ایجنسیاں
سری نگر؍۱۰ جولائی
جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سنیل شرما نے جمعہ کے روز ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے پر حکمران نیشنل کانفرنس کی جانب سے جنتَر منتَر پر مجوزہ احتجاج کو ’آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس طرح کے ’ڈراموں‘ کے ذریعے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔
نیشنل کانفرنس (این سی) نے جموں کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے مطالبے کے حق میں۲۰ جولائی کو نئی دہلی کے جنتَر منتَر پر منعقد ہونے والے احتجاج میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے ملک بھر کی۵۲ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط ارسال کیے ہیں۔
پارٹی نے جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر ست شرما کو بھی احتجاج میں شرکت کی دعوت دی ہے۔
تاہم یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اس احتجاج میں شریک نہیں ہوگی۔
شرما نے کہا’’اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے انہوں نے ایک نیا ڈرامہ رچایا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ جموں و کشمیر کے لوگ ان کے ڈراموں سے کیوں متاثر ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ تین نسلوں سے یہ لوگ ڈرامے کرتے آئے ہیں۔ اب تیسری نسل جنتَر منتَر پر ایک اور ڈرامہ کر رہی ہے۔ یہ محض آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے۔ آپ ریاستی درجے کے نام پر بدعنوانی کر رہے ہیں‘‘۔
بی جے پی رہنما نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ جب عوام حکومت سے جواب مانگتے ہیں تو حکومت کہتی ہے کہ وہ جنتَر منتَر جا کر ریاستی درجے کا مطالبہ کرے گی۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ریاستی درجہ پارلیمنٹ کے ذریعے بحال ہوگا، جنتَر منتَر کے ذریعے نہیں، اور اسی لیے ان کی پارٹی اس مجوزہ احتجاج میں شرکت نہیں کرے گی۔
شرما نے کہا’’ہم جنتَر منتَر کیوں جائیں؟ اور کس کے ساتھ جائیں؟ ان جعل سازوں، ٹھگوں، چوروں اور بدعنوان لوگوں کے ساتھ؟ یہ ان لوگوں کو ساتھ لے جا رہے ہیں جو کبھی علیحدگی پسندی کی زبان بولتے تھے اور جنہوں نے کشمیر میں خونریزی کرائی۔ بی جے پی ایسے چوروں، لٹیروں اور قاتلوں کو مسترد کرتی ہے‘‘۔
بی جے پی لیڈر نے گزشتہ سال۱۵؍ اگست کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے ریاستی درجے کی بحالی کے حق میں دستخطی مہم شروع کرنے کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا’’ایک سال گزر گیا، کیا انہیں وہ اعلان یاد ہے؟‘‘
شرما نے کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے ساتھ مل کر حکومت کی’جاب آؤٹ سورسنگ‘ پالیسی کے خلاف ایک ’عوامی مہم‘ شروع کرے گی۔انہوں نے کہا، ’’ہم اس تحریک کا آغاز سول سیکرٹریٹ کے گھیراؤ سے کریں گے۔ کشمیر سے احتجاجی مہم شروع کی جائے گی اور انصاف کے حصول کے لیے اسے جموں و کشمیر کے ہر کونے تک لے جایا جائے گا‘‘۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ آؤٹ سورسنگ پالیسی واپس لے۔
حزب اختلاف کے لیڈر نے کہا’’بی جے پی خاموش نہیں بیٹھے گی بلکہ اس معاملے پر بھرپور جدوجہد کرے گی۔ میں نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور اپنے حقوق اور انصاف کے لیے آواز بلند کریں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ کے پورے عمل کی مذمت کرتی ہے اور اسے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے ساتھ ’کھلا ناانصافی‘ قرار دیتی ہے۔انہوں نے حکومت پر بدعنوانی میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا اور تحقیقاتی ایجنسیوں سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور حکومت کے خلاف تحقیقات کریں۔
(ایجنسیاں)










