’یاترا کےپہلے ۸ دنوں میں ۱ء۷۰لاکھ یاتریوں نے درشن کئے‘
ڈی آئی پی آر
سرینگر؍۱۰ جولائی
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کے روز جاری شری امرناتھ جی یاترا کے سلسلے میں بالتل بیس کیمپ پر انتظامات کا جائزہ لیا اور تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ یاترا کو محفوظ، پُرامن، منظم اور ہر قسم کی دشواری سے پاک بنانے کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے زائد کرایہ وصولی، فرضی رجسٹریشن، دھوکہ دہی اور یاتریوں کے کسی بھی قسم کے استحصال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کی ہدایت بھی دی۔
اپنے دورے کے دوران لیفٹیننٹ گورنر نے بیس کیمپ اسپتال، رجسٹریشن کاؤنٹروں، رہائشی خیموں اور دیگر سہولیات کا معائنہ کیا تاکہ انتظامیہ کی تیاریوں کا جائزہ لیا جا سکے اور یاتریوں کو معیاری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
حکام سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یاتریوں کا آرام، تحفظ اور سہولت انتظامیہ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے تمام محکموں کو باہمی تال میل برقرار رکھنے کی ہدایت دی تاکہ رجسٹریشن، رہائش، نقل و حرکت اور درشن سمیت یاترا کے ہر مرحلے کو بلا رکاوٹ اور منظم بنایا جا سکے۔
سنہا نے شری امرناتھ جی یاترا کو جموں و کشمیر کے عظیم روحانی ورثے کی علامت اور سماجی و معاشی ترقی کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے ڈاکٹروں، صفائی عملے، لنگر رضاکاروں، سیکورٹی اہلکاروں اور یاترا سے وابستہ تمام خدمات انجام دینے والوں کی سالانہ یاترا کو کامیاب بنانے میں انتھک خدمات کو سراہا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یاتریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے تاجروں، ٹرانسپورٹروں، مزدوروں اور یاترا سے وابستہ دیگر مقامی کاروباری طبقے کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کے خلاف سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے سنہا نے حکام کو ہدایت دی کہ زائد کرایہ وصولی، فرضی رجسٹریشن اور دھوکہ دہی کے معاملات میں زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سروس فراہم کرنے والا یا سرکاری ملازم یاتریوں کے استحصال میں ملوث پایا جائے تو اس کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بالتل یاترا راستے پر صفائی ستھرائی کا جامع آڈٹ کرانے کی بھی ہدایت دی اور متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ پورے یاترا راستے پر پینے کے صاف پانی کی بلا تعطل فراہمی کے ساتھ صفائی اور حفظانِ صحت کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھا جائے۔
حکام نے لیفٹیننٹ گورنر کو بتایا کہ سیکورٹی، طبی سہولیات، رہائش، صفائی، بجلی اور پینے کے پانی کے حوالے سے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یاترا راستے پر آر او پینے کے پانی کی سہولیات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی تعداد میں آنے والے یاتریوں کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کرنے والے یاتریوں نے انتظامیہ، شری امرناتھ جی شرائن بورڈ، پولیس، فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے کیے گئے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے یاترا کے کامیاب اور منظم انعقاد کو سراہا۔
ملک بھر کے عقیدت مندوں سے مقدس یاترا میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ یاترا کے پہلے آٹھ دنوں کے دوران تقریباً ایک لاکھ۷۰ ہزار یاتریوں نے مقدس غار میں درشن کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے بغیر پیشگی رجسٹریشن کے آنے والے بڑی تعداد میں عقیدت مندوں کی یاترا کو بھی کامیابی کے ساتھ سہولت فراہم کی ہے۔
سنہا نے مزید بتایا کہ بالتل اور چندن واڑی میں قائم۱۰۰بستروں پر مشتمل اسپتال چوبیس گھنٹے خدمات انجام دے رہے ہیں اور روزانہ تقریباً۱۳۰۰ سے۱۴۰۰ او پی ڈی مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے تاکہ یاتریوں کو بروقت طبی سہولت فراہم کی جا سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یاتریوں سے اپیل کی کہ وہ انتظامیہ اور شری امرناتھ جی شرائن بورڈ کی جانب سے جاری تمام ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پوری انتظامیہ چوبیس گھنٹے یاتریوں کی خدمت اور ہر ممکن فوری مدد فراہم کرنے کے لیے مستعد ہے تاکہ یاترا محفوظ، آرام دہ اور خوشگوار انداز میں مکمل ہو سکے۔
جائزہ اجلاس میں شری امرناتھ جی شرائن بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری، سول انتظامیہ، پولیس، فوج، سیکورٹی ایجنسیوں اور یاترا سے وابستہ مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔










