ایجنسیاں
جموں؍۸جولائی
انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے جموں میں متولی (کسٹوڈین) اراضی سے متعلق ایک اور بڑے مبینہ گھوٹالے کا پردہ فاش کرتے ہوئے ریونیو محکمے کے اہلکاروں، فائدہ اٹھانے والوں اور مبینہ لینڈ مافیا کے خلاف دو الگ الگ ایف آئی آر درج کی ہیں۔ ان پر سرکاری اراضی پر غیر قانونی طور پر ملکیتی حقوق حاصل کرنے اور دھوکہ دہی کے ذریعے زمین منتقل کرنے کا الزام ہے۔
اے سی بی کے ترجمان نے بدھ کو جاری ایک بیان میں کہا کہ جموں ضلع کے بھلوال اور امب علاقوں میں متولی اراضی پر مبینہ قبضے کا ایک اور بڑا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں لینڈ مافیا نے فارم الف ہولڈرز اور محکمہ متولی و ریونیو کے بعض اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے سرکاری اراضی پر قبضہ کیا۔
ترجمان کے مطابق موصولہ اطلاعات سے معلوم ہوا کہ جموں کے آسروان، مشری والا، بھلوال اور آر ایس پورہ علاقوں میں متولی کی ہزاروں کنال اراضی پر مبینہ طور پر قبضہ کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے ریونیو ریکارڈ میں رد و بدل کیا گیا اور بعد میں یہ اراضی مختلف افراد کو فروخت کر دی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ ان اطلاعات کی بنیاد پر اے سی بی نے تحقیقات کا آغاز کیا، جس میں پہلے ہی یہ بات سامنے آ چکی تھی کہ ایک ہزار سے زائد کنال متولی اراضی جعلی احکامات کی بنیاد پر بے گھر افراد کے نام الاٹ ظاہر کی گئی تھی۔ تحقیقات کے مطابق مذکورہ افراد اضافی اراضی کے حقدار نہیں تھے، لیکن مبینہ طور پر لینڈ مافیا، فارم الف ہولڈرز اور ریونیو اہلکاروں کی ملی بھگت سے دھوکہ دہی کے ذریعے یہ اراضی حاصل کی گئی۔ اس سلسلے میں پہلے ہی۲۷؍ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
مزید تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر (پی او کے) سے نقل مکانی کرنے والے کئی افراد کو پہلے ہی اراضی الاٹ کی جا چکی تھی، تاہم ان کے بعض رشتہ داروں نے، جو اس کے اہل نہیں تھے، سرکاری حکم یا پروویژنل ری ہیبلیٹیشن آفس (پی آر او) کی منظوری کے بغیر، یا مبینہ طور پر جعلی پی آر او احکامات کی بنیاد پر، بھلوال علاقے میں اضافی اراضی کی انتقالات اپنے حق میں درج کروا لیں۔ یہ سب مبینہ طور پر پٹواریوں، گرداوروں، نائب تحصیلداروں اور تحصیلداروں کی ملی بھگت سے کیا گیا۔ تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ پی آر او کی جانب سے اس نوعیت کا کوئی الاٹمنٹ آرڈر جاری ہی نہیں کیا گیا تھا۔ بعد ازاں فائدہ اٹھانے والوں نے یہ اراضی براہِ راست یا وکلا اور دیگر ذرائع کے ذریعے دھوکہ دہی سے منتقل کر دی، جس سے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔
ترجمان نے بتایا کہ تقریباً۱۲ کنال اور تین مرلہ متولی اراضی کی غیر قانونی منتقلی میں لینڈ مافیا، فارم الف ہولڈرز اور ریونیو اہلکاروں کے درمیان بادی النظر میں گٹھ جوڑ ثابت ہونے کے بعد اے سی بی نے انسدادِ بدعنوانی قانون اور تعزیراتِ ہند (آئی پی سی) کی متعلقہ دفعات کے تحت ایک ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس مقدمے میں ریونیو اہلکاروں سمیت چھ ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہے۔
ترجمان کے مطابق دوسری ایف آئی آر مرجالی کانگرائل کے رہائشی کلدیپ سنگھ کی شکایت پر درج کی گئی، جس میں گاؤں امب، تحصیل بھلوال میں اراضی کی جعلی انتقالات اور غیر قانونی طور پر ملکیتی حقوق دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ریونیو اہلکاروں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے فائدہ اٹھانے والے رشپال سنگھ اور دیگر افراد کے ساتھ مبینہ مجرمانہ سازباز کے ذریعے دھوکہ دہی سے انتقالات کی تصدیق کی، جس کے نتیجے میں تقریباً۱۵ کنال اور آٹھ مرلہ اراضی پر غیر قانونی طور پر ملکیتی حقوق تفویض کیے گئے اور سرکاری خزانے کو مالی نقصان پہنچایا گیا۔
اس بنیاد پر اے سی بی نے جموں و کشمیر انسدادِ بدعنوانی قانون اور رنبیر تعزیرات (آر پی سی) کی متعلقہ دفعات کے تحت ایک ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس مقدمے میں اُس وقت کے حلقہ پٹواری بلدیو راج، اُس وقت کے نائب تحصیلدار پون کمار کوہلی، فائدہ اٹھانے والے رشپال سنگھ اور دیگر افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ دونوں مقدمات کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔










