انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں، مختلف ایجنسیوں کے درمیان باہمی تعاون، بدلتی ہوئی آپریشنل صورتحال پر بریفنگ
جنرل سیٹھ نے مشکل حالات میں فرائض انجام دینے کیلئے فوج کی غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیت، ثابت قدمی اور عزم کو سراہا
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۸ جولائی
ہند،پاک کے درمیان واقع لائن آف کنٹرول اور جموں و کشمیر کے اندرونی علاقوں میں سیکورٹی کی مجموعی صورتحال، آپریشنل تیاریوں اور جنگی حکمتِ عملی کا جائزہ لینے کے لیے ہندوستانی بری فوج کے نئے سربراہ جنرل دھیراج سیٹھ نے سرینگر میں قائم ’چنار کور‘ کے ہیڈکوارٹر کا اہم دورہ کیا۔ فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کی مستعدی کے حوالے سے فوج نے بدھ کے روز باضابطہ معلومات فراہم کیں۔
بھارتی فوج کے ایڈیشنل ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پبلک انفارمیشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ’’چیف آف آرمی اسٹاف ‘جنرل دھیرج سیٹھ نے ہیڈکوارٹرز چنار کور اور اس کی مختلف فارمیشنز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور اندرونی علاقوں میں موجودہ سکیورٹی صورتحال، آپریشنل تیاریوں اور جنگی استعداد کا جائزہ لیا‘‘۔
بیان کے مطابق آرمی چیف کو آپریشنل تعیناتیوں، انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں، مختلف ایجنسیوں کے درمیان باہمی تعاون، بدلتی ہوئی آپریشنل صورتحال اور جاری سالانہ امرناتھ یاترا کے لیے کیے گئے سکیورٹی انتظامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اے ڈی جی پی آئی کے مطابق آرمی چیف نے ٹیکنالوجی کے استعمال، صلاحیتوں میں اضافے اور مختلف نوعیت کے فوجی آپریشنز کے لیے مربوط جنگی تیاریوں سے متعلق اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔
دورے کے دوران چیف آف آرمی اسٹاف نے مشکل حالات میں فرائض انجام دینے والے تمام افسران اور جوانوں کی غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیت، ثابت قدمی اور عزم کو سراہتے ہوئے امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے ان کی انتھک کوششوں کی تعریف کی۔
دورے کے دوران آرمی چیف نے انتہائی مشکل اور چیلنجنگ حالات میں تمام رینک کے فوجی افسران اور جوانوں کے پیشہ ورانہ رویے اور غیر متزلزل عزم کی ستائش کی، اور وادی میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے ان کی مسلسل کوششوں کو سراہا۔
واضح رہے کہ آرمی چیف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جنرل دھیراج سیٹھ کا مرکز کے زیرِ انتظام علاقے جموں و کشمیر کا یہ پہلا دورہ ہے۔ اس سے قبل منگل کے روز انہوں نے سرینگر میں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور نو منتخب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے الگ الگ الوداعی و رسمی ملاقاتیں کیں۔ ان اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے دوران جموں و کشمیر کی موجودہ سیکورٹی صورتحال اور سول ملٹری تعاون کو مزید مضبوط بنانے جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دفاعی حلقوں میں آرمی چیف کے اس دورے کو وادی اور ایل او سی پر’ سیکورٹی گرڈ‘ کو مزید مستحکم اور ناقابلِ تسخیر بنانے کے لحاظ سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ فوجی حکام نے واضح کیا ہے کہ سرحد پار سے کسی بھی قسم کی دراندازی یا ملک دشمن سرگرمیوں کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے فوج پوری طرح الرٹ، چوکنا اور ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔










