ذیلی سرخی:
11 برسوں میں ڈیجیٹل انڈیا نے طرزِ حکمرانی کو بدل دیا، شہریوں کو بااختیار بنایا اور ہمہ جہت ترقی کو رفتار بخشی؛ مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر اور کوانٹم کمپیوٹنگ میں بھی تیز پیش رفت کا دعویٰ
نئی دہلی؍ یکم جولائی
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز حکومت کے ’ڈیجیٹل انڈیا‘اقدام کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس نے طرزِ حکمرانی کو نئی شکل دی، شہریوں کو بااختیار بنایا اور زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کرتے ہوئے ہمہ جہت ترقی کو رفتار بخشی۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل انڈیا کے گیارہ برسوں نے عالمی سطح پر ہندوستان کو ایک نئی شناخت عطا کی ہے۔
وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا’’آج ہم ڈیجیٹل انڈیا اقدام کے آغاز کے گیارہ برس مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔ اس اقدام نے طرزِ حکمرانی کو ازسرِ نو متعین کیا، شہریوں کو بااختیار بنایا اور ہمہ جہت ترقی کو رفتار بخشی۔ اس نے زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے‘‘۔
مودی نے کہا کہ بغیر رکاوٹ ڈیجیٹل ادائیگیوں، شفاف طریقے سے مستحقین تک براہِ راست مالی فوائد کی منتقلی (ڈی بی ٹی) اور مسلسل وسعت اختیار کرتے ہوئے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے ذریعے ٹیکنالوجی ’آسان طرزِ زندگی‘ کو فروغ دینے کا ایک مؤثر ذریعہ بن گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل انڈیا نے اختراع کی لہر کو ملک کے ہر حصے، خصوصاً دیہات، دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں تک پہنچایا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے ہر گوشے سے تعلق رکھنے والے نوجوان صنعت کار، اسٹارٹ اپس اور جدت پسند افراد دنیا کو درپیش اہم چیلنجوں کے حل تیار کر رہے ہیں۔
مودی نے کہا کہ اس اقدام نے تعلیم، صحت، زراعت، تجارت اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنایا ہے، جس سے حکمرانی زیادہ شفاف، مؤثر اور عوام کی دسترس میں آئی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل شعبے میں حکومت کی پیش رفت کے باعث ہندوستان مصنوعی ذہانت (اے آئی)، سیمی کنڈکٹر، کوانٹم کمپیوٹنگ اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
مودی نے کہا’’یہ پیش رفت ترقی اور مواقع کی نئی راہیں کھولے گی۔ ہماری توجہ ایسے مستقبل کی تعمیر پر مرکوز رہے گی جہاں ٹیکنالوجی انسانیت کی خدمت کرے، ہر شہری کو بااختیار بنائے اور پائیدار ترقی کو فروغ دے‘‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل انڈیا ایک ترقی یافتہ اور خود کفیل ہندوستان کی مضبوط بنیاد ہے اور گزشتہ گیارہ برسوں کے دوران اس نے غریب اور محروم طبقات کو بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی زندگی کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مودی نے کہا’’آپٹیکل فائبر نیٹ ورک کی توسیع سے لے کر ڈیجیٹل لین دین تک، اس مہم کی غیر معمولی کامیابی نے پوری دنیا کی توجہ ہندوستان کی جانب مبذول کرائی ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا’’جب ایک ارب سے زائد لوگ ٹیکنالوجی کو اپناتے ہیں تو اس کے اثرات انقلابی نوعیت کے ہوتے ہیں‘‘۔
حکام نے بتایا کہ۲۰۱۵ سے قبل عوامی خدمات کے حصول کا مطلب طویل قطاریں، کاغذی کارروائیاں اور محدود رابطہ تھا، تاہم ڈیجیٹل انڈیا نے انٹرنیٹ تک رسائی میں توسیع اور خدمات کو آن لائن فراہم کر کے ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے میں مدد دی۔
اس پروگرام نے کم لاگت انٹرنیٹ اور وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل رسائی کے ذریعے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو عام لوگوں تک پہنچانے کو بھی فروغ دیا۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران ڈیجیٹل انڈیا، ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کی بنیاد بن چکا ہے۔ اس وقت حقیقی وقت میں ہونے والی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے میدان میں ہندوستان عالمی سطح پر سرفہرست ہے، جبکہ یو پی آئی کے ذریعے دنیا بھر میں ہونے والے تقریباً۴۹ فیصد حقیقی وقت کے ڈیجیٹل لین دین انجام پاتے ہیں۔ (ایجنسیاں)










