قابلِ اعتراض مواد کی نشاندہی کی ہدایت‘قومی مفاد، مذہبی ہم آہنگی اور تعلیمی اقدار کے منافی مواد کی جانچ کے لیے سات دن میں رپورٹ طلب
(ندائے مشرق خبر)
سری نگر؍۹جولائی
حکام نے کشمیر کے تمام اسکولوں اور کوچنگ اداروں میں موجود تمام کتابوں کی جامع جانچ کا حکم دیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کسی بھی کتاب میں نامناسب یا قابلِ اعتراض مواد شامل نہ ہو۔
یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب جموں و کشمیر کے بعض تعلیمی اداروں میں مبینہ طور پر ملک مخالف اور علیحدگی پسند مواد پر مشتمل بعض کتابیں اور لٹریچر گردش میں آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی ایس ای کے) کی جانب سے جاری ایک سرکولر میں کہا گیا ہے کہ تمام سرکاری اسکولوں، تسلیم شدہ نجی اسکولوں اور کوچنگ اداروں کے سربراہان (ایچ او آئیز) کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے اداروں میں موجود تمام کتابوں، خواہ وہ حال ہی میں خریدی گئی ہوں یا پرانی اشاعتیں، کی مکمل جانچ کریں۔ یہ جانچ دفاتر، جماعتوں، اسٹاف رومز اور اسکول کی لائبریریوں میں موجود تمام کتابوں پر لاگو ہوگی۔
سرکولر میں کہا گیا ہے کہ اس جانچ کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کسی بھی کتاب میں ایسا مواد شامل نہ ہو جو نامناسب یا قابلِ اعتراض ہو۔
سرکولر کے مطابق اس میں ایسا مواد بھی شامل ہے جو کسی مذہبی طبقے کے جذبات کو مجروح کرتا ہو، طلبہ کے لیے ناموزوں ہو، موجودہ قوانین کے خلاف ہو، قومی مفاد کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہو یا تعلیمی اقدار اور تسلیم شدہ اصولوں کے منافی ہو۔ مزید برآں تمام تعلیمی مواد کو قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی)۲۰۲۰ کے تحت مقرر کردہ عمر کے لحاظ سے مناسب رہنما خطوط سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔
ڈی ایس ای کے نے ہدایت دی ہے کہ اگر کسی کتاب میں قابلِ اعتراض مواد پایا جائے تو ادارے کا سربراہ ایک مفصل رپورٹ تیار کرے، جس میں کتاب کا عنوان، اشاعت کا سال، مصنف اور ناشر کا نام، نیز ایسی کتابوں کی تعداد درج کی جائے۔
سرکولر میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام ادارہ جاتی سربراہان پوری احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ یہ عمل مکمل کریں، جانچ کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھیں اور مقررہ مدت کے اندر ان ہدایات پر سختی سے عمل کرتے ہوئے تعمیل رپورٹ یا تعمیل سرٹیفکیٹ متعلقہ چیف ایجوکیشن آفیسر (سی ای او) یا زونل ایجوکیشن آفیسر (زی ای او) کو پیش کریں۔
سرکولر کے مطابق ادارہ جاتی سربراہان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سرکولر جاری ہونے کی تاریخ سے سات دن کے اندر قابلِ اعتراض مواد کی مختصر تفصیل کے ساتھ اپنی رپورٹ متعلقہ سی ای او یا زی ای او کو ارسال کریں۔
زونل ایجوکیشن آفیسران اپنے دائرہ اختیار کے اسکولوں اور کوچنگ مراکز سے موصول ہونے والی تمام رپورٹس کا جائزہ لے کر انہیں یکجا کریں گے اور۱۵جولائی تک چیف ایجوکیشن آفیسر کو ارسال کریں گے۔
اس کے بعد کشمیر ڈویژن کے تمام چیف ایجوکیشن آفیسران اپنی مربوط رپورٹ۱۷جولائی تک ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کشمیر کو پیش کریں گے۔
سرکولر میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف ایجوکیشن آفیسران ذاتی طور پر ادارہ جاتی سربراہان اور زونل ایجوکیشن آفیسران کی جانب سے جاری کیے گئے تعمیل سرٹیفکیٹس کی نگرانی کریں گے، اور یہ سرٹیفکیٹس ڈائریکٹوریٹ کو بھیجنے سے قبل متعلقہ چیف ایجوکیشن آفیسر کے دستخط سے تصدیق شدہ ہوں گے۔
سرکولر میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان ہدایات پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کی صورت میں متعلقہ افسران کے خلاف مناسب محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔










