’ کشمیر بھر میں ترقیاتی کام مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں‘ فنڈز کے استعمال پر وائٹ پیپر جاری کیا جائے ‘
ایجنسیاں
سرینگر؍۱۰ جولائی
اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے جمعہ کے روز برسرِ اقتدار نیشنل کانفرنس حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاستی درجے (اسٹیٹ ہُڈ) کی آڑ میں کشمیر کی ترقی کو سبوتاژ نہ کرے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ کشمیر بھر میں ترقیاتی کام مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔
سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بخاری نے کہا کہ سڑکوں، اسپتالوں اور دیگر عوامی بنیادی ڈھانچے کی حالت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ترقیاتی سرگرمیاں مکمل طور پر رک چکی ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ کشمیر میں کام کا نصف سے زیادہ سیزن گزر چکا ہے، لیکن ترقیاتی منصوبوں پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔
بخاری نے کہا’’کشمیر میں کام کا سیزن اپریل سے ستمبر کے آخر تک ہوتا ہے اور اس کا پچاس فیصد سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ مشکل سے ہی کہیں کوئی کام ہو رہا ہے۔ میرے خیال میں ایک سازش کے تحت کشمیر کی ترقی کو روک دیا گیا ہے‘‘۔
اپنی پارٹی کے صدر نے الزام لگایا کہ مقامی ٹھیکیدار ادائیگیوں میں تاخیر، تعمیراتی سامان کی قلت اور کانکنی کے وسائل کی تقسیم میں امتیازی پالیسیوں کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ بخاری کے مطابق ریت، بولڈر اور دیگر خام مال کے ٹھیکے بیرونِ علاقے کے ٹھیکیداروں کو دیے جا رہے ہیں، جس کے باعث مقامی ٹھیکیداروں کو یہی سامان کہیں زیادہ قیمت پر خریدنا پڑ رہا ہے۔
بخاری نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے باعث بٹومین کی قیمتوں میں ہونے والے نمایاں اضافے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس کے نتیجے میں سڑکوں کی تعمیر بہت سے ٹھیکیداروں










