جمعرات, جون 25, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

جی ایم سی اننت ناگ :

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-06-24
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

یہ شعبہ طب کی ساکھ کا سوال ہے

گورنمنٹ میڈیکل کالج(جی ایم سی) اننت ناگ میں تعینات ایک ماہر امراضِ قلب کے خلاف محکمہ صحت و طبی تعلیم کی جانب سے شروع کی گئی محکمانہ کارروائی نے جموں و کشمیر کے طبی نظام، سرکاری اسپتالوں اور صحت عامہ کی اسکیموں کے بارے میں کئی بنیادی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگرچہ تحقیقات ابھی جاری ہے اور کسی بھی فرد کو قانونی اور اخلاقی طور پر قصوروار قرار دینا قبل از وقت ہوگا، تاہم الزامات کی نوعیت اتنی سنگین ہے کہ انہیں محض ایک فرد یا ایک ادارے کا مسئلہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ

جنگی دھمکیوں سے حقیقت نہیں بدلی جا سکتی

کانگریس کی دھڑہ بندی:

یہ معاملہ صرف ایک ڈاکٹر کے خلاف الزامات تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق عوامی اعتماد، طبی اخلاقیات، سرکاری وسائل کے استعمال اور مریضوں کے حقوق سے بھی ہے۔ اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ سرکاری صحت اسکیموں کے تحت غلط دعوے کیے گئے، طبی ریکارڈ میں رد و بدل کیا گیا، غیر ضروری طریقہ علاج اپنایا گیا یا مریضوں سے ناجائز مالی وصولی کی گئی، تو یہ نہ صرف ایک فرد کی ناکامی ہوگی بلکہ پورے نظام کی نگرانی اور احتسابی ڈھانچے پر بھی سوالیہ نشان ہوگا۔

طب ہمیشہ سے ایک مقدس پیشہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ معاشرے میں شاید ہی کوئی اور شعبہ ہو جہاں لوگ اپنی جان، صحت اور مستقبل کو اتنے مکمل اعتماد کے ساتھ کسی دوسرے شخص کے سپرد کرتے ہوں۔ مریض جب ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے تو وہ اپنی بیماری کے ساتھ ساتھ اپنی امید بھی اس کے حوالے کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طبی پیشے میں اخلاقیات اور دیانت داری کی اہمیت کسی بھی دوسرے شعبے سے کہیں زیادہ ہے۔ ایک ڈاکٹر کی غلطی صرف مالی نقصان کا باعث نہیں بنتی بلکہ بعض اوقات کسی انسان کی زندگی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک بھر میں صحت کے شعبے میں نجی اور سرکاری سطح پر نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ جدید مشینری، نئی ادویات، پیچیدہ جراحی طریقے اور سرکاری بیمہ اسکیموں نے لاکھوں لوگوں کے لیے علاج کو آسان بنایا ہے۔ جموں و کشمیر میں بھی پی ایم جے اے وائی۔سیہت اسکیم نے ہزاروں غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کو مہنگے علاج تک رسائی فراہم کی ہے۔ لیکن کسی بھی فلاحی اسکیم کی کامیابی کا انحصار صرف اس کے بجٹ یا ڈھانچے پر نہیں بلکہ اس کے نفاذ میں شامل افراد کی دیانت داری پر ہوتا ہے۔

اگر کسی صحت اسکیم کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کے اثرات صرف مالی نقصان تک محدود نہیں رہتے۔ اس سے ان لاکھوں مستحق مریضوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں جو واقعی اس سہولت کے محتاج ہوتے ہیں۔ سرکاری خزانے سے ادا ہونے والا ہر روپیہ عوام کا پیسہ ہے اور اس کا غلط استعمال درحقیقت عوام کے اعتماد سے خیانت کے مترادف ہے۔

تحقیقات میں مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض مریضوں میں ایسے طریقہ علاج اختیار کیے گئے جن کے لیے واضح طبی جواز موجود نہیں تھا۔ اگر یہ الزام درست ثابت ہوتا ہے تو اس کے مضمرات نہایت سنگین ہیں۔ طبی مداخلت کا ہر فیصلہ مریض کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھ کر ہونا چاہیے، نہ کہ کسی مالی، انتظامی یا ذاتی فائدے کی بنیاد پر۔

اس تنازع نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ صحت کے شعبے میں نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ریکارڈنگ، آڈٹ میکانزم اور شفاف خریداری کے نظام کو صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان کی مؤثر نگرانی بھی ہونی چاہیے۔ جب تک احتساب کا نظام فعال اور غیر جانبدار نہیں ہوگا، بدعنوانی یا بے ضابطگیوں کے امکانات ختم نہیں ہو سکتے۔

تاہم اس سارے معاملے میں ایک اور پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ کسی ایک یا چند افراد کے خلاف الزامات کی بنیاد پر پوری طبی برادری کو موردِ الزام ٹھہرانا ناانصافی ہوگی۔ جموں و کشمیر سمیت پورے ملک میں ہزاروں ڈاکٹر دن رات انتہائی مشکل حالات میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں محدود وسائل کے باوجود وہ مریضوں کی جان بچانے کے لیے مسلسل کوشاں رہتے ہیں۔ ان کی دیانت داری، محنت اور قربانیوں کو کسی ایک تنازع کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔

اسی لیے ضروری ہے کہ تحقیقات کا عمل مکمل طور پر غیر جانبدار، شفاف اور شواہد کی بنیاد پر انجام دیا جائے۔ اگر الزامات بے بنیاد ثابت ہوتے ہیں تو متعلقہ ڈاکٹر کی ساکھ بحال کی جانی چاہیے، اور اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ نہ کسی کو قبل از وقت مجرم قرار دیا جائے اور نہ کسی کو احتساب سے بالاتر سمجھا جائے۔

اس واقعے سے ایک اور سبق مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے بھی نکلتا ہے۔ جب بھی کوئی بڑا طبی فیصلہ، پیچیدہ سرجری یا مہنگا علاج تجویز کیا جائے تو دوسری طبی رائے حاصل کرنا ایک صحت مند اور دانشمندانہ عمل ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی مریض اہم طبی فیصلوں سے قبل دوسری یا تیسری رائے حاصل کرتے ہیں۔ یہ ڈاکٹر پر عدم اعتماد نہیں بلکہ بہتر فیصلہ سازی کا حصہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ صحت کا نظام اعتماد پر قائم ہوتا ہے۔ جب مریض ڈاکٹر پر اعتماد کھو دیتا ہے تو صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔ اعتماد حاصل کرنے میں برسوں لگتے ہیں لیکن اسے کھونے میں صرف ایک لمحہ کافی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طبی اداروں، ڈاکٹروں، انتظامیہ اور حکومت سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس اعتماد کو ہر قیمت پر برقرار رکھیں۔

گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ کا یہ معاملہ محض ایک محکمانہ کارروائی نہیں بلکہ صحت کے نظام کے لیے ایک امتحان ہے۔ عوام یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا ادارے خود احتسابی کی صلاحیت رکھتے ہیں، کیا غلطیوں کی نشاندہی ہونے پر کارروائی ہوتی ہے اور کیا مریضوں کے حقوق واقعی مقدم سمجھے جاتے ہیں۔

اگر اس معاملے کی شفاف اور منصفانہ تحقیقات ہوتی ہیں اور اس کے نتائج بلا خوف و مصلحت عوام کے سامنے لائے جاتے ہیں تو یہ نہ صرف ایک تنازع کا حل ہوگا بلکہ صحت کے نظام پر عوامی اعتماد کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر معاملہ محض رسمی کارروائی بن کر رہ گیا تو اس کے اثرات ایک فرد یا ایک اسپتال تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے نظام کی ساکھ کو متاثر کریں گے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ صحت کے شعبے میں احتساب اور شفافیت کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت سمجھا جائے، کیونکہ ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد طبی نظام کی بنیاد صرف جدید عمارتوں اور مشینوں پر نہیں بلکہ دیانت داری، جوابدہی اور عوامی اعتماد پر استوار ہوتی ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

زوال اور عروج

Next Post

فیفا ورلڈکپ: لیونل میسی نے ایک ہی میچ میں متعدد نئے ریکارڈز قائم کردیے

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جنگی دھمکیوں سے حقیقت نہیں بدلی جا سکتی

2026-06-25
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

کانگریس کی دھڑہ بندی:

2026-06-23
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پلاسٹک آلودگی کے خلاف سنجیدہ اقدام کی ضرورت

2026-06-21
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

صحافت یا تشہیر؟

2026-06-20
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

کھانسی کے سرپ پر نسخے کی شرط:

2026-06-18
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پانی، دہشت گردی اور قومی سلامتی

2026-06-14
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

سیاحت اورسرینگر ہوائی اڈے کی مجوزہ بندش

2026-06-13
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِقبضہ کشمیر میں بڑھتا بحران:

2026-06-11
Next Post
فیفا ورلڈکپ، برازیل نے نئی تاریخ رقم کردی

فیفا ورلڈکپ: لیونل میسی نے ایک ہی میچ میں متعدد نئے ریکارڈز قائم کردیے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.