’اقتصادی شرحِ نمو ۶ء۴ فیصد پر رہنے کا امکان‘یورو زون‘ برطانیہ اور جاپان کی اقتصادی ترقی میں سست روی‘ عالمی مہنگائی میں دوبارہ اضافے کا خدشہ‘
(ویب ڈسیک)
سرینگر؍۸ جولائی
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بدھ کورواں مالی سال کے لیے ہندستان کی اقتصادی شرحِ نمو کے اپنے تخمینے میں معمولی کمی کرتے ہوئے اس کے۶ء۴ فیصد پر رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ ہندستان دنیا میں سب سے تیزی دے ترقی کرنے والی بڑی معیشت بنارہے گا۔
آئی ایم ایف نے اس سے قبل اپریل میں جاری اپنی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں مالی سال۲۰۲۶۔۲۷ کے لیے ہندستان کی اقتصادی شرحِ نمو۶ء۵ فیصد رہنے کا اندازہ لگایا تھا۔ آج جاری اپ ڈیٹ میں اس نے اس میں۰ء۱فیصد کی کمی کی ہے۔
اس سے قبل اپنی جون کی دو ماہہ مالیاتی پالیسی جائزہ رپورٹ میں ریزرو بینک نے جاری مالی سال میں اقتصادی شرحِ نمو کا اندازہ۶ء۹فیصد سے کم کر کے ۶ء۶ فیصد کر دیا تھا۔
آئی ایم ایف نے اگلے مالی سال کے لیے ہندستان کی شرحِ نمو کا تخمینہ۶ء۵ فیصد سے بڑھا کر۶ء۷ فیصد کر دیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ نجی کھپت اور خدمات کے شعبے کی مضبوط کے باعث ہندستانی عیشت کی تیز رفتار ترقی برقرار رہے گی۔
رپورٹ کے مطابق ’’ہندستان۶ء۴ فیصد کی شرح تخمینہ کے ساتھ سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت برقرار ہے۔ نجی کھپت اور خدمات کے شعبے کی سرگرمیوں میں مضبوطی سے اسے مدد مل رہی ہے‘‘۔
کیلنڈر سال۲۰۲۶ کے لیے عالمی اقتصادی ترقی کی شرح کا تخمینہ بھی پہلے کے۳ء۱فیصد سے کم کر کے۳ء۰ فیصد کر دیا گیاہے، جبکہ آئندہ سال کی عالمی ترقی کا اندازہ۳ء۲ فیصد سے بڑھا کر۳ء۴ فیصد کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال کے لئے ترقی کے تخمینے میں معمولی کمی کی بنیادی وجہ۲۸فروری سے شروع ہوا مغربی ایشیا کا بحران ہے۔ تاہم مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور اسے اپنانے میں آئی تیزی سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں مضبوطی برقرار ہے، جس نے ترقی پر جنگ کے اثرات کو کافی حد تک بے اثر کیا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق یورو زون میں۲۰۲۶ کے دوران اقتصادی ترقی کی شرح۰ء۹ فیصد رہنے کا امکان ہے، جو اپریل کی پیش گوئی کے مقابلے میں۰ء۲ فیصد کم ہے۔ آئی ایم ایف نے اس کمی کی وجہ پہلی سہ ماہی کے منفی اثرات، توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور صارفین کے کمزور اعتماد کو قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں۲۰۲۶ کے دوران اقتصادی ترقی کی شرح گھٹ کر۱ء۰ فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ جاپان کی شرح نمو۰ء۶ فیصد تک محدود رہ سکتی ہے۔ اس کے برعکس جنوبی کوریا کی اقتصادی ترقی۲ء۶ فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جس کی بنیادی وجہ سیمی کنڈکٹرز کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں۲۰۲۶ کے دوران اقتصادی ترقی کی شرح کم ہو کر۰ء۷ فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، تاہم۲۰۲۷ میں اس کے دوبارہ بڑھ کر۶ء۵ فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ رپورٹ میں اس سست روی کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی طویل بندش کو قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عراق، کویت اور قطر جیسے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو۲۰۲۶میں شدید معاشی سکڑاؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ سعودی عرب کی اقتصادی ترقی۱ء۷ فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ایران کی اقتصادی شرح نمو کے تخمینے پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے منفی 5.4 فیصد قرار دیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ’’عالمی مہنگائی میں مسلسل کمی کا رجحان عارضی طور پر رکنے کی توقع ہے‘‘۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی مہنگائی کی شرح۲۰۲۵ میں۴ء۱ فیصد سے بڑھ کر۲۰۲۶ میں۴ء۷ فیصد ہو سکتی ہے، جس کے بعد۲۰۲۷ میں کم ہو کر۳ء۹ فیصد رہنے کی توقع ہے۔ ادارے کے مطابق۲۰۲۶ میں مہنگائی میں اضافے کی بنیادی وجہ توانائی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہوں گی۔
آئی ایم ایف نے مزید کہا کہ بنیادی (کور) مہنگائی میں کمی کا عمل بھی بتدریج جاری رہے گا۔ ادارے کے اندازے کے مطابق برطانیہ میں مہنگائی کا ہدف۲۰۲۷ کے وسط تک، جبکہ جاپان اور امریکہ میں۲۰۲۷ کے اختتام تک حاصل ہو سکے گا۔ یورو زون میں مہنگائی مقررہ ہدف تک پہنچنے میں۲۰۲۸ تک کا وقت لگ سکتا ہے، جبکہ چین میں بھی موجودہ کم سطح سے مہنگائی میں اضافے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔










