۲۰ جنوری کو جنتر منتر پر احتجاج کیلئے بی جے پی بھی مدعو:این سی
(ندائے مشرق خبر)
سرینگر؍۹ جولائی
حکمران نیشنل کانفرنس نے جمعرات کو کہا کہ پارٹی نے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے مطالبے کے حق میں نئی دہلی میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کے لیے کشمیر کے میرواعظ ڈاکٹر عمر فاروق کو دعوت دی ہے۔
پارٹی نے میرواعظ کو متحدہ مجلسِ علماء کے سربراہ کی حیثیت سے مدعو کیا ہے، جو مختلف مذہبی تنظیموں کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔
نیشنل کانفرنس نے کشمیر کے مفتیٔ اعظم مفتی ناصر الاسلام کو بھی احتجاج میں شرکت کی دعوت دی ہے۔
پارٹی کے چیف ترجمان تنویر صادق نے کہا’’سیاسی جماعتوں کے علاوہ نیشنل کانفرنس نے متحدہ مجلسِ علماء کے سربراہ میرواعظ صاحب اور کشمیر کے مفتیٔ اعظم مفتی ناصر الاسلام کو بھی دعوت دی ہے‘‘۔
صادق نے بتایا کہ نیشنل کانفرنس نے جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں، بشمول بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، کو بھی احتجاج میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ ان کے مطابق بیشتر دعوت نامے ارسال کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی دعوت نامے بھیجے جا رہے ہیں۔
این سی ترجمان اعلیٰ نے کہا’’ہم نے جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے سربراہان، جن میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی اور اپنی پارٹی کے سربراہ الطاف بخاری شامل ہیں، کو بھی احتجاج میں شرکت کی دعوت دی ہے‘‘۔
نیشنل کانفرنس پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ وہ۲۰ جولائی کو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے روز نئی دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا دے گی تاکہ مرکزی حکومت کو جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے اپنے وعدے کی یاد دہانی کرائی جا سکے۔
دریں اثنا اپنی پارٹی کے صدر ‘الطاف بخاری نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی پارٹی کو بھی جنتر منتر پر احتجاج میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے ۔
جمعرات کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت میں بخاری کاکہنا تھاکہ ان کی پارٹی مشاورت کے بعد اس پر کوئی فیصلہ لے گی ۔ البتہ ان کا ساتھ ہی کہنا تھا کہ جنتر منتر پر احتجاج کا فیصلہ این سی نے دوسری سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بغیر ہی لیا ۔ انہوں نے کہا کہ اچھا ہو تا کہ اگر اس پر پہلے دوسری سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جاتی ۔
اپنی پارٹی کے صدر نے کہا کہ اگر نیشنل کانفرنس اس احتجاج کے ذریعے ریاستی درجہ واپس حاصل کر نے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ خود اس کا لکھن پور میں استقبال کریں گے ۔










