سوشل میڈیا کے اس دور میں صحافت کو جس بحران کا سامنا ہے، اس کی سب سے نمایاں علامت یہ ہے کہ آج بہت سے لوگ صرف ایک کیمرہ، مائیک اور انٹرنیٹ کنکشن کو صحافت سمجھ بیٹھے ہیں۔ حالانکہ صحافت محض ریکارڈنگ یا لائیو نشریات کا نام نہیں بلکہ ایک ذمہ داری، ایک امانت اور ایسا پیشہ ہے جو اخلاقی اصولوں، قانونی حدود اور سماجی جوابدہی کا پابند ہوتا ہے۔
حال ہی میں ایک کم سن بچے کی ویڈیو، جس میں اس سے گرمائی تعطیلات کے بارے میں رائے لی گئی اور اس نے متعلقہ وزیر کے بارے میں غیر مناسب الفاظ استعمال کیے، سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی۔ افسوس ناک امر صرف بچے کا ردعمل نہیں بلکہ اسے بغیر کسی ادارتی احتیاط کے ’صحافت‘ کے نام پر نشر کرنا تھا۔
ایک ذمہ دار صحافی جانتا ہے کہ کم عمر بچوں کے انٹرویو کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ بچے کی عمر، ذہنی پختگی، اس کے بہترین مفاد اور مستقبل پر ممکنہ اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی بچہ جذبات میں آکر نامناسب تبصرہ کر دے تو صحافی کا فرض اسے من و عن نشر کرنا نہیں بلکہ ادارتی بصیرت کا مظاہرہ کرنا ہے۔ صحافت کا اصل امتحان یہی ہے کہ کیا شائع کیا جائے اور کیا روک دیا جائے۔
بدقسمتی سے سوشل میڈیا نے ایسے افراد کی ایک بڑی تعداد پیدا کر دی ہے جنہوں نے نہ صحافت کی تربیت حاصل کی، نہ صحافتی اخلاقیات سے واقفیت رکھی، مگر خود کو صحافی کہلوانے لگے ہیں۔ ان کے نزدیک خبر کا معیار عوامی مفاد نہیں بلکہ ویوز، لائکس اور فالوورز ہیں۔ سنسنی خیزی ان کا سرمایہ اور غیر ذمہ داری ان کا ہتھیار بن چکی ہے۔
یہ معاملہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک خطرناک رجحان کا ہے۔ آخر آزادیٔ اظہار کے نام پر کب تک ہر مائیک اٹھانے والا شخص صحافی کہلاتا رہے گا؟ کب تک ایسے افراد، جنہیں صحافت کے بنیادی اصولوں کا بھی علم نہیں، معاشرے کی رائے سازی پر اثر انداز ہوتے رہیں گے؟ آزادیٔ اظہار ایک مسلمہ جمہوری حق ہے، مگر کسی بھی مہذب معاشرے میں یہ حق اخلاقیات، قانون اور دوسروں کے حقوق سے بالاتر نہیں ہوتا۔
یہاں حکومت اور متعلقہ اداروں سے بھی سوال ہے کہ آخر کب تک نام نہاد صحافیوں کو کھلی چھوٹ دی جاتی رہے گی؟ کیا ریاست محض تماشائی بنی رہے گی یا صحافت کے نام پر ہونے والی غیر ذمہ داری، خصوصاً بچوں اور دیگر کمزور طبقات کے استحصال کی روک تھام کے لیے کوئی مؤثر ضابطۂ کار بھی وضع کرے گی؟ اس کا مطلب ہرگز صحافت پر قدغن لگانا نہیں، بلکہ آزادی اور بے لگامی کے درمیان واضح لکیر کھینچنا ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ یہ حقیقت تسلیم کی جائے کہ صحافت صرف سوال پوچھنے کا نام نہیں بلکہ یہ جاننے کا بھی نام ہے کہ کون سا سوال کب، کس سے اور کس مقصد کے لیے پوچھا جائے۔ صحافت صرف کیمرہ اور مائیک نہیں، بلکہ شعور، دیانت، تربیت اور ذمہ داری کا نام ہے۔ اگر یہ عناصر موجود نہ ہوں تو صحافت اپنا وقار کھو دیتی ہے اور معاشرہ خبر نہیں، محض تماشہ دیکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔



