دنیا اس وقت جس دوراہے پر کھڑی ہے‘وہاں مذہبی، نسلی، لسانی اور ثقافتی اختلافات اکثر کشیدگی، تصادم اور عدم برداشت کا سبب بن رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے ماننے والے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں، ایک دوسرے کے عقائد اور روایات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اختلاف کو دشمنی کے بجائے مکالمے کے ذریعے سلجھانے کا راستہ اختیار کریں تو یقیناً یہ معاشرے کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
سری نگر میں’بین المذاہب مکالمہ:اردو، کشمیریت اور مشترکہ تہذیبی روایات‘ کے عنوان سے منعقدہ سمینار بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کوشش ہے، جس نے نہ صرف کشمیر کی گنگا جمنی روایت کو اجاگر کیا بلکہ اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کرائی کہ تہذیبیں تصادم سے نہیں بلکہ مکالمے، برداشت اور باہمی احترام سے فروغ پاتی ہیں۔
ہندوستان کی پہچان اس کی کثرت میں وحدت ہے۔ مختلف مذاہب، زبانیں، ثقافتیں اور تہذیبی رنگ اس ملک کو دنیا کے دیگر ممالک سے ممتاز بناتے ہیں۔ اگر تاریخ کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سرزمین نے مختلف ادوار میں آنے والے مذاہب اور تہذیبوں کو اپنے اندر جگہ دی اور وقت کے ساتھ ایک ایسی مشترکہ تہذیبی شناخت تشکیل پائی جس میں ہر طبقے اور ہر مذہب کا حصہ شامل ہے۔ یہی تنوع ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت ہے، بشرطیکہ اسے سیاسی یا سماجی تقسیم کے بجائے قومی ہم آہنگی کا ذریعہ بنایا جائے۔
جموں و کشمیر اس تناظر میں ہمیشہ ایک منفرد مثال رہا ہے۔ یہاں صدیوں سے رشیوں اور صوفیوں کی تعلیمات نے محبت، رواداری، اخوت اور انسان دوستی کو فروغ دیا۔ کشمیریت کا تصور بھی اسی مشترکہ روحانی اور ثقافتی ورثے سے جنم لیتا ہے، جس میں مذہب سے زیادہ انسان کی عزت، اخلاقی اقدار اور سماجی ہم آہنگی کو اہمیت دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کی شناخت محض اس کے قدرتی حسن سے نہیں بلکہ اس کی فکری اور تہذیبی روایت سے بھی وابستہ رہی ہے۔
سری نگر میں منعقدہ سمینار میں مختلف مقررین نے اپنے اپنے زاویۂ نظر سے ہندوستانی تہذیب، اردو زبان اور بین المذاہب ہم آہنگی پر اظہار خیال کیا۔ اس موقع پر یہ بات خاص طور پر قابل توجہ رہی کہ اردو زبان کو مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ قرار دیا گیا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اردو کسی ایک مذہب یا طبقے کی زبان نہیں بلکہ برصغیر کی مشترکہ تہذیبی تاریخ کی نمائندہ زبان ہے۔ اس زبان نے صدیوں تک مختلف مذاہب اور علاقوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی شاعری، نثر اور صحافت میں انسانی قدروں، محبت، رواداری اور باہمی احترام کا پیغام نمایاں طور پر موجود ہے۔
بین المذاہب مکالمہ صرف مذاہب کے نمائندوں کے درمیان رسمی ملاقاتوں کا نام نہیں بلکہ ایک مسلسل سماجی عمل ہے، جس کا مقصد غلط فہمیوں کو دور کرنا، ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرنا اور مشترکہ انسانی اقدار کو فروغ دینا ہے۔ دنیا کے بیشتر تنازعات کی جڑ تعصب، لاعلمی اور ایک دوسرے کے بارے میں غلط تصورات ہیں۔ جب مختلف مذاہب کے لوگ براہ راست ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں تو بہت سی غلط فہمیاں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں اور اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے۔
آج سوشل میڈیا اور تیز رفتار ابلاغ کے دور میں نفرت انگیز مواد چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے، جبکہ محبت، برداشت اور مکالمے کا پیغام نسبتاً کم سنائی دیتا ہے۔ ایسے حالات میں علمی اداروں، جامعات، ادبی تنظیموں، مذہبی رہنماؤں اور ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ معاشرے میں اعتدال، رواداری اور ذمہ دارانہ گفتگو کی روایت کو مضبوط کریں۔ نوجوان نسل کو بھی یہی سکھانے کی ضرورت ہے کہ اختلاف رائے فطری ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ہندوستان کی آئینی روح تمام شہریوں کو مذہبی آزادی، مساوات اور باہمی احترام کا حق دیتی ہے۔ یہی اصول ایک مضبوط، مستحکم اور پرامن معاشرے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ جب مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرتے ہیں تو نہ صرف سماجی استحکام پیدا ہوتا ہے بلکہ قومی ترقی کی رفتار بھی تیز ہوتی ہے۔ اس لیے بین المذاہب مکالمہ کسی ایک مذہب یا طبقے کی ضرورت نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی ضرورت ہے۔
کشمیر جیسے حساس خطے میں اس نوعیت کے پروگراموں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے حالات نے یہاں کی سماجی فضا پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ ثقافتی، ادبی اور تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے باہمی اعتماد کو مضبوط کیا جائے۔ اگر مختلف طبقات کے درمیان مسلسل مکالمہ جاری رہے تو نہ صرف سماجی فاصلے کم ہوں گے بلکہ نوجوان نسل بھی شدت پسندی اور نفرت کے بجائے اعتدال اور انسان دوستی کی طرف مائل ہوگی۔
تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی صرف سیمیناروں اور کانفرنسوں تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے عملی مظاہر بھی سامنے آئیں۔ تعلیمی نصاب، میڈیا، ادبی سرگرمیوں، ثقافتی میلوں اور سماجی پروگراموں میں مشترکہ تہذیبی ورثے کو مناسب جگہ دی جائے۔ مذہبی رہنما بھی اپنے اپنے حلقوں میں برداشت، احترام اور امن کے پیغام کو فروغ دیں تاکہ معاشرے میں اعتماد کی فضا مضبوط ہو۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سری نگر میں منعقدہ یہ سمینار ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب اس کے پیغامات عملی زندگی میں بھی نظر آئیں۔ ہندوستان کی اصل طاقت اس کے تنوع، تکثیریت اور مشترکہ تہذیبی ورثے میں مضمر ہے۔ اگر اس تنوع کو اختلاف کا نہیں بلکہ اتحاد کا ذریعہ بنایا جائے، اگر اردو جیسی رابطے کی زبان کو مزید فروغ دیا جائے اور اگر مکالمے کی روایت کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے تو نہ صرف کشمیر بلکہ پورا ملک امن، ہم آہنگی اور ترقی کی نئی منزلیں طے کر سکتا ہے۔ اختلافات اپنی جگہ رہیں گے، لیکن ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہی ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود باہمی احترام، انصاف اور انسان دوستی کو اپنی اجتماعی زندگی کا بنیادی اصول بنائے۔



