منشیات کے متاثرین کی بازآبادکاری اور سماجی و معاشی بحالی سے متعلق مجوزہ’ری ہیبلی ٹیشن اینڈ سوشیو اکنامک ری انٹیگریشن اسکیم فار ڈرگ ابیوز وکٹمز۲۰۲۶‘ کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔
اس اسکیم کا مقصد جموں و کشمیر بھر میں منشیات کی لت سے نجات پانے والے افراد کی بحالی اور انہیں دوبارہ معاشرے کا مفید حصہ بنانے کے لیے ایک جامع اور مربوط نظام قائم کرنا ہے۔
کمشنر سیکریٹری محکمہ سماجی بہبود سرمد حفیظ نے اسکیم کی اہم خصوصیات پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔
اسکیم کے تحت تین سالہ مرحلہ وار بحالی پروگرام تجویز کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں علاج، طبی نگہداشت، مشاورت اور ہر مریض کے لیے انفرادی بحالی منصوبہ تیار کیا جائے گا۔ دوسرے مرحلے میں تعلیم، ہنر مندی کی تربیت، روزگار کے مواقع اور خاندان سے دوبارہ وابستگی پر توجہ دی جائے گی، جبکہ تیسرے مرحلے میں مسلسل نگرانی، دوبارہ نشے کی روک تھام، کمیونٹی کی معاونت اور مختلف محکموں کے اشتراک سے طویل مدتی سماجی بحالی کو یقینی بنایا جائے گا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ مستحقین کی رازداری برقرار رکھتے ہوئے انفرادی بحالی منصوبوں، مختلف محکموں کے باہمی اشتراک اور بحالی کے نتائج کی حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے ری ہیبلی ٹیشن مانیٹرنگ پورٹل بھی تیار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ چیف سیکریٹری کی ہدایت پر محکمہ داخلہ کے پرنسپل سیکریٹری کی سربراہی میں قائم ٹاسک فورس نے محکمہ سماجی بہبود کو نوڈل محکمہ بناتے ہوئے تمام متعلقہ محکموں کی مشاورت سے اس اسکیم کو تیار کیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اسکیم کی تیاری میں ٹاسک فورس کے جامع اور مشترکہ نقطۂ نظر کو سراہتے ہوئے کہا کہ بحالی کا نظام مربوط، انسان دوست اور نتیجہ خیز ہونا چاہیے تاکہ متاثرہ افراد کی مستقل بحالی، سماجی شمولیت اور روزگار کے مواقع یقینی بنائے جا سکیں۔
سنہا نے کہا کہ کمیونٹی کی شمولیت، خاندان کا تعاون، ہنر مندی کی تربیت اور مسلسل نگرانی بحالی کے عمل کی بنیاد ہونی چاہیے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے متعلقہ محکموں کو اسکیم کے مؤثر نفاذ کے لیے باہمی رابطہ مضبوط بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے شفاف نگرانی اور حقائق پر مبنی فیصلوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی زور دیا۔
ایل جی نے ہدایت دی کہ اسکیم کا پائلٹ پروجیکٹ ابتدائی طور پر منشیات سے سب سے زیادہ متاثر دو اضلاع، ایک کشمیر ڈویژن اور ایک جموں ڈویژن میں شروع کیا جائے تاکہ اس کی مؤثریت کا جائزہ لیا جا سکے اور حاصل شدہ تجربات کی روشنی میں اسے پورے جموں و کشمیر میں نافذ کیا جائے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ہدایت دی کہ منشیات کے متاثرین کی بحالی کے لیے مخلص اور باصلاحیت افسران کی نشاندہی کی جائے، جبکہ باحوصلہ خواتین رضاکاروں اور گروپوں کو تربیت دے کر مشاورت اور بحالی کے عمل میں شامل کیا جائے۔
سنہا نے کہا’’متاثرین کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں واپس لانے کے لیے عوامی شمولیت انتہائی ضروری ہے۔ رضاکاروں اور دلچسپی رکھنے والے سرکاری ملازمین کو بحالی کے عمل میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ متعلقہ عملے کی تربیت اور استعداد کار میں اضافہ جلد از جلد شروع کیا جائے تاکہ بحالی کی خدمات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔‘‘










