نارتھ ساؤنڈ، 4 جولائی (یو این آئی) ویسٹ انڈیز کے بولنگ کوچ روی رامپال نے کہا ہے کہ سری لنکا کے خلاف دوسرے اور آخری ٹیسٹ کے دوسرے دن ٹیم کی توجہ دوسری نئی گیند سے جلد وکٹیں حاصل کرنے پر مرکوز ہوں گی، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ یہی میچ کا رخ بدل سکتا ہے۔
پہلے دن کے اختتام پر سری لنکا نے پانچ وکٹ پر 338 رن بنا لیے تھے۔ اس سے قبل پہلے ٹیسٹ میں اسے ایک اننگز اور 217 رن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن اس بار لہیرو اُدارا کی 188 رن کی شاندار اننگز اور کمندو مینڈس کے ساتھ تیسری وکٹ کے لیے 215 رن کی شراکت نے میزبان گیندبازوں کو سخت آزمائش میں ڈال دیا۔
پہلے دن کے کھیل کے بعد روی رامپال نے کہا، "ہماری منصوبہ بندی یہی ہے کہ حالات کا بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ صبح نئے گیند سے ہم نے اچھی گیندبازی کی اور ابتدائی آٹھ اوورز میں دو وکٹیں حاصل کر لیں، لیکن اب دوسرے دن ایک مرتبہ پھر نئے گیند سے کامیابی حاصل کرنا ہمارے لیے بہت اہم ہوگا۔”
انہوں نے کہا، "کم از کم دو وکٹیں حاصل کر کے ہمیں نچلے نمبر کے بلے بازوں کو جلد کریز پر لانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں رنوں کی رفتار پر بھی قابو رکھنا ہوگا۔ خاص طور پر نئے گیند سے جارحانہ اور دفاعی حکمت عملی کے درمیان بہتر توازن قائم کرنا ضروری ہے تاکہ حریف کو اچھا آغاز نہ مل سکے۔”
ویسٹ انڈیز کے لیے حوصلہ افزا بات یہ رہی کہ 81ویں اوور کے آغاز پر دوسرا نیا گیند لیے جانے کے بعد دھننجیا ڈی سلوا دوسری ہی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔
پہلے دن دوپہر کے کھانے کے وقفے تک سری لنکا کا اسکور دو وکٹ پر 99 رن تھا، تاہم دوسرے سیشن کے اختتام تک ٹیم نے بغیر کوئی وکٹ گنوائے مزید 125 رن جوڑ کر دو وکٹ پر 224 رن بنا لیے۔ اسی دوران لہیرو اُدارا اور کمندو مینڈس نے اپنی بڑی شراکت قائم کی۔
رمپال نے کہا، "ہمیں دوپہر کے کھانے کے وقفے کے بعد کے سیشن میں اب بھی مشکلات کا سامنا ہے، جہاں ہم نے 100 سے زائد رن دے دیے۔ میرے خیال میں یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ہم میچ پر گرفت برقرار نہیں رکھ سکے۔”
انہوں نے مزید کہا، "چائے کے وقفے کے بعد ہم نے اچھی واپسی کی اور دو وکٹیں حاصل کیں، لیکن لنچ کے بعد کے سیشن میں ہماری لائن اور لینتھ میں عدم تسلسل نظر آیا، جس کی وجہ سے ہم زیادہ رن دے بیٹھے۔”
دھننجیا ڈی سلوا کی وکٹ جیڈن سیلز کی اس میچ میں پہلی وکٹ تھی، جو ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی 100ویں وکٹ بھی ثابت ہوئی۔ اس کارنامے کے ساتھ وہ پھینکی گئی گیندوں کے اعتبار سے ویسٹ انڈیز کے دوسرے تیز ترین گیندباز بن گئے، جبکہ اس فہرست میں ایان بشپ پہلے نمبر پر ہیں۔








